0

ابھی تو ٹھہرے ہیں بانجھ موسم! … مجیب اللہ خان نیازی

Mujeeb Niazi

ابھی تو ٹھہرے ہیں بانجھ موسم!

ریڈر کالج میانوالی کی حالیہ تقریب معمول کی ایک تقریب تھی۔ ہم بلا مبالغہ ایسی کئی درجن تقاریب میں شرکت اور اُن میں سے کئی میں گفت گو بھی کر چکے ہیں۔ اپنے معیاری انعقاد میں بھی کئی تقاریب اِس تقریب سے کئی گنا زیادہ منظم اور پر کشش تھیں۔ اس تقریب میں تو بہت سی جگہوں پر انتظامی جھول (Flaws) بھی دیکھنے کو ملے۔ اس تقریب کی مگر دو باتیں ہمارے لیے نا صرف اہم تھیں بلکہ دورانِ تقریب ہماری کچھ یادوں کو سلگانے میں عمل انگیز (Catalyst) کا کام بھی کرتی رہیں۔

پہلی اہم بات یہ تھی کہ ڈاکٹر محمد حنیف خان نیازی کا اپنے پروگرام میں منورعلی ملک صاحب کو مہمانِ خصوصی بنانا ہوا کے رخ کا پتا دے رہا تھا‘ یہ ایک انتہائی اہم واقعہ تھا بلکہ ہمارے خیال میں تو حنیف نیازی کی طرف سے معاشرے کی بہت سی خامیوں کے خلاف اعلانِ بغاوت تھا۔ اب آتے ہیں یادوں کو سلگانے کے سامان کی طرف۔ وہ جس طرح پروین شاکر نے کہا تھا:

میں تیرا نام لے کے تذبذب میں پڑ گئی
سب اپنے اپنے عزیزوں کو رو لیے

ہماری حالت بھی یہی تھی۔ تقریر حنیف نیازی کر رہے تھے اور ہم یادیں سلگا کر ’اپنے عزیزوں کو رو‘ رہے تھے۔

ڈاکٹر صاحب کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے بیگم سے زیور سنبھالتے وقت اُسے کہا کہ لوگ غلط کاموں کی وجہ سے پورے کے پورے خاندانوں کو ڈبو دیتے اور اگر ہم اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کے ’جرم‘ میں ڈوب جائیں گے تو کیا‘ اس طرح ضلع میں ایک مثال تو قائم ہو جائے گی کہ کوئی اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کو تعلیم دینے اور جہالت اور نفرت کی جگہ علم و شعور اور محبت کو عام کرنے میں بھی برباد ہو چکا۔ ہمیں اُسی لمحے یہ اطمینان اور فخر محسوس ہو رہا تھا کہ اِس ’جرم‘ میں ہم تو کب کی مثال قائم کر چکے۔ اور ایسی مثال قائم کی کہ جس میں سلگتی جوانی کے بائیس سال، تین معتبر سرکاری نوکریاں، پُر کشش اور پُر سکون کیریئر، بیوی کا تمام زیور، گاڑی، قیمتی آبائی زمین اور سب سے بڑھ کر’ اِس عاشقی میں عزتِ سادات بھی گئی‘؛ سب کچھ گنوا چکے۔

ڈاکٹر حنیف نیازی کہہ رہے تھے کہ انھوں نے الکاسب حبیب اللہ کی روشنی میں ہر مزدور اور غریب کے بچوں کے لیے فیس معافی یا نرمی کا اعلان کیا ہے۔ عین اُسی لمحے ہم یہ سوچ کر سرشار ہو رہے تھے کہ ہمیں یہ اعزاز حاصل ہے کہ ہم نے 23 مارچ 2011ء کو موچھ میں 500 افراد کے مجمع میں اپنے پورے ماضی کے لیے یہ اعلان کر کے پوچھا تھا کہ کوئی ہے جو اِس مجمع میں کھڑا ہو کر یہ کہہ دے کہ میں نے آپ کو کہا بھی تھا کہ میں غریب ہوں لیکن اس کے باوجود آپ نے ہم سے فیس وصول کی تھی۔ اور پھر اُس اعلان کے بعد پورے مجمع میں سناٹا چھا گیا تھا۔ اس سے بڑھ کر ہم نے یہ بھی کر رکھا تھا کہ اگر ہمارے اداروں میں زیرِ تعلیم بچوں میں سے کسی نادار بچے کا والد، والدہ، دادا، دادی، بہن یا بھائی کسی سنگین بیماری کا شکار ہو گیا تو ہم اُس کو علاج کے لیے نقد رقم بھی فراہم کریں گے۔ اور ہم نے ایسا ہی کیا۔ اور جب ہم ایسا کرتے تو کبھی کیمرہ مین ساتھ نہ رکھتے اور نہ ہی ایک سے دوسرے فرد کو اِس کی خبر ہونے دیتے تاکہ امداد پانے والے فرد کی عزت نفس مجروح نہ ہو۔

ڈاکٹر محمد حنیف خان نیازی

ڈاکٹر حنیف نیازی کہہ رہے تھے کہ ایف ایس سی تک تو ہمارے بیٹے بیٹیاں جیسے تیسے تعلیم حاصل کر لیتے ہیں لیکن اُس سے آگے پیشہ ورانہ تعلیم کے لیے اُن کے پاس وسائل نہیں ہوتے۔ اس لیے ہم نے بچوں کی پیشہ ورانہ اور اعلیٰ تعلیم کے لیے لاکھوں روپے مختص کر رکھے ہیں۔ وہیں پر ہمارا سینہ چوڑا ہوا کہ 2002ء میں جب ہماری تنخواہ تین ہزار روپے تھی تب سے ہم نے خود کو موچھ کے بچوں کی اعلیٰ و پیشہ ورانہ تعلیم کے لیے حاضر کر رکھا۔ اور اس عمل میں ہمارے پیشِ نظر محض اپنے ادارے کے طلبا نہ ہوتے بلکہ یہ دستیابی موچھ اور گرد و نواح کے ہر ادارے کے بچے کے لیے ہوتی۔ اور تو اور اِس سہولت سے تحصیل عیسیٰ خیل تک کے بچے بھی فائدہ اُٹھا چکے۔

ڈاکٹر حنیف نیازی کہہ رہے تھے کہ انھوں نے اساتذہ کے بچوں کے لیے فیس میں معافی یا کمی کا اعلان کر رکھا تو ہماری خوشی کی انتہا نہ رہی کہ ہم نے پہلے دن سے اپنے اداروں میں پڑھانے والے اساتذہ کی نا صرف اولاد بلکہ اُن کے بہن بھائیوں کی بھی مکمل ٹیوشن فیس ختم کی ہوئی تھی۔ اور اِسی پر ہی اکتفا نہ کر رکھا تھا بلکہ اساتذہ کو مزید عزت دینے کے لیے اُن کی کارکردگی کی بنیاد پر اُن کی تنخواہ میں معمول کے سالانہ اضافے کے علاوہ سال میں کئی بار تنخواہ میں مزید اضافے بھی کرتے اور اُنھیں نقد انعامات بھی دیتے۔ اِس کے ساتھ ساتھ اچھی کارکردگی کی بنیاد پر طلبا کو نا صرف روایتی اور معمول کے انعامات دیتے بلکہ اُنھیں نقد انعامات بھی دیتے۔ مزید یہ کہ اول دوم سوم آنے والے طلبا کے علاوہ مختلف مضامین میں اچھی کارکردگی کی بنیاد پر بھی طلبا کو نقد انعامات دیتے کہ اِس طرح ایک ہی جماعت میں انعام اور حوصلہ افزائی پانے والے طلبا و طالبات کی تعداد میں اضافہ ہو جاتا۔ اُنھیں اپنی جیب سے کھیلوں اور ادبی سرگرمیوں کے نا صرف اپنے اداروں میں مواقع دیتے بلکہ انھیں بین السکول مقابلہ جات میں پرائیویٹ گاڑیوں میں سفر کروا کر شریک کراتے۔ اور یہ اسفار محض اپنے ضلع تک ہی محدود نہ ہوتے بلکہ طلبا سرگودھا تک سفر کرتے اور اِن تمام اسفار میں کھانے پینے کے اخراجات بھی بچوں سے نہ لیتے تھے۔ بعض سرگرمیوں کے دوران تو ہم اپنے ڈیرے کو ہاسٹل قرار دے دیتے اور ایسا ہاسٹل کہ جہاں بچے کی رہنمائی کے لیے مختلف مضامین کے بیک وقت چار چار انتہائی قابل اساتذہ بھی دستیاب رہتے اور اُن تمام اساتذہ اور طلبا کے لیے معیاری اور بر وقت طعام کی تمام تر ذمہ داری ہماری جیب سے ہماری بیگم بخوشی ادا کرتیں۔ معمولی سے معمولی ڈیرے دار شخص بخوبی جانتا کہ یہ کہنا جتنا آسان ہے کر کے دکھانا اُتنا ہی مشکل ہے۔

ڈاکٹر حنیف نیازی اور ان کے پرنسپل جناب جہانزیب رحمان صاحب کہہ رہے تھے کہ جن بچوں کے سروں سے اللہ تعالیٰ نے والد کا سایہ اُٹھا لیا ہو ہم اُن بچوں کو مفت پڑھاتے۔ ہم بھی جھومنے لگے کہ اپنے اداروں میں پہلے دن پہلا حکم ہم نے یہی نافذ کیا تھا کہ ہمارے کسی ادارے میں کسی یتیم بچے سے کوئی ٹیوشن فیس نہیں لی جائے گی۔

ڈاکٹر حنیف نیازی اپنے خطاب میں اس بات کا رونا رو رہے تھے کہ کتنی ستم ظریفی ہے کہ برے کام کرنے والے، فضولیات میں پیسے اجاڑنے والے تو معاشرے کے رول ماڈل قرار پاتے ہیں جبکہ اچھا کام کرنے والوں کی کوئی تقلید کرتا ہے اور نہ ہی اُن کی حوصلہ افزائی کرتا۔ لوگ نیکی کے کاموں میں کیوں ایک دوسرے سے سبقت لینے کی کوشش نہیں کرتے۔ ہم بھی دل ہی دل میں اور ہر محفل میں یہی رونا روتے ہیں۔۔۔

گویا اس تقریب میں ہم مسلسل پروین شاکر کے بقول ڈاکٹر حنیف نیازی کے ’میں تیرا نام لے کے تذبذب میں پڑ گئی‘ کے جواب میں ’سب اپنے اپنے عزیزوں کو رولیے‘ کی کیفیت سے دوچار رہے۔

ڈاکٹر حنیف جب بھی تقریر کرتے ہیں تو اُن کے الفاظ تیر بن کر سامعین کے سینے میں پیوست ہوتے رہتے ہیں۔ اُن کی کوئی بات الفاظ کی محتاج نہیں ہوتی۔ اُن کا وفورِ جذبات اتنا شدید ہوتا کہ اُس کی شدت کی بنا پر الفاظ ہاتھ باندھے تعظیماً اُن کی گفت گو میں نازل ہوتے رہتے ہیں۔ اُس دن بھی یہی ہوتا رہا اور اُن لمحات میں ہمارے دل سے یہ دعائیں نکل رہی تھیں:

یا اللہ! ہماری طرح اِسے گمنام راہوں میں موت نہ دینا‘ اِس قدر گمنام راہوں پر کہ جہاں آپ کی ’زندہ لاش‘ کے سامنے کھڑے ہو کر تقریر کرنے والا آپ کا انتہائی پیارا دوست اور بھائی بھی آپ کے اُس راستے میں مارے جانے کو بطورِ مثال پیش کرنے کے لیے بھی تیار نہ ہو اور وہ کسی نئی مثال کے قائم ہونے کا متلاشی یا خواہاں ہو۔ شاید غالب نے کسی ایسے ہی کرب پر کہا تھا:

نکلنا خُلد سے آدم کا سنتے آئے ہیں لیکن
بہت بے آبرو ہو کر تیرے کوچے سے ہم نکلے

ڈاکٹر صاحب کی ساری گُفت گو کے دوران ہم دعا کر تے رہے کہ اے اللہ! اگرچہ تو بے نیاز ہے اور جب بے نیازی پر اُتر آتا ہے تو کسی کی پروا نہیں کرتا مگر اے رب! میرے اِس بھائی کو تھکنے اور گرنے نہ دینا۔ اگر اِسی طرح تیرے خالص بندے تھک ہار کر گرتے رہے تو کسی نئے بندے کا کارِ خیر کے لیے اُٹھنا مزید مشکل ہو جائے گا۔ اے اللہ! ایسا نہ کرنا کہ میرا یہ بھائی اِس خوف کے مارے اپنی تصویر یا ویڈیو بھی فیس بک پر نہ لگائے کہ تصویر یا ویڈیو لگنے پر لوگ مالی کمزوری اور مقروض ہونے پر پھبتیاں کسنا شروع کر دیں گے۔ میرے اللہ! اِس خوبصورت اور حساس انسان کو محض چند ہزار ادھار کی واپسی کا بھرے مجمع میں تقاضا کیے جانے کی شرمندگی سے بچانا۔ میرے مالک! قربانی کے اِس پیکر کو اپنے فون کی گھنٹی کا گولی کی آواز محسوس ہونے جیسی اذیت سے بچائے رکھنا۔ میرے اللہ! جنازوں اور شادیوں میں شرکت پر اِسے اپنی عزت بچا کر نکلنے میں کامیاب ہونے کی فکر سے محفوظ رکھنا۔ اے ربِ کائنات! اِسے اپنے گھر کے دروازے پرکسی کم ظرف قرض خواہ کی دستک سے بچانا۔ اے رزاق! اِسے کسی بے حِس انسان کے سوشل میڈیا پر اِس سے چند ہزار روپے اُدھار کی واپسی کے مطالبے سے بچانا۔ اے پروردگار! ہمارے اِس محترم، پیکرِ قربانی اور پر خلوص بھائی کو بے بسی کے عذاب سے بچانا۔ اے مالکِ کائنات! اِسے کسی دوست کا اِس پر ترس کھا کر اِس کے گھر آ کر یہ کہتے ہوئے کہ یہ ہمارے بھتیجے کی پیدائش کا ’چولا‘ ہے؛ بیس ہزار روپے امداد دیئے جانے کی شرمندگی سے بچانا۔ اے ربِ دو جہاں! اِسے کسی دوست کے رمضان المبارک میں ترس کھا کر اِس کی جیب میں سات آٹھ ہزار روپے ڈالنے پر لاحق اِحساسِ شرمندگی سے بچانا۔ اور درجنوں ایسی کیفیات و حالات سے پناہ کی دعائیں کیں کہ جن کا یہاں ذِکر کرنا بھی ممکن نہیں کہ قارئین انھیں مبالغہ بلکہ جھوٹ قرار دیں گے۔ اور ایک دعا تو بار بار زبان پر آ رہی تھی کہ یا اللہ! ہمارے اس بھائی کا مستقبل ہمارے حال جیسا نہ کرنا۔

پیارے بھائی حنیف نیازی! شاید تمہیں نہیں معلوم کہ پندرہ سال قبل ہماری طرح ایک دُخترِ میانوالی نے بھی ایسا ہی خواب دیکھا تھا۔ اُس نے کہا تھا:

”۔۔۔میں خار اگلتی زمین کو گلاب اگلتے دیکھنا چاہتی ہوں۔

میں منافرت کو محبت اور جہالت کو علمیت میں بدلتے دیکھنا چاہتی ہوں۔

جب میری بستی پر شعور و آگہی کے لازوال موسم اُتریں گے تو سوچوں میں انقلاب آئے گا اور سوچ بدلنے کی دیر ہے:

میری آنکھوں میں سویا ہے جو منظر جاگ اٹھے گا
ہوائے شام آہستہ سمندر جاگ اٹھے گا

صبا جب سوچ سے پردے اٹھیں گے قفل ٹوٹیں گے
مری بستی کے لوگوں کا مقدر جاگ اٹھے گا“

ہم نے لیکن نا صرف اُس خواب کو بلکہ اپنی جاگتی آنکھوں میں اُس سے کہیں بڑھ کر بُنے خوابوں کو بہت بے توقیر ہوتے دیکھا ہے کیونکہ:

ابھی تو ٹھہرے ہیں بانجھ موسم!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں