
زیر تدوین کالموں کے مطالعے کے دوران شدت سے یہ احساس دامن گیر رہا کہ مشفق خواجہ کو اکثر نقادوں نے ایک فکاہیہ کالم نگار کے طور پر لیااور انھوں نے اس پہلو کو بہت کم اجاگر کیا کہ ان کالموں کے بین السطورمیں ایک انتہائی سنجیدہ نقاد، ناصح اور ہمدرد معلم بھی موجود ہے۔ اگرچہ ڈاکٹر عقیلہ شاہین کی رائے راقم کے اس احساس کی شدت کو کم کرنے کا سبب بنتی ہے تاہم راقم کے خیال میں مشفق خواجہ کے اس پہلو کو بہت بڑے پیمانے پر موضوع بنانے کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر عقیلہ شاہین فرماتی ہیں:
”خامہ بگوش کا یہ کھلتا ہوا شگفتہ انداز اس وقت انتہائی سنجیدگی میں بدل جاتا ہے جب وہ مختلف فنون اور ادبی اصناف کی تنقیدی حیثیت اور ان کے فنی اصول و ضوابط پر روشنی ڈالتے ہیں یوں وہ ایک باقاعدہ اور مستند نقاد کی حیثیت سے ابھرتے ہیں۔جس صنف پر اظہار خیال کرتے ہیں اسی کے ماہر نظر آتے ہیں۔ غزل ہو یا نظم ہائیکو ہو یا نثری نظم آپ بیتی ہو یا سفر نامہ خاکہ ہو یا ادبی کالم ہر صنف کے بارے میں بڑی ٹھوس رائے رکھتے تھے۔” (73)
اس ضمن میں ایک اقتباس ملاحظہ کیجئے جس میں مشفق خواجہ ایک نوجوان لکھاری محمد سہیل عمرکو انتہائی ہمدردانہ، مخلصانہ اور ناصحانہ مشورہ دیتے نظر آتے ہیں جس سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ مشفق خواجہ نہ صرف خود شائستہ مزاج شخص تھے بلکہ نوجوان لکھاریوں کو بھی شائستگی اپنانے کی نصیحت کرتے تھے۔ ان کا یہ روپ بلا شبہ کسی اعلیٰ پائے کے مصلح کا رویہ قرار دیا جا سکتا ہے:
“۔۔۔۔۔۔“روایت” جیسے سنجیدہ مجموعے میں ایک مضمون ایسا بھی ہے جو اگر شائع نہ کیا جاتا تو بہتر تھا۔ یہ مضمون خود محمد سہیل عمر نے “ماروں گھٹنا پھوٹے آنکھ”کے عنوان سے لکھاہے۔ یہ صحافتی نوعیت کامضمون ہے اور“روایت” کے سنجیدہ اور فِکری مشمولات سے کوئی مناسبت نہیں رکھتا۔ محمد علی صدیقی کے مضمون کا جواب لکھتے ہوئے ڈی ڈی ٹی چھڑکنے کا اہتمام کرنا، صدیقی صاحب کو جہالت کا طعنہ اور دعوت مبارزت دینا، زندیقی بالشتیہ اور کوڑھ مغز کہنا کوئی اچھی بات نہیں ہے۔ اس اسلوب میں کوئی معقول بات بھی کہی جائے تو وہ غیرمؤثر ہوجاتی ہے۔” (74)
ایک اور جگہ پر آپ بیتی کے فن پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے دریا کو کوزے میں بند کرتے ہیں۔ راقم کے خیال میں آپ بیتی سے متعلق مشفق خواجہ کی یہ رائے انتہائی مختصر مگر جامع اور کامل ترین آراء میں شمار کی جا سکتی ہے اور یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ آپ اپنے بظاہر فکاہیہ کالموں میں بھی اعلیٰ پائے کی تنقید سے بھی اپنے قارئین کو مستفید کر رہے تھے:
”آپ بیتی لِکھنا کوئی آسان کام نہیں۔ اپنے ہنر کو سبھی مزے لے لے کر بیان کرتے ہیں، لیکن اپنے عیبوں پرکسی کی نظر نہیں جاتی۔ کہا جاتا ہے کہ آپ بیتی کو ایک آئینے کی طرح ہونا چاہیے کہ شخص و عکس میں کوئی امتیاز نہ رہے۔ لیکن آپ بیتی کے آئینے میں عکس ویسا ہی نظر آتا ہے جیسا کہ لکھنے والا اسے دیکھنا پسند کرتا ہے اور اس طرح آئینہ بھی جھوٹ بولنے لگتاہے۔ اپنے بارے میں سچ بولنا بہت مشکل ہے۔ دوسروں پر رائے زنی کرتے وقت شیر کی طرح دھاڑنے والے، اپنی غلطیوں اور غلط کاریوں کویاتو نظرانداز کردیتے ہیں یا پھر معذرت خواہانہ انداز میں ان کا جواز پیش کرنے لگتے ہیں۔
سچی بات تو یہ ہے کہ سچی آپ بیتی لکھی ہی نہیں جاسکتی۔ پہلی وجہ تویہ ہے کہ اپنے لیے سامانِ رسوائی کوئی فراہم نہیں کرتا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ انسانی حافظہ ساتھ نہیں دیتا۔ انسان بہت سی باتیں بھول جاتا ہے اور بہت سی ناقص صورت میں یاد رہ جاتی ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ حافظہ ماضی کی یادوں میں ردوبدل بھی کرتارہتا ہے۔ آپ بیتی لکھنے والا اپنی دانست میں جسے سچ سمجھتا ہے۔ وہ دراصل سچ کی ترمیم شدہ صورت ہوتی ہے۔” (75)
انسان کی زندگی میں کئی ایسے حادثات اور واقعات آجاتے ہیں کہ وہ نہیں چاہتا کہ وہ واقعات منظرِ عام پر آئیں اس لیے وہ اُن واقعات کو اپنی آپ بیتی سے خارج کر دیتا ہے،لیکن بالفرض کوئی بندہ اپنی رسوائی کی بھی پروا نہیں کرتا اور اُن واقعات کو لکھنے پر آمادہ ہو جاتا ہے توکسی بھی معقول آدمی کے لیے اگلا مرحلہ اس سے بھی مشکل ہے کہ وہ ان واقعات اور قصوں کے دوسرے کرداروں کو کیونکر بے نقاب کرے۔اور اگر آپ بیتی میں فرضی ناموں اور کرداروں کا سہارا لے لیا جائے تو بھی زمانۂتحریر کے بیان سے اصل کردار از خود سامنے آجائیں گے کہ؛
؎ بھانپ ہی لیں گے اشارہ سرِ محفل جو کیا
تاڑنے والے بھی قیامت کی نظر رکھتے ہیں
اور اس طرح مستقبل کے “محققین” اُن فرضی کرداروں کو بھی خوب مرچ مسالہ لگا کر عیاں کرنے کے “فرض” کی ادائیگی کریں گے۔ اس لیے آپ بیتی سچ لکھنے کے دعووں کے باوجود سچ نہ لکھ پانے کا بہترین نمونہ ہوتی ہے۔ اسی پیچیدہ مشکل کو مشفق خواجہ محولہ بالا پیرے سے متصل پیرے میں یوں بیان کرتے ہیں:
“آپ بیتی میں جھوٹ بولنے کی بڑی گنجائش ہوتی ہے کیونکہ کسی روک ٹوک کا خدشہ نہیں ہوتا۔ یہ جھوٹ دو طرح کاہوتا ہے۔ ایک تو یہ کہ من گھڑت واقعات بیان کئے جائیں یاواقعات میں حسبِ منشا ردوبدل کردیا جائے۔دوسری طرح کاجھوٹ یہ ہے کہ کچھ واقعات سرے سے بیان ہی نہ کئے جائیں۔ آپ بیتی لکھنے والے دوسری طرح کے جھوٹ سے زیادہ کام لیتے ہیں۔ وہ ایسے واقعات درجِ کتاب ہی نہیں کرتے جن سے رسوائی کا یافسادِ خلق کا اندیشہ ہو۔ اسی لیے تو کہاجاتا ہے کہ آپ بیتی انکشافِ ذات کے لیے نہیں، اخفائے ذات کے لیے لکھی جاتی ہے۔ جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ انھیں اسی نظرسے دیکھاجائے جس نظر سے وہ اپنے آپ کو دیکھتے ہیں؛ وہی آپ بیتی لکھتے ہیں۔یوں آپ بیتی خود پسندی کے جذبے کی عکاس بن کر رہ جاتی ہے۔
لیکن یہ ضروری نہیں کہ انسان کا اپنی ذات سے دل چسپی لینا اور آپ بیتی لکھنا لازماً خود پسندی کانتیجہ ہو۔ آپ بیتی اس لیے بھی لکھی جاتی ہے کہ انسان اپنے گزشتہ روزوشب کو ایک مرتبہ پھر زندہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔بالکل ویسے ہی جیسے پرانی تصویروں کے البم وقت کے ساتھ ساتھ زیادہ دل چسپی کے حامِل ہوتے جاتے ہیں۔ خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انسان اپنے گزشتہ روزو شب کی سحر آفرینی کے دوران یہ سوچتا ہے کہ اگر میں اپنی داستانِ حیات لکھوں گاتو اسے دوسرے بھی پڑھیں گے۔ دوسروں کی شرکت کااحساس اسے سب کچھ بیان کرنے سے باز رکھتا ہے اور اس طرح آپ بیتی فرشتوں کالکھا ہوا نامۂ اعمال نہیں بن پاتی۔” (76)
حوالہ جات مقدمہ
73۔ ڈاکٹر عقیلہ شاہین:“علموں بس کریں او یار”، ماہنامہ “قومی زبان”، فروری 2008ء، ص: 147، 148
74۔ مشفق خواجہ: “سخن در سخن” مشمولہ روزنامہ “جسارت” کراچی: 1/جولائی1983ء
75۔ ایضاً، 18/فروری1983ء
76۔ ایضاً، 18/فروری1983ء