0

مقدمہ مقالہ مشفق خواجہ.قسط نہم…مجیب اللہ خان نیازی

مشفق خواجہ

راقم کے مقالے کا سب سے پہلا مرحلہ زیرِ موضوع کالموں کے اساسی متن کا حصول تھا جو جناب طارق کلیم کی مدد، رہنمائی اور ادارہ معارفِ اسلامی منصورہ لاہور کے تعاون سے کافی آسانی سے طے ہوگیا۔ تاہم اُن کالموں کے عکس لیتے وقت جولائی 2014ء کے رمضان المبارک کے روزوں، شدید گرمی، جان لیوا لوڈ شیڈنگ اور معارفِ اسلامی کی لائبریری کی بالائی منزل میں تپش اور حدت کی وجہ سے اخبارات کی فائلوں اور کیمرے میں قید ہونے والی تصویروں میں راقم کے پسینے کے کئی موتی بھی بکھرے اور بعض اوقات تو اس پسینے اور گرمی کی وجہ سے ایک تصویر بنانے میں 20۔20منٹ لگ جاتے۔

ان کالموں کی نشاندہی اگر چہ طارق کلیم کے مقالے“مشفق خواجہ کی ادبی کالم نگاری” میں ہو چکی تھی اور اس سے راقم کوبہت آسانی بھی ہوئی، تاہم تپتے صحرا میں جب خود اس “دشت ”کی سیّاحی کی تو آٹھ مزید کالم ایسے دریافت ہوئے جو طارق کلیم کے مقالے میں دی گئی فہرست میں موجود نہ تھے، لیکن مذکورہ عنوان کے تحت اخبار میں موجود تھے۔ اس کے بعد ان کالموں کی قرأت اور تدوین کا مرحلہ آیا جس میں ہمیں کچھ مزید مشکلات پیش آئیں۔

پہلی مشکل یہ تھی کہ ادارہ معارف اسلامی منصورہ لاہور کی لائبریری میں موجود ایک کالم (کالم نمبر 7 تاریخ اشاعت 23/اکتوبر 1983ء)کا متن (جزوی طور پر) ناقص چھپائی کی وجہ سے ناقابل قرأت تھا جس کے لیے راقم کوادارہ “معارف اسلامی” کراچی اورروزنامہ “جسارت” کراچی کے دفتر سے رابطہ کرنا پڑا۔ روزنامہ “جسارت” کراچی کی طرف سے یہ جان کر بے حد مایوسی ہوئی کہ اُن کے پاس اخبارات کی پرانی فائلیں موجود نہیں جبکہ ادارہ “معارف اسلامی” کراچی کے پبلی کیشن مینیجرجناب ارشد بیگ صاحب نے بے حد فیاضی کا مظاہرہ کیا اور ہمیں مطلوبہ کالم کا عکس پیغام رسانی کے جدید ذریعے “وَٹس ایپ“(WhatsApp)کے ذریعے بھیجا۔ لیکن ہماری بد قسمتی کہ ادارہ “معارف اسلامی” کراچی کی فائل میں موجود مطلوبہ کالم کا عکس بھی نا قابلِ قرأت تھا۔اس کے علاوہ دیال سنگھ لائبریری لاہوراور قائد اعظم لائبریری لاہور میں زیرِتحقیق کالموں پر مشتمل اخبارات کا سِرے سے ریکارڈ ہی موجود نہ تھاجبکہ پنجاب پبلک لائبریری لاہور اور پنجاب یونیورسٹی کی مرکزی لائبریری میں اگرچہ جسارت کی فائلیں تو موجود تھیں لیکن مذکورہ کالم کی اشاعت کے بعد کی تاریخوں کی فائلیں تھیں۔ اس لیے مجبورًا کالم نمبر 7کی ابتدائی چند سطروں میں قیاسی تدوین سے کام لینا پڑا۔ یہی معاملہ کالم نمبر 85 اور 87 میں بھی پیش آیا کہ ان دو اخباری کالموں کے آخری کالم کا بایاں کنارا جزوی طور پر سر تا پا کٹا ہوا تھا، اس لیے ایک بار پھر مذکورہ بالا عمل کو دہرایا گیا اور جب لاہور کی مذکورہ تمام لائبریریوں میں مسئلہ حل نہ ہوا تو کراچی کا رخ کیا گیا۔ایک بار پھر ہمارے محسن،ادارہ معارفِ اسلامی کراچی کے مینیجر پبلی کیشنز ارشد بیگ صاحب نے مشفق خواجہ کی “سنت” پر عمل کیا اور ہمیں مطلوبہ کالموں کی فوٹو سٹیٹ ٹی سی ایس کے ذریعے بھجوائی۔ اس بار قسمت نے بھرپورساتھ دیا اور وہ فوٹو سٹیٹ مکمل کالم کی تحریر پر مبنی تھی، اس طرح ہم مذکورہ کالموں کے متن مکمل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

یہاں پر اس بات کا ذکر بھی بے محل نہ ہوگا کہ مذکورہ تمام لائبریریوں میں اخبارات کی پرانی فائلوں تک رسائی بہت آسانی سے ہوگئی لیکن پنجاب یونیورسٹی کی لائبریری نے مذکورہ اخبارات کی فائلوں تک رسائی کے لیے اجازت لینے کے“طویل” مراحل طے کرنے کا مژدہ سنایا۔اگرچہ اللہ کے فضل سے راقم کے یہ مراحل بھی بہت آسانی سے طے ہوگئے تاہم محققین کے لیے پنجاب یونیورسٹی کا یہ طریقۂ کار مفید اور مناسب نہیں۔

دوسری مشکل یہ تھی کہ ہمارے پاس تدوین کے لیے جو اساسی متن موجود تھا، وہ تخلیق کار یا کسی ایسے چھاپہ خانے کے کاتب کے ہاتھ سے نہ لکھا گیا تھا جو کتابوں کی اشاعت پر مامور ہو بلکہ اخبار کی کتابت پر مامور کاتب کے ہاتھ سے لکھا گیا تھااوراخباری کالموں میں بالعمو م یہ امر ملحوظِ خاطر نہیں رکھا جاتا کہ کتابت کا معیار اور املا کتابت کے مسلمہ اصولوں،جو کتابوں کی اشاعت کے دوران رکھے جاتے ہیں، کے مطابق ہو۔ لہٰذا ہمارے اساسی متن کی کتابت میں سینکڑوں نہیں ہزاروں (بلا مبالغہ)ایسے مقامات تھے جنہیں اردو کا عام قاری بھی غلط قرار دے سکتا ہے۔ اس صورتِ حال میں راقم کی رائے تھی کہ چونکہ ہمارا اساسی متن نہ تو تخلیق کار کے ہاتھ کا تحریر کردہ ہے اور نہ ہی تخلیق کار کی نگرانی میں پروف خوانی اور اصلاح سے گزرا ہے، لہٰذا جو بہت سامنے کی غلطیاں ہیں انھیں ہم ہو بہونقل(تدوین) کرنے کے بجائے ان کی اصلاح کرتے چلے جائیں لیکن میری محترم نگران ڈاکٹر عظمیٰ سلیم صاحبہ اور استادِ گرامی جناب سید عامر سہیل صاحب، چیئرمین شعبہ اردو جامعہ سرگودھاکی رائے اس سے مختلف تھی۔اُن کا ارشاد تھا کہ متن میں جزوی تحریف بھی نہ کی جائے۔ لہٰذا تدوین کے دوران کوئی بھی تحریف عمل میں نہیں لائی گئی ہے۔ حتیٰ کہ املا کی غلطی کو بھی برقرار رکھا گیا ہے۔ الّا یہ کہ انسانی کمزوریوں کے باعث نادانستہ کوئی تحریف ہوگئی ہو (ویب سائیٹ کی اشاعت میں ہم نے متن میں اِملا اور پروف کی غلطیوں کو درست کر دیا ہے۔ اب اگر کوئی غلطی رہ گئی ہو تو نشان دہی فرما کر ہماری مدد کریں)۔

ایک خصوصی گزارش جو اپنے مقالے کے حوالے سے عرض کرنی ہے کہ جب راقم کا موضوع منظور ہوا تو اُسے دوست احباب اور اساتذہ میں سے تقریباً ہر ایک نے کہا کہ حواشی و تعلیقات بہت آسان کام ہے اور محض سٹڈی روم میں یکسو ہوکر وقت دینے سے ہی مقالہ پایۂ تکمیل تک پہنچ جائے گا۔ لیکن عملاً ایسا نہ ہوا۔ اس مقالے کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لیے راقم کو سرگودھا، لاہور اور اسلام آباد کے کئی سفر کرنا پڑے اور راقم کامقالہ اگرچہ اس کی مصروفیات کی وجہ سے بھی التوا کا شکار ہوا، لیکن اس میں موضوع کا بھی عمل دخل ضرور تھا۔ اور تدوین کا معاملہ تو اس قدر مشکل لگا کہ؛

؎            اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے

اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کو اپنی تحریر کی پروف خوانی کے وقت جس انہماک اور توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ تدوین میں اس سے بیس گنا زیادہ توجہ، انہماک اور دِقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اور پھر یہ دِقت اُس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب کہ آپ کے اساسی متن کی کتابت معروف اور مروجہ طرزِ کتابت سے بعض اوقات مختلف ہوجاتی ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ اردو رسم الخط میں زنجیروں کا بہت زیادہ استعمال ہے۔ اور بعض الفاظ تو ایسے ہیں جو بیک وقت زنجیرے میں بھی استعمال ہوتے ہیں اور زنجیرے کے بغیر بھی۔ مثال کے طور پر لفظ “جس طرح” کو تحریر کردہ املاکے علاوہ“ جسطرح” کی املاء میں لکھا جا سکتا ہے۔یہی معاملہ “کے لئے” اور  “کیلئے” میں بھی ہے اور  “کی طرح” اور“ کیطرح” کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہے۔ الغرض ایسے الفاظ کئی درجن تھے جن کی وجہ سے یہی مشکل ہمیں تدوین کے مرحلے میں بہت زیادہ پیش آتی رہی کیونکہ ہم نے جب یہ طے کر لیا کہ ہم نے تدوین کو ہو بہو اساسی متن کے مطابق ہی قارئین تک پیش کرنا ہے تو پھر ہمیں تدوین اور بعد ازاں اس کی پروف خوانی میں بے پناہ وقت اور محنت صرف کرنا پڑے۔ ہمارے کمپوزر نے اس طرح کے تمام الفاظ میں چونکہ اپنی مرضی کے مطابق کام کیا تھا اور وہ یہ عمل ایک سو تیرہ کے ایک سو تیرہ کالموں میں سینکڑوں نہیں ہزاروں جگہ پر دوہرا چکا تھا اور ہمیں ہر لفظ کو  اساسی متن کے مطابق ڈھالنے کے لیے اُسے اساسی متن کی تصویر کے ساتھ ٹیلی کرنا پڑتا تھا اس لیے  اس مشق میں بے پناہ وقت صرف ہوا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں