
آئیے اب ذرا اس بات کا بھی مختصر سا جائزہ لے لیں کہ مشفق خواجہ کے کالم کیوں اس قدر پسند کیے گئے اور اردو کے نام ور لکھاریوں نے انھیں ”شاہکار“ کا درجہ دیا اور کیوں پاکستان کے علاوہ ہندوستان اور دیگر ممالک میں بھی ان کی مکرر اشاعت ہوتی تھی۔
راقم کے نزدیک اس کی مندرجہ ذیل دو اہم وجوہات ہیں:
(الف) منفرداسلوب (ب) متنوع موضوعات
(الف)
جہاں تک اسلوب کا تعلق ہے تو ان کا اسلوب اس قدر بے ساختہ اور شگفتہ ہے کہ قاری ان کے جملوں سے ایک بھر پور مزاح پر مبنی تحریر کا مزا بھی لیتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ طنز کے ایسے نشتر کا کام بھی دیکھتا ہے جسے بلا خوفِ تردید کسی جرّاح اور ہمدرد طبیب کا نشتر قرار دیا جا سکتا ہے کہ جس کا مقصد ایسی چیر پھاڑ ہوتی ہے جس کا بالآخر فائدہ مریض کو ہی ہوتا ہے۔ ایسے ایسے دلکش جملے قاری کو ان کے کالموں میں ملیں گے کہ قاری کو نری مزاحیہ کتب میں بھی شاید پڑھنے کو نہ ملیں۔ یہ مشفق خواجہ کا منفرد اسلوب ہی ہے کہ جس میں بھرپور مزاح کے ساتھ ساتھ معلومات، طنز، تنقیداورکسی فن پارے پر تبصرہ بھی مل جاتا ہے۔
مشفق خواجہ کے اس منفرد اسلوب کے بارے میں طارق کلیم اس طرح رقم طراز ہیں:
”مشفق خواجہ اپنے کالموں میں باقاعدہ مزاح نگار کے طور پر سامنے آتے ہیں ان کی تحریریں قاری کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھیرتی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہ ان کی تحریروں میں ادبیت کوٹ کوٹ کے بھری ہے۔“ (36)
ایک اور مقام پرطارق کلیم نے مشفق خواجہ کے ہر دلعزیز اسلوب پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے اور ان کے اسلوب کی کئی خصوصیات گنوائی ہیں جن میں بذلہ سنجی، جملہ، لطیفہ، استاد لاغر مراد آبادی کی رائے او رتین آوازوں (راقم کے خیال میں آوازوں کے بجائے تین کردار زیادہ مناسب صورت ہو سکتی تھی) کا استعمال بھی شامل ہیں۔ تاہم اس ضمن میں ان کی مندرجہ ذیل رائے مشفق خواجہ کے کالموں کے اسلوب کا جامع اظہار ہے:
”مشفق خواجہ اوراردو کے دیگر اہم مزاح نگاروں میں ایک اور واضح فرق بھی ہے۔ اگر پطرس بخاری، رشید احمد صدیقی، کرنل شفیق الرحمن، مشتاق احمد یوسفی اور کرنل محمد خان کی تحریروں کا موازنہ مشفق خواجہ سے کیا جائے تو ایک واضح فرق نظر آتا ہے۔ مذکورہ مزاح نگاروں میں ایک بات مشترک نظر آتی ہے کہ یہ سب اصحاب اپنے مزاح کی بنیاد واقعات کو بناتے ہیں اور واقعے کو بیان اس طرح کرتے ہیں کہ قاری کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آجاتی ہے۔ ان کے ہاں جیتے جاگتے کرداروں کی فراوانی ہے جن کی حرکتیں بھی مزاح کا باعث بنتی ہیں اور گفتگو بھی۔بلا شبہ یہ سب مزاح نگار منفرد اسلوب کے حامل ہیں تاہم مزاح کی بنیاد کہانی ہی ہے۔ دوسری طرف مشفق خواجہ کا جائزہ لیا جائے تو ان کا مزاح الفاظ کی بنیاد پر ہے۔ ان کے یہاں واقعات نہیں ہیں۔ کتابوں میں لکھے ہوئے، ادیبوں کے منہ سے ادا ہونے والے الفاظ ان کے کالم کا موضوع بنتے ہیں اور وہ مزاح پیدا کرنے کے لیے لفظی حربے ہی استعمال کرتے ہیں۔ بلا شبہ یہ ایک دشوار کام ہے تاہم اگر مشفق خواجہ کے کالموں کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ انھوں نے یہ کام نہایت تخلیقی سطح پر کیا ہے۔ وہ مزاح پیدا کرنے کے لیے ”لفظوں“ سے وابستہ تمام حربے استعمال کرتے ہیں۔ اپنی تخلیقی اپج سے وہ کالم کو اس کی سطح سے بلند سطح پر لے جاتے ہیں اور ان کالموں کا مطالعہ انشائیے کے طور پر بھی کیا جا سکتا ہے۔ یہ بات بھی بہت اہم ہے کہ مشفق خواجہ نے مزاح پیدا کرنے کے لیے پیروڈی صورت واقعہ سے بالکل مدد نہیں لی۔ دوسرے مزاح نگاروں کے یہاں ان دونوں حربوں کا استعمال بہت زیادہ ملتاہے۔“(37)
آئیے اب ذرا زیرِ تحقیق کالموں کے متون سے سے مذکورہ بالا بیان کے حق میں چند نمونے بھی دیکھ لیں:
قتیل شفائی کا ایک انٹرویو چھپا جس میں قتیل شفائی نے کچھ شعراء کو شاعری ترک کر دینے کا مشورہ دیا تھا اور ان شعراء میں خود مشفق خواجہ بھی تھے۔ قتیل شفائی کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہمارے سامنے کی مثال ہے کہ جب ڈاکٹر عبادت بریلوی نے یہ دیکھا کہ شاعری ان کے بس کا روگ نہیں تو انھوں نے شاعری ترک کر دی۔ اس پر مشفق خواجہ نے نہ صرف بہت دل چسپ تبصرہ کیا بلکہ ساتھ ایک لطیفہ بھی سنا ڈالا۔ ملاحظہ ہو مندرجہ ذیل اقتباس:
”قتیل صاحب اِس بات سے خوش ہیں کہ عبادت بریلوی نے شاعری ترک کردی۔ موصوف کو عبادت بریلوی کی نثر پڑھنے کا اتفاق نہیں ہوا ور نہ وہ شاعری ترک کرنے پر خوشی کا اظہار نہ کرتے۔ اس پر ہمیں ایک مشہور ناول نویس کا ایک واقعہ یاد آگیا۔ کسی محفل میں وہ فخریہ بیان کررہے تھے کہ میں پہلے شاعری کرتا تھا۔ علامہ اقبال نے میرے اشعار دیکھ کر مشورہ دیا تھا کہ میں شاعری ترک کردوں اور نثر لکھوں۔ اس دن سے میں نے شعر کہنا چھوڑ دیا اور نثر لکھنی شروع کردی“۔۔۔ اس پر ایک صاحب نے کہا۔۔۔ ”کاش آپ کی نثر بھی علامہ اقبال کی نظر سے گزر جاتی۔“ (38)
ڈاکٹر عبادت بریلوی نے علامہ نیاز فتح پوری سے متعلق اپنی یادوں پر مشتمل ایک مضمون ”ماہِ نو“ میں شائع کرایا۔ ڈاکٹر عبادت بریلوی کے اس مضمون پر بہت دلچسپ اور شگفتہ تبصرہ کیا جس کا اختتام ان الفاظ پر ہوتا ہے:
”اِس پہلی ملاقات میں عبادت صاحب نے نیاز صاحب سے کہا۔ لکھنے کی طرف طبیعت راغب نہیں ہوتی۔ آپ رہنمائی فرمائیے۔ نیاز صاحب نے جواب دیا۔ ”لکھنا ایک عادت ہے۔ بس آپ لکھنا شروع کردیجئے۔ یہ نہ سوچئے کہ کیا لکھ رہے ہیں۔بس لکھتے جائیے۔“
علامہ نیاز بھی غضب کے آدمی تھے خود تو سوچ سمجھ کر لکھتے تھے اور دوسروں کو اس کے برعکس مشورہ دیتے تھے۔ بہر حال یہ خوشی کی بات ہے کہ عبادت صاحب نے ایک بزرگ کے مشورے پر عمل کیا اور اس میں پوری طرح کامیاب رہے۔ ہم انھیں اِس کامیابی پر دِلی مبارکباد پیش کرتے ہیں۔“(39)
زاہدہ حنا کے افسانوی مجموعے پر تبصرے کے دوران بھی مشفق خواجہ کے اسلوب کا تیکھا پن دیکھا جا سکتا ہے جس میں انتہائی خوبصورت اور ملفوف انداز میں زاہدہ پر چوٹ کی جا رہی ہے:
”سب نقادوں کا خیال ہے کہ مصنفہ پڑھی لکھی خاتون ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مجموعے کے ایک ایک صفحے سے زاہدہ حِناکا وسیع و عمیق مطالعہ ظاہر ہوتا ہے۔ ایران اور برصغیر پاک و ہند کی تاریخ پر اور فارسی ادب پر اُن کی نظر گہری ہے۔ زاہدہ حِنانے قرۃ العین حیدر کا بھی خاصا مطالعہ کیا ہے۔ ایک دو افسانے تو ایسے ہیں کہ انھیں پڑھتے ہوئے یہ محسوس ہوتا ہے جیسے ”کار جہاں دراز ہے“ کی پہلی جلد کے کچھ صفحات زیرِ تبصرہ کتاب میں شامل ہوگئے ہوں۔ اس بناء پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ قرۃ العین حیدر کا فن اُنھیں پر ختم نہیں، کار جہاں کی طرح یہ سلسلہ بھی خاصا دراز ہے۔“(40)
ایک اور مثال دیکھئے جس میں مشکور حسین یاد کی کتاب”ممکنات انشائیہ“ پر تبصرہ بھی ہو رہا ہے اور اپنے قارئین کی مسکراہٹ کا بھی بندوبست ساتھ ساتھ کیا جاتا ہے:
”نظام الدین صاحب کے بارے میں ہم بھی یادؔصاحب کی طرح دست بدعا ہیں کہ”خدا کرے وہ زندہ ہوں۔“ لیکن ا ن کے خوش و خرم ہونے کے بارے میں ہم اس وقت تک کوئی رائے نہیں دے سکتے۔ جب تک یہ معلوم نہ ہوجائے کہ چونیاں میں آباد ہونے کے بعد بھی انھیں اپنے شاگرد کی تحریریں پڑھنے کا موقع ملتا رہا ہے یا نہیں۔“(41)
اور اسی کتاب پر تبصرے کے دوران ایک اور موقع پر کس خوبصورتی سے نقد و تبصرہ ہوتا ہے کہ قاری مسکرائے بغیر نہیں رہ سکتا:
”ہم جناب مصنف کے بے خبر اور کم حوصلہ دوستوں سے درخواست کریں گے کہ وہ اِس کتاب کو بطور دوا کے ضرور اِستعمال فرمائیں کہ کبھی کبھی غلط علاج سے بھی فائدہ پہنچ جاتا ہے۔اس کے ساتھ ہی ہم جناب مصنف سے بھی عر ض کریں گے کہ آپ دوستوں کے علاج کے لیے کتابیں کیوں لکھتے ہیں، باقاعدہ دواخانہ کیوں نہیں کھول لیتے۔ اس کا ضمنی فائدہ یہ ہوگا کہ پڑیاں باندھنے کےلیے ”ممکناتِ انشائیہ“ کے کئی ایڈیشن چھاپے جاسکتے ہیں۔“(42)
نظیر صدیقی کے سفر نامۂ لند ن پر اس دلکش اسلوب میں تبصرہ کیا جاتا ہے کہ قاری ان کے اسلوب کی داد دیئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اگرچہ اقتباس ذرا طویل ہے لیکن پھر بھی پیش کیا جا رہا ہے کہ اس کو مختصر بھی نہیں کیا جا سکتا تھا اور نظر انداز کرنا بھی مشکل تھا۔ مشفق خواجہ لکھتے ہیں:
”سفر نامے کا آغاز ساتھ کی سیٹ پر بیٹھنے والی ایک انگریزخاتون کے تذکرے سے ہوتا ہے۔ سفر ناموں کے آغاز کے لیے اس قسم کے خوشگوار حادثات کا ہونا ضروری ہے تاکہ قاری پر مصنف کی گرفت شروع ہی سے مضبوط ہو۔ نظیر صدیقی کے ساتھ بیٹھنے والی خاتون میں وہ تمام خوبیاں پائی جاتی ہیں جو میر حسن کی مثنوی سحر البیان کی ہیروئین میں پائی جاتی ہیں۔ بس ذرا سا فرق یہ تھا کہ مسافر خاتون بیوہ تھیں۔ نظیر صدیقی ان سے اِس حدتک بے تکلف ہوگئے کہ ۔۔۔ ”میں نے پوچھا: آپ نے کبھی دوسری شادی کے بارے میں نہیں سوچا؟ کہا کہ بچوں کی کم سنی کے باعث دوسری شادی کے بارے میں سوچنا ممکن نہ ہوسکا۔ میں نے کہا: اب تو آپ کے بچے بڑے ہو چکے ہیں۔ کہنے لگیں: سوال مناسب آدمی کے ملنے کا بھی ہے۔ میں نے کہا: خدا کرے آپ کو کوئی مناسب جیون ساتھی مل جائے۔“
معلوم نہیں، نظیر صدیقی کی دعا قبول ہوئی یا نہیں،البتہ یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ موصوف سفر کے دوران بہت خوش رہے افسوس کہ ان خاتون نے اب تک کوئی سفرنامہ نہیں لکھا، ورنہ ان کی خوشی کا بھی اندازہ ہوجاتا۔
نظیر صدیقی چوتھی منزل پر مقیم تھے۔ اس لیے دن میں کئی بار لفٹ اِستعمال کرنے کا اتفاق ہوتا تھا۔ ہر مرتبہ لفٹ میں دو چار خواتین سے ملاقات ہو جاتی تھی۔ان ملاقاتوں کا تذکرہ بھی جابجا ملتا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نظیر صاحب نے لندن میں قیام کے زمانے کا بڑا حصہ لفٹ میں گزارا۔ لفٹ کی ایک یادگار ملاقات کی تفصیل بھی انھوں نے بتائی ہے۔ یہ سب کچھ یہاں درج کرنا ممکن نہیں، ہم صرف اتنا بتادیتے ہیں کہ ملاقاتی خاتون نے ایک موقع پر ان سے فرمایا: ”تم بڑے شریر لڑکے ہو۔“ اس قدر افزائی پر نظیر صدیقی نے خاتون کا شکریہ اداکیا۔ ہم نظیر صدیقی کا شکریہ اداکرتے ہیں کہ انھوں نے اپنے سفر نامے میں یہ تاریخی واقعہ درج کرکے ہماری معلومات میں گراں قدر اضافہ کیا کہ وہ شریر بھی ہیں اور لڑکے بھی ہیں۔“(43)
اس ضمن میں مزیددرجنوں اقتباسات پیش کیے جا سکتے ہیں جو اس بات پر دال ہوں گے کہ ایسا اسلوب صرف مشفق خواجہ کا ہی ہو سکتا ہے۔ طارق کلیم کا یہ کہنا بجا ہے کہ آپ ہزاروں تحریروں میں مشفق خواجہ کی تحریر کو ملا دیں میں ان میں سے مشفق خواجہ کی تحریر کو پہچان لوں گا۔ بلا شبہ وہ ایسا کر لیں گے کہ مشفق خواجہ کا اسلوب ہے ہی اتنامنفرد اور جداگانہ ہےکہ ان کاکوئی بھی ذہین قاری لازماً ان کی تحریرپہچان لے گا۔
حوالہ جات مقدمہ
36۔ طارق کلیم: مشفق خواجہ کی ادبی کالم نگاری، مقالہ ایم فل اردو،جامعہ سرگودھا، ص: 90
37۔ ایضاً، ص: 135
38۔ مشفق خواجہ: ”سخن در سخن“ مشمولہ روزنامہ ”جسارت“کراچی: 21/جنوری 1983ء
39۔ ایضاً، 26/اگست 1983ء
40۔ ایضاً، 23/ستمبر 1983ء
41۔ ایضاً، 22/جولائی 1983ء
42۔ ایضاً، 22/جولائی1983ء
43۔ ایضاً، 30/دسمبر 1983ء