0

مقدمہ مقالہ مشفق خواجہ. قسط ہفتم… مجیب اللہ خان نیازی

مشفق خواجہ

ثانیاً اپنی تحقیق اور کالموں کے مطالعے کے دوران میں خواجہ صاحب کا وہ نقطۂ اطمینان تلاش کرتا رہا جس پر وہ کسی تخلیق کار کی تعریف و تحسین کرتے دکھائی دیتے۔ان کے اطمینان کا معیار مثالی حد تک بلند تھا یہی وجہ تھی کہ کوئی ادیب، شاعر، محقق اور نقاد ان کے معیار پر پورا نہیں اترتا تھا اور اس طرح وہ ہر کسی کے کام کو خوب آڑھے ہاتھوں لیتے تھے اور ہر وقت ان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتے رہتے تھے۔ حالانکہ درجنوں ایسے افراد ہیں جن کی شخصیت اور ان کے کام کا ایک زمانہ معترف ہے۔ لیکن خواجہ صاحب کے ہاں وہ ہمیشہ ہی زیرِ عتاب رہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان سینکڑوں لکھاریوں کا کیا مقام و مرتبہ ہے جن پر یونیورسٹیاں ریسرچ کروا رہی ہیں لیکن خواجہ صاحب کا قلم اُن کے حق میں تعریف و تحسین کا ایک جملہ لکھنے کا بھی روادار نہیں۔راقم کی اس رائے کی تائید زیرِ تحقیق کالموں کے متن میں مشفق خواجہ کے ایک قاری،حسن بریلوی کے انھیں لکھے جانے والے ایک خط سے بھی ہوتی ہے۔ان کا کہنا ہے:

”جناب ِوالا! اگر آپ کو منظر ایوبیؔ کا حوالہ صرف بغرض تفنن ہی دینا تھا تو ایسا انداز اختیار کرتے کہ جو ان کے امیج کومجروح نہ کرتا اور اگر آپ اپنی رائے میں واقعی سنجیدہ ہیں تو ازراہِ کرم اپنے کسی کالم میں قارئینِ ادب کو اس امر سے ضرور آگاہ فرمائیں کہ آپ کو ادھر چند برس میں کس خوش قسمت شاعر کے کلام کوپڑھ کر مسرّت ہوئی ہے تاکہ یہ خاکسار بھی اس کا مطالعہ کرکے آپ کی سخن فہمی کی داد دے سکے۔“(58)

راقم زیادہ مثالوں کے بجائے صرف دو شخصیات، فیض احمد فیض اور اشفاق احمد کی مثالیں دے کر اپنے مؤقف کی وضاحت کرنے کی کوشش کرے گا۔

فیض احمد فیض کی شاعری اور فن کے بارے میں آپ یوں رقم طراز ہیں:

”28/نومبر کو وہ لاہور پہنچے تو اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے انھوں نے کہا ”مجھ پر بڑھاپا آگیا ہے۔“ شاعری پر بڑھاپا آنے کی بات ہوتی تو ہم مان لیتے کہ معاملہ کچھ ایسا ہی ہے۔” (59)

ایک اور جگہ فیض صاحب سے متعلق آپ کا کہنا ہے کہ:

”ہماری دعا ہے کہ انھیں کوئی ایسی ملازمت مل جائے کہ جس کا خوشگواراثر ان کی شاعری پر بھی پڑے اور وہ اپنے آپ کو دہرانا چھوڑ دیں کہ یہ کام تواحمدفرازبہترطورپر انجام دے لیتے ہیں۔“   (60)

اسی طرح ایک اور جگہ پر بھی فیض صاحب کو تہی دامن قرار دیا جارہا ہے:

”اطلاعاً عرض ہے کہ ”متاعِ لوح وقلم“ کے مرتب مرزا ظفر الحسن صاحب آج کل فیض کے آٹوگراف جمع کررہے ہیں کہ اب یہی کچھ جمع کرنے کے قابل رہ گیا ہے۔“ (61)

جبکہ ذیل کے اقتباس میں تو معاملہ اور زیادہ سنگین دکھائی دیتا ہے:

”فیض نے یہ دیباچہ لکھ کر ثابت کردیا ہے کہ شاعری میں نہ سہی، نثر میں بامحاورہ زبان لکھنے پر وہ ضرور قاد ر ہیں اور بعض محاوروں پر خوش اسلوبی سے وہ عمل بھی کررہے ہیں جیسا کہ ان کی آج کل کی شاعری مکھی پر مکھی مارنے کی بہترین مثال ہے۔“   (62)

ایک اور اقتباس دیکھیے جس میں فیض صاحب کی شاعری کو آڑے ہاتھوں لیا جارہا ہے:

”یہ دوسری بات ہے کہ جب بھی مزاح نگاروں کاذکر ہوتا ہے تو مرزاصاحب کو اس طرح نظر انداز کردیا جاتا ہے جس طرح فیض صاحب اپنی حالیہ شاعری میں عروضی آہنگ کو نظر انداز کردیتے ہیں۔“   (63)

اشفاق احمد اردو کے بہت بڑے ناثرہیں۔ ان کے بارے میں ایک کالم کا اقتباس دیکھئے جس میں نہ صرف اشفاق احمد کے ساتھ چھیڑ چھاڑ دیکھی جا سکتی ہے بلکہ مشفق خواجہ کا روایتی اسلوب بھی پورے جوبن پر نظر آتا ہے:

”راولپنڈی اوراِسلام آباد کے افسانہ نگار اور نقاد اَحمد جاوید نے کہا ہے کہ انھوں نے اپنی ایک زیرِ طبع کتاب کا نام ”سفر در سفر“ رکھا تھا لیکن اشفاق احمد یہ نام لے اڑے اور اِس نام سے اپنی کتاب چھپوادی۔ احمد جاوید نے اپنے دعوے کے ثبوت میں کہا ہے کہ ”اکیڈمی آف لیٹرز“ کی شائع کردہ مصنفین کی ڈائریکٹری کے صفحہ20 پر میری اِس کتاب کا حوالہ موجود ہے۔“ ہم نے یہ ڈائریکٹری دیکھی تو احمد جاوید کا دعویٰ درست نکلا۔ اب ہم احمد جاوید کو مشورہ دیں گے کہ وہ اشفاق احمد کی کتاب کا مطالعہ بھی کرلیں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کی یعنی احمد جاوید کی کتاب کے نام کی طرح اس کا متن بھی اشفاق احمد نے استعمال کرلیا ہو۔“  (64)

ایک اور جگہ پر نسیمہ بنت سراج کی کتاب اور ان کے فن پر تبصرہ کرتے کرتے کس طرح اشفاق احمد کو بھی ”تختۂ مشق“ بنا دیتے ہیں:

”نسیمہ بنت سراج کی زبان میں اس قسم کی ناہمواری نہیں ملتی۔ ناہمواری اگر ملتی ہے۔تو خیالات میں۔اور یہ کوئی ایسی بات نہیں جس پر کسی معذرت کی ضرورت ہو۔ آج کل کے تقریباً سبھی لکھنے والے اسی روِش پر چل رہے ہیں اور اشفاق احمد کی طرح خاصے کامیاب ہیں۔“   (65)

اسی طرح مسٹر دہلوی کی کتاب ”مکالماتِ سقراط“ کا پوسٹ مارٹم کرتے ہوئے بھی اشفاق احمد کو معافی نہیں ملتی اور ان کا ذکر یوں کیا جاتا ہے:

”جناب سقراط کے دل چسپ مکالمے معاشی مسائل کو حل کرتے چلے جاتے ہیں۔کہیں کہیں ان مکالموں میں اشفاق احمد کی ”توتاکہانی“ کے مکالموں کا انداز بھی آگیا ہے،  تاہم وہ ناقابلِ فہم نہیں ہوتے۔“   (66)

راقم نے اردو ادب کے دو معروف ادیبوں سے متعلق مشفق خواجہ کی رائے کو نقل کیا ہے ان دو ادیبوں میں سے ایک کا شاعری اور دوسرے کا نثر میں بہت بڑا مقام ہے اور مذکورہ بالا شخصیات کے بارے میں اردو ادب کے نقادوں کا سوادِ اعظم مشفق خواجہ کی رائے سے بر عکس سوچ رکھتا ہے۔ اور اسی طرح پاکستان کی کئی یونیورسٹیوں نے ان ادیبوں پر ایم فل اور پی ایچ ڈی کے تحقیقی مقالے لکھوائے ہیں لیکن خواجہ صاحب  کے ہاں آکر وہ معتوب ہی ٹھہرتی ہیں۔

ثالثاًمشفق خواجہ نے دوسروں کے اندر جن باتوں کے ظہور کو عیب اور خامی گردانا ہے خود باربار اور بے تکلّفی سے اُن کا اِرتکاب کیا ہے۔ کسی کی خامیوں اور کمزوریوں پر تنقید کرنے کے بارے میں آپ کی یہ رائے بہت اہمیت کی حامل ہے:

”ہماری رائے میں کِسی کی غلطیوں کی نشاندہی کرنا آسان اور خوبیوں کو تلاش کرنا بہت مشکل ہے۔ غلطیاں خس و خاشاک کی طرح سطح پرنظر آجاتی ہیں، خوبیاں موتیوں کی طرح دریا کی تہہ میں ہوتی ہیں اور وہ بھی بطنِ صدف میں۔ ان تک عام نگاہیں نہیں پہنچ سکتیں۔” (67)

بات تو بہت اچھی ہے لیکن بدقسمتی سے مشفق خواجہ خود اس رائے پر کم کم ہی عمل کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ محولہ بالااقتباس پر کیا تبصرہ کیا جائے کہ زیرِ تدوین کالموں کا زیادہ تر حصہ ہی اس ”آسان“ کام کی انجام دہی کا نمونہ ہے۔یہی وجہ ہے کہ کئی لوگوں نے مشفق خواجہ کے عیب جوئی کے اس رویے پر کڑی تنقید کی ہے۔ان لوگوں میں حمزہ فاروقی، ڈاکٹر عبدالستار نیازی اور ملک حسن اختر کی آراء کو طارق کلیم کے مقالے ”کے تیسرے باب کے صفحہ نمبر 107تا  109 پردیکھا جا سکتا ہے۔

ساقی فاروقی نے افتخار عارف کے خلاف ایک طویل خط لکھا تھا اورجب یہ قضیہ طول پکڑتا ہے تومشفق خواجہ اپنے 6/جنوری1984ء کے ایک کالم میں اس کا ذکر ان الفاظ میں کرتے ہیں:

”ہم اس معاملے میں غیر جانبداررہے۔ کیونکہ ہم صرف ادبی معاملات میں دخل دیتے ہیں، ذاتی جھگڑوں سے کوئی دلچسپی نہیں۔ چونکہ ساقی فاروقی نے اپنے خط کی نقل ہمیں بھی بھیجی تھی، اس لیے بادلِ ناخواستہ اس خط کا ذکر اپنے کالم میں کرناپڑا۔“(68)

لیکن معاملہ اس سے مختلف ہوتا ہے اور کچھ عرصہ پہلے مشفق خواجہ خودمذکورہ خط کی نقل کا ساقی فاروقی سے مطالبہ کرتے ہیں اس بات کا اظہار 29/جولائی1983ء کے ایک کالم میں ہوتا ہے۔ آپ بھی دیکھ لیجئے:

”اگرساقی فاروقی صاحب ہمارا یہ کالم پڑ ھ رہے ہوں تو ان سے گزارش ہے کہ مذکور ہ مراسلہ ہمیں ضرور بھیجیں کیونکہ ہم عارف افتخار کے بارے میں اچھی اور بری دونوں طرح کی رائیں رکھتے ہیں، اِس لیے دوسروں سے زیادہ اس مراسلے کے مستحق ہیں۔“(69)

اور جب دوہفتے بعد وہ مشہور و معروف خط مل جاتا ہے تو اپنے 21/اگست1983ء کے کالم میں اس بات کا اظہار ان الفاظ میں کرتے ہیں:

”ہم نے گزشتہ ہفتے قارئین کرام سے وعدہ کیا تھا کہ اگر ساقی کا خط ہمارے پاس آیا تو ہم اسے اپنے کالم میں شائع کریں گے بشرطیکہ اس سے پریس اینڈ پبلی کیشنز آرڈی ننس کی خلاف ورزی نہ ہو۔ یہ خط اس وقت ہمارے سامنے ہے۔ یہ26صفحات پر اسی طرح پھیلا ہوا ہے جس طرح ساقی کی شاعری26 برسوں میں پھیلی یاسِمٹی ہوئی ہے۔“ (70)

مزید یہ کہ محولہ بالا کالم میں نہ صرف اُس خط کے کچھ اقتباسات شائع کیے جاتے ہیں بلکہ یہ اعلان بھی کیا جاتا ہے کہ:

”اس خط کی اشاعت سے ہمارا مقصد یہ نہیں کہ کاتب اور مکتوب الیہ کورسوا کیا جائے کہ یہ کام متعلقہ حضرات ہم سے بہتر طور پر انجام دے سکتے ہیں بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ انجام دے چکے ہیں۔ اس کی اشاعت سے یہ بتانا مقصود ہے کہ ہمارے ادیب اپنا وقت کن غیر مفید کاموں میں صرف کررہے ہیں۔ ادب کے نام پر اس بے ادبی کا کوئی جواز نہیں۔“ (71)

کہنے کا مطلب یہ ہے کہ مشفق خواجہ کا جو مقام اور منصب ہے اس کے مطابق ان کے کلام اور کام میں بہت حد تک مطابقت ہونی چاہیے تھی جبکہ ساقی فاروقی کے خط کے معاملے میں اس بات کا قطعاًلحاظ نہیں رکھا گیا۔

اسی طرح حسن بریلوی کی طرف سے اٹھائے جانے والے انتہائی سنجیدہ سوال کو بھی بہت سرسری لیا گیا اور مذاق ہی مذاق میں اس کا جواب دیا گیا بلکہ یہ کہا جائے تو زیادہ مناسب ہوگا کہ انھوں نے حسن بریلوی کو جواب دینے کے بجائے الٹا ان کا مضحکہ اڑایاہے:

”آپ نے پوچھا ہے کہ اِدھر چند برسوں میں ہمیں کس شاعر کے کلام کو پڑھ کر مسرّت ہوئی ہے۔ اطلاعاًعرض ہے کہ حضرت راغب مراد آبادی کے کلام کو۔ انھوں نے ایک اخبار میں خبروں کو منظوم کرنے کا جو سلسلہ شروع کیا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خبروں کو مؤثر بنانے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ انھیں منظوم کردیا جائے۔ کیا ہی اچھا ہو اگر راغب صاحب ٹیلی فون ڈائریکٹری کو بھی منظوم کردیں کہ موجودہ صورت میں اس کے مطالعے میں مزا نہیں آتا۔“(72)

حوالہ جات مقدمہ

58۔      مشفق خواجہ: ”سخن در سخن“ مشمولہ روزنامہ ”جسارت“کراچی: 30/ستمبر 1983ء

59۔      ایضاً، 3/دسمبر 1982ء

60۔      ایضاً،31/دسمبر 1982ء

61۔     ایضاً، 29/اپریل 1983ء

62۔      ایضاً، 29/جولائی1983ء

63۔      ایضاً 25/نومبر1983ء

64۔      ایضاً، 18/دسمبر 1981ء

65۔      ایضاً، 10/دسمبر 1982ء

66۔      ایضاً، 16/دسمبر 1983ء

67۔      ایضاً، 13/نومبر 1981ء

68۔      ایضاً، 6/جنوری 1984ء

69۔      ایضاً، 29/جولائی1983ء

70۔      ایضاً، 12/اگست1983ء

71۔     ایضاً،12/اگست1983ء

72۔      ایضاً، 30/ستمبر1983ء

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں