0

مقدمہ مقالہ مشفق خواجہ. قسط دوم… مجیب اللہ خان نیازی

مشفق خواجہ

اردو کے تقریباً تمام لکھاری بلا کے سگریٹ نوش ہوتے ہیں۔ اس معاملے میں مشفق خواجہ بھی اپنے دیگر ادیبوں سے بغاوت کا راستہ اختیار نہ کر سکے۔ اورسگریٹ کے زہر کو اپنی رگوں میں اتارتے رہے۔ اس طرح رفتہ رفتہ اس خاموش قاتل نے اردو ادب کے اس درخشندہ ستارے کو مانند کر دیا۔ 19/فروری 2005ء کو آپ کو خون کی قے آئی جو دو دن بعد آپ کی زندگی کے خاتمے کا سبب بنی۔ مشفق خواجہ 21فروری 2005ء کو رات 11بجے اپنے ہزاروں چاہنے والوں اور لاکھوں قارئین کو روتا چھوڑ کر اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے(20)۔ آپ کی تدفین 22/فروری 2005ء کو کراچی میں ہی ہوئی(21)۔

مشفق خواجہ عمر بھرتدوینی و تحقیقی کاموں میں مصروف رہے۔جن کی تفصیل درج ذیل ہے:

“خوش معرکہ زیبا” ایک تذکرہ ہے جس کی مشفق خوجہ نے تدوین کی تھی اس کی دیگر تفصیلات درج ذیل ہیں:

”سب سے پہلے انھوں نے تذکرہ “خوش معرکہ زیبا” کی تدوین کی جس کے مؤلف سعادت خان باقر تھے۔دو جلدوں پر مشتمل یہ تذکرہ 1848ء میں لکھا گیا۔مشفق خواجہ نے چار نسخوں کو سامنے رکھ کر ایک تنقیدی ایڈیشن تیار کیا۔ اس کی پہلی جلد 1970ء اور دوسری 1972ء میں مجلس ترقی اردو لاہور سے شائع ہوئی۔دونوں جلدوں کے کل صفحات 1241ہیں۔” (22)

”پرانے شاعر نیا کلام”   ایک سلسلۂ مضامین تھا جس کی تفصیل کچھ یوں ہے:

”مشفق خواجہ نے 1975۔76ء میں ان پرانے شعرا پر تحقیقی مضامین لکھے جن پر پہلے کبھی نہیں لکھا گیا تھا۔ان شعرا میں جسونت سنگھ پروانہ،ثنااللہ فراق،حافظ فضل علی ممتاز اور خواجہ احسن الدین خان بیان شامل ہیں۔ڈاکٹر معین الدین عقیل کاخیال ہے کہ یہ مقالات دراصل تذکرہ “خوش معرکہ زیبا” کے تعلیقات ہیں۔مشفق خواجہ مذکورہ تذکرہ تین جلدوں میں مدون کرنا چاہتے تھے تاہم بوجوہ ایسا نہ کر سکے انھوں نے تعلیقات لکھے وہ سہ ماہی “غالب” میں چھپوا دیے۔”   (23)

“اقبال از احمد دین” علامہ اقبال پر لکھی جانے والی سب سے پہلی کتاب جس کی تفصیلات ذیل میں دی جا رہی ہے:

“یہ علامہ اقبال پر اردو میں لکھی جانے والی پہلی کتاب ہے۔ اس کتاب کے مصنف مشفق خواجہ کے رشتے کے چچا احمد دین تھے۔ انھوں نے یہ کتاب 1923ء میں لکھی تاہم علامہ اقبال نے بوجوہ اس کتاب کو پسند نہیں کیا اور احمد دین نے اس کتاب کے سارے نسخے جلا دیئے۔ کسی طرح اس کتاب کے دو نسخے بچ گئے اور ان میں سے ایک مشفق خواجہ کو دستیاب ہو گیا۔ 1926ء میں احمد دین نے یہ کتاب دوبارہ شائع کروائی۔ مشفق خواجہ نے دونوں اشاعتوں کی بنیاد پر متن کی تدوین کی اور اسے مفید حواشی اور تعلیقات کے ساتھ انجمن ترقی اردو کراچی پاکستان سے 1979ء میں شائع کیا۔”   (24)

”جائزہ مخطوطات اردو” پاکستان میں موجود اردو مخطوطات کی معلومات کو یکجا کرنے کی ضرورت کو محسوس کیا اور یہ مشکل کام بھی کر دکھایا جس کے جوازکی تفصیل اپنے ایک انٹرویو میں یوں بیان کرتے ہیں:

”مشفق خواجہ نے اس بات کی منصوبہ بندی کی کہ پاکستان میں موجود تمام مخطوطات کی ایک جامع فہرست تیار کی جائے تاکہ مخطوطے سے متعلق اہم معلومات اور تفصیلات کو یکجا کیا جا سکے۔مشفق خواجہ اس کام کو مکمل نہ کر سکے اور دس جلدوں کی بجائے صرف ایک جلد ہی منظرِ عام پر آئی ہے جسے مرکزی اردو بورڈ لاہور نے 1979ء میں شائع کیا۔اس جلد میں 200 مخطوطات کے بارے میں تفصیلات ملتی ہیں۔ان کی اس کاوش کو اہل علم نے بڑے پیمانے پر سراہا۔ اگر 10 جلدوں کا یہ منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچ جاتا تو بلا شبہ یہ اردو کی بہت بڑی خدمت ہوتی۔”  (25)

غالب اور ان کے شاگرد صفیر بلگرامی کی خط و کتابت کو ”غالب اور صفیر بلگرامی” کے نام سے چھاپا،جس کی تفصیلات مندرجہ ذیل ہیں:

”صفیر بلگرامی غالب کے شاگردتھے۔مشفق خواجہ نے صفیر بلگرامی کے پوتے سید نور احمد بلگرامی کے صاحب زادے سید وصی احمد بلگرامی سے وہ کاغذات،مسودات اور خطوط حاصل کیے جو انھیں وراثت میں ملے تھے اور ان کی مدد سے دونوں بزرگوں کے تعلقات کی اصل نوعیت بیان کی۔ اس کتاب کا دیباچہ مالک رام نے تحریر کیا۔یہ کتاب 1981ء میں کراچی اور 1985ء میں دہلی سے شائع ہوئی۔”     (26)

مشفق خواجہ چونکہ تحقیق کے آدمی تھے اس لیے وہ خود کو کسی نہ کسی تحقیقی کام میں ضرور مصروف رکھتے تھے۔”تحقیق نامہ” ان کے تحقیقی مقالات کا مجموعہ ہے جس کی کچھ تفصیلات یہ ہیں:

”1991ء  میں مغربی پاکستان اردو اکیڈمی لاہور اور دہلی سے بیک وقت شائع ہونے والی یہ کتاب مشفق خواجہ کے چھے تحقیقی مقالات کا مجموعہ ہے دو مقالات تو وہ ہیں جو ”خوش معرکہ زیبا”اور”اقبال از احمد دین”  میں بطور مقدمہ شامل ہیں۔ میرزامحمد رضا قزلباش، خان امیدؔ،شاہ قدرت اللہ قدرتؔ، مرزا جعفر علی حسرتؔ،پر ایک ایک مضمون ہے جب کہ ایک مضمون ”گلشنِ مشتاق” پر ہے۔ ”گلشن مشتاق”ایک تذکرہ ہے اور مشفق خواجہ کا دعویٰ ہے کہ اس کا صرف ایک ہی نسخہ موجود ہے جس کو معیار بنا کر یہ مقالہ تحریر کیا گیا۔”  (27)

مشفق خواجہ نے یگانہ کے کلام کی تدوین کی جس کے بارے میں طارق کلیم لکھتے ہیں:

”کلیات یگانہ کی تدوین مشفق خواجہ کاآخری تدوینی کارنامہ ہے۔انھوں نے اس کام پر لگ بھگ تیس برس صرف کیے۔کلیات یگانہ جنوری 2003ء میں اکادمی بازیافت سے شائع ہوئی۔”  (28)

مشفق خواجہ کے شعری مجموعے کا نام”ابیات” ہے جس کی تفصیل ذیل میں موجود ہے:

”مشفق خواجہ کی شعری کائنات کچھ زیادہ نہیں۔ایک مجموعہ کلام ہے”ابیات” جو 1978ء میں منظرِعام پر آیا۔ اس کی دوسری اشاعت 2009ء میں ہوئی۔ اس میں کل 98غزلیں، 6متفرق اشعار اور پانچ مختصر نظمیں شامل ہیں۔”      (29)

”تخلیقی ادب” کے نام سے مشفق خواجہ نے انتہائی معیاری مجلہ جاری کیا تھا۔ اس مجلہ میں اصنافِ ادب   کے لیے الگ سے گوشے مقرر کیے جاتے تھے۔جس کی مختصرتفصیل ہمیں طارق کلیم بتاتے ہیں:

”70کی دہائی کے آغاز میں مشفق خواجہ نے”تخلیقی ادب” کے نام سے ایک مجلہ بھی جاری کیا۔اس کے کل پانچ شمارے شائع ہوئے۔” (30)

اس کے علاوہ مشفق خواجہ نے کی ماہنامہ ”قاموس الکتب”، ماہنامہ ”قومی زبان” اور سہ ماہی ”اردو” کی ادارت کے فرائض بھی سر انجام دیے(31) اور ریڈیو کے لیے550 کے لگ بھگ فیچر لکھے اور کم و بیش دو ہزار اخباری کالم بھی لکھے(32)۔ آپ کے خطوط کے چھ مجموعے اس وقت تک چھپ چکے ہیں (33)۔

مشفق خواجہ پر مختلف جامعات نے تحقیقی مقالے بھی لکھوائے ہیں جن میں جامعہ کرا چی اورجامعہ سرگودھا کے علاوہ دیگر یونیورسٹیوں کے دو مقالات بھی شامل ہیں۔اس کے علاوہ مشفق خواجہ کے کام پر سینکڑوں مضامین اورشخصیت پرخاکے بھی مختلف رسائل و جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔ حال ہی میں مشفق خواجہ پر لکھے جانے والے مضامین کا ایک مجموعہ انجمن ترقی اردو نے ”مشفق خواجہ۔ ادارہ، فرد، نابغہ” کے نام سے شائع کیا ہے۔ اس سے قبل بھی ان پر لکھے جانے والے مضامین کتابی شکل میں آ چکے ہیں۔ مختلف رسائل نے مشفق خواجہ نمبر بھی شائع کیے ہیں۔

حوالہ جات مقدمہ

20۔         مبین مرزا: ”مہر باں سائے مٹتے جاتے ہیں“ روزنامہ ”جنگ“ مڈویک میگزین،  9 مارچ،  2005ء

21۔         طارق کلیم: مشفق خواجہ کی ادبی کالم نگاری، مقالہ ایم فل اردو،جامعہ سرگودھا، ص: 36

22۔         ایضاً، ص: 40

23۔         ڈاکٹر معین الدین عقیل: ”مشفق خواجہ تحقیق و تخلیق کے انقلابی موڑ پر“ مجلہ ”بنیاد“ 2011ء ‘ص: 60

24۔         طارق کلیم: مشفق خواجہ کی ادبی کالم نگاری، مقالہ ایم فل اردو،جامعہ سرگودھا، ص: 41

25۔         ایضاً، ص: 43

26۔         ایضاً، ص: 43

27۔         مشفق خواجہ: ”تحقیق نامہ“ لاہور‘مغربی پاکستان اردو اکیڈمی‘ طبع اول‘ 1991ء،  ص: 146

28۔         طارق کلیم: مشفق خواجہ کی ادبی کالم نگاری، مقالہ ایم فل اردو،جامعہ سرگودھا، ص: 44

29۔         ایضاً، ص: 46

30۔         ایضاً، ص: 38

31۔         مشفق خواجہ____ادارہ، فرد، نابغہ:انجمن ترقی اردو پاکستان 2016ء  (کوائف نامہ)

32۔         طارق کلیم: مشفق خواجہ کی ادبی کالم نگاری، مقالہ ایم فل اردو،جامعہ سرگودھا، ص: 18

33۔         ایضاً، ص: 18

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں