0

مقدمہ مقالہ مشفق خواجہ. قسط پنجم…مجیب اللہ خان نیازی

مشفق خواجہ

 

(ب)

جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے کہ مشفق خواجہ کے کالم نہ صرف پاکستان بلکہ پوری اردو دنیا میں بے حد مقبول تھے اس پسندیدگی کی راقم کے نزدیک دوسری اہم وجہ کالموں کے متنوع موضوعات ہیں۔اگراصنافِ ادب کے حوالے سے دیکھا جائے تو مشفق خواجہ نے اردو ادب کے کسی بھی گوشے کو اپنی قلم کی دسترس سے باہر نہیں چھوڑا۔ یہی وجہ تھی کہ ہر صنفِ سخن سے دل چسپی رکھنے والوں کو ان کے کالموں میں اپنی پسند کا مواد مل جاتا تھا۔ زیرِ نظر کالموں کے موضوعات کی وسعت محض اصنافِ سخن تک ہی محدود نہ تھی بلکہ مشفق خواجہ کے ہاں اہلِ قلم کی تخلیقات پر تنقید و تبصرہ، اردو دنیا میں ہونے والی ملکی و بین الاقوامی سر گرمیوں، اہلِ قلم کے ادبی معرکوں، اردو ادب کی ترویج کے لیے کام کرنے والے اداروں کی کارکردگی(بالخصوص اکیڈمی آف لیٹرز)، جامعات میں اردو پر سندی تحقیق کی صورتِ حال، ادیبوں کی غیر ادبی سرگرمیوں، بیک وقت کلاسیکی اور معاصر ادب سے تعارف اور ترغیبِ مطالعہ، قابلِ ذکر اور اہم شائع ہونے والی کتب کا تعارف،شاعروں کے ایک دوسرے پر سرقے کے الزامات؛سب کچھ موجود ہے۔ المختصر اردو کے قاری کی دلچسپی کا کوئی بھی ایسا پہلو نہیں تھا جسے مشفق خواجہ نے اپنے کالموں کا موضوع نہ بنایا ہو، اور یہی وجہ تھی کہ ان کے کالموں کو قارئین کا وسیع حلقہ نصیب ہوا جو نہ صرف برصغیر بلکہ بعض دوسرے ملکوں تک بھی پھیلا ہوا تھا۔

اگر مذکورہ بالا تمام موضوعاتِ کالم کی مناسبت سے اقتباسات پیش کیے جائیں تو یہ سلسلہ کافی طویل ہو جائے گا لہٰذا ان تمام موضوعات سے متعلقہ نمونے کے اقتباسات دینے کے بجائے صرف اکیڈمی آف لیٹرز، تنقیداور شاعروں کے ایک دوسرے پر سرقے کے الزامات سے متعلق اقتباسات پیش کرنے پر اکتفا کیا جائے گا۔

اردو زبان و ادب کی ترویج کے لیے قائم کیے گئے اداروں میں سے سب سے ”خوش قسمت“ ادارہ”اکیڈمی آف لیٹرز“ رہا جس کا مشفق خواجہ نے اپنے کالموں بہت زیادہ بار ذکر کیا۔ اور اس کثرتِ ذکر کا انھیں خود بھی اندازہ تھا اس لیے ایک جگہ بجا طور پر لکھتے ہیں:

”ہم اپنے کالموں کو اس لیے کتابی صورت میں شائع کرناچاہتے ہیں کہ آئندہ جب کبھی اردو ادب کی تاریخ لکھی جائے تو سارا خام مواد مؤرّخ کے سامنے ہو۔ہمارے کالموں کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں اکیڈمی آف لیٹرز کے بارے میں بیش بہا معلومات ملتی ہیں۔ ہماری کتاب کی اشاعت کے بعد اکیڈمی کی تاریخ الگ سے لکھوانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔“(44)

مشفق خواجہ نقادوں کے رویوں اور جانب داری پر بہت کڑی گرفت کرتے تھے اور اکثر اپنی تحریروں میں تنقید اور نقادوں کے قلم کو تلوار اور آلۂ حرب کا نام دیتے تھے۔اگرچہ وہ خود بھی بہت بڑے نقاد تھے لیکن بقول معروف صحافی حبیب اکرم مشفق خواجہ نے تنقید کو اتنا سہل اور عام فہم کر دیا کہ ہر شخص اس سے استفادہ کرسکتا ہے(45)۔ اس پر ہم محض اتنا اضافہ کریں گے کہ مشفق خواجہ کے اسلوب کی انفرادیت اور تحریر و مزاج کی شائستگی نے ان کی تنقید کو بھی”پڑھنے کی چیز“ بنا دیا ہے جس کی وجہ سے قاری اس”بھاری پتھر“ کو بہت آسانی سے اور خوشی خوشی اٹھا لیتا ہے۔

”نمونۂ کلام“کے طور پر تین دلچسپ اقتباسات دیکھتے ہیں جن میں قاری کی دل چسپی بھی برقرار رہے گی اور سکّہ بند نقادوں کی تنقید پر تنقید کا اظہار بھی ہو جائے گا:

”ویسے ڈاکٹر محمد حسن کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ ادب فہمی، معاملہ فہمی سے بالکل مختلف چیز ہے۔ شمس الرحمن فاروقی کی ادب فہمی اس وقت سے ہر طرح کے شک وشبہ سے بالا ہوچکی ہے جب سے انھوں نے احمد مشتاق کو فراق گور کھپوری سے بڑا شاعر قرار دیا ہے۔ اچھا ہوا کہ یہ بات فاروقی نے فراق کی زندگی میں نہیں کہی، ورنہ لوگ کہتے کہ فراق صاحب فاروقی کی ادب فہمی کے نتیجے میں انتقال فرماگئے۔“  (46)

افتخار عارف کی کتاب پر فیض صاحب نے دیباچہ لکھا تھا۔ اس دیباچے پر تبصرہ مشفق خواجہ کے گہرے تنقیدی شعو ر کا بھی آئینہ دار ہے اور ان کے اسلوب کا بھی۔تبصرہ ملاحظہ ہو:

”فیض نے یہ دیباچہ لکھ کر ثابت کردیا ہے کہ شاعری میں نہ سہی، نثر میں بامحاورہ زبان لکھنے پر وہ ضرور قاد ر ہیں اور بعض محاوروں پر خوش اسلوبی سے وہ عمل بھی کررہے ہیں جیسا کہ ان کی آج کل کی شاعری مکھی پر مکھی مارنے کی بہترین مثال ہے۔

اِس دیباچے کا پہلا پیرا گراف خاصا دلچسپ ہے فرماتے ہیں:

”آج کل ادبی حلقوں میں دوچار سوال اکثر سننے میں آتے ہیں۔ کیا ہمارے شعر و ادب پر جمو د طاری ہے؟ کیا وہ شاعری جسے جدیدیت کا نام دیا جاتا ہے، نثری نظم،آزاد نظم تغزل سے عاری غزل وغیرہ وغیرہ۔۔۔ اس جمود کا توڑ نہیں ہے؟ کیا نئے لکھنے والوں میں کوئی ہونہاربِروا ایسا نہیں ہے جس کے چکنے پتّوں سے کچھ امید وابستہ کی جاسکے؟“  (47)

فیض صاحب کی طرف سے اٹھائے جانے والے سوالات کا جواب متصل پیرے ہی میں انتہائی اختصار کے ساتھ بیان کر دیا جاتا ہے۔ یہ جواب نہ صرف بر جستہ اور دلچسپ ہے بلکہ اس میں مشفق خواجہ کو بحیثیت نقاد بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ اردو ادب میں بدلتے رجحانات پر کس قدر گہری نظر رکھتے تھے:

”فیض صاحب نے جو تین سوال درج کئے ہیں، ان کی بنا پر چوتھا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ فیض صاحب کن ادبی حلقوں میں اٹھتے بیٹھتے ہیں کہ انھیں یہ بھی معلوم نہیں کہ پہلا سوال 25برس پہلے اٹھایا گیا تھا اور اسی وقت اس کا جواب دے دیا گیا تھا۔ پہلے سوال کے کالعدم ہونے کے بعد دوسرا سوال خود بخود ختم ہوجاتا ہے تیسرا سوال خود فیض صاحب بار بار اٹھاتے رہے ہیں۔ یہ سوال انھوں نے ہمیشہ اس وقت اٹھایا جب انھیں کسی اپنے سے بہت کم عمر شاعر کی کتاب پر دیباچہ یا فلیپ لکھنے کا موقع ملا۔ احمد فراز سے لے کر عرفانہ عزیز، زہرانگاہ اور اب افتخار عارف تک۔۔۔ فیض صاحب کو ہر ہونہار برواکے چکنے چکنے پات ہی نظر آتے رہے۔“  (48)

ڈاکٹر گوپی چند نارنگ اردو کے معروف نقاد ہیں۔ ذیل کے اقتباس میں ان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ بھی ہو رہی ہے اور نقاد کی ذمہ داریاں بھی ادا کی جارہی ہیں:

”بھلا یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ آ پ کو غالب کی وفات کا علم نہ ہو آ پ کو زندہ شاعروں کی وفات کا بھی علم ہے۔ کیونکہ آپ جب کسی پر لکھتے ہیں تو اس کا ادبی طور پر انتقال فرماجانا لازمی ہوتا ہے۔“(49)

مشفق خواجہ کے کالموں کا ایک موضوع لکھاریوں کا ایک دوسرے پر سرقے کے الزامات بھی رہتا تھا جس سے آپ اپنے قارئین کو نہ صرف آگاہ کرتے تھے بلکہ فریقین کے شعروں کا پوسٹ مارٹم کرنے کے بعد اکثر، اشعار کا سراغ لگاتے ہوئے کسی اور بنیادی مآخذ تک پہنچ جاتے تھے جو کہ عموماً فریقین کے زمانے سے بہت پہلے کا ہوتا تھا۔ذیل کا اقتباس دیکھیے:

”معاف کیجئے ذِکر تھا ناصِر زیدی صاحب کا اور بات کہیں اور پہنچ گئی۔۔۔ ہاں تو زیدی صاحب نے کراچی آتے ہی ایک شعری نشست میں شرکت کی کہ شعرائے کرام جہاں جاتے ہیں سب سے پہلے یہی کام کرتے ہیں۔ اس نشست میں سرشار صدیقی صاحب نے بھی کلام سنایا۔ان کا ایک مصرعہ ہے:

میں ایک سادہ ورق ہوں مگر کتاب میں ہوں

زیدی صاحب کا خیال ہے کہ سرشار صاحب سرقہ کے مرتکب ہوئے ہیں کیونکہ ان کی یعنی زیدی صاحب کی ایک بہت پرانی غزل کا مطلع ہے:

؎            مثالِ سادہ ورق تھا مگر کتاب میں تھا

وہ دن بھی تھے کہ تِرے عشق کے نصاب میں تھا

افسوس کہ زیدی صاحب نے ایک سینیئر اور معتبر شاعر پر الزام لگاتے وقت یہ نہ سوچا کہ اِس قسم کے سامنے کے مضامین میں توارد کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ زیدی صاحب جس شعر کو اپنا ”مال“ بتاتے ہیں، وہ خود روشن صدیقی مرحوم کے اِس شعر کا چربہ ہے:

؎            میں ہی کتابِ زیست میں سادہ ورق تھا دوستو

مجھ پہ بھی گردشِ جہاں کرگئی ثبت نقشِ غَم

جہاں تک غزل کا تعلق ہے، اس کے مضامین اور ذخیرۂ الفاظ اتنا محدودہے کہ ہر شاعر کے یہاں بے شمار مصرعے یا شعر مل سکتے ہیں جنھیں مالِ مسروقہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ مثلاً محسن بھوپالی کا مشہور شعر ہے:

؎            زیست ہمسائے سے مانگا ہوا زیور تو نہیں

ہر گھڑی دھڑکا لگارہتا ہے ہے کھو جانے کا

محسنؔ سے بہت پہلے عندلیب شادانی نے اس مضمون کے دو شعر کہے تھے جو ان کے مجموعۂ کلام،”نشاطِ رفتہ“ میں شامل ہیں:

؎            مجبوریوں پر ڈالے ہیں پَردے

میری ہنسی ہے مانگے کا زیور!

 

؎            میراہنسنا میرا کب ہے مانگے کا اِک زیور ہے

جس کو اپنا حال چھپا نے والے پہنے ہوتے ہیں

 

اسی طرح رئیس فروغ کا یہ شعر خاصا مشہو ر ہے:

 

؎            عشق وہ کارِ مسلسل ہے کہ ہم اپنے لیے

ایک لمحہ بھی پس انداز نہیں کرسکتے

 

جگر مراد آبادی فرماتے ہیں:

 

؎            عشق نے خدمتِ دشواروہ کی ہے تفویض!

خود سے ملنے کی بھی ملتی نہیں فرصت مجھ کو

 

ہمیں معلوم نہیں رئیس فروغ کی عمر کیا ہے۔ اگر وہ جگر صاحب سے عمر میں بڑے ہیں تو جگر صاحب سرقے کے الزام سے بچ نہیں سکتے۔“  (50)

 

حوالہ جات مقدمہ

44۔      مشفق خواجہ: ”سخن در سخن“ مشمولہ روزنامہ ”جسارت“کراچی: 23/دسمبر 1983ء

45۔      حبیب اکرم: ”مشفق خواجہ کے لیے“ شناخت ڈاٹ کام‘ مارچ 2011ء

46۔      مشفق خواجہ: ”سخن در سخن“ مشمولہ روزنامہ ”جسارت“کراچی: 23/دسمبر 1983ء

47۔      ایضاً، 29/جولائی 1983ء

49۔      ایضاً، 29/جولائی 1983ء

49۔      ایضاً، ۹۲/جولائی ۳۸۹۱ء

50۔      ایضاً، 18/جون 1982ء

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں