0

مقدمہ مقالہ مشفق خواجہ. گیارہویں اور آخری قسط… مجیب اللہ خان نیازی

مشفق خواجہ

 

اظہارِ تشکر

راقم کا مقالہ ایک سال کے بجائے دو سال کے عرصے میں پایۂ تکمیل کو پہنچا جس کی وجہ سے مقالے میں مدد کرنے والے افراد کی فہرست بھی طویل تر ہوتی چلی گئی۔ اور اس فہرست میں شامل ہر فرد کی مدداس بات کی متقاضی ہے کہ اس کا فراخ دلی کے ساتھ شکریہ ادا کیا جائے۔

سب سے پہلے میں شکر گزار ہوں جناب طارق کلیم صاحب کا جنہوں نے مجھے اردو ادب کے درخشندہ ستارے پر کام کرنے کا مشورہ دیا ا ور اس طرح میں بیک وقت ایک محقق، مدوّن، مدیر، نقاد، شاعر، مکتوب نگار، کالم نگار اور مزاح نگار سے ایک ہی شخصیت کی صورت میں مستفید ہوا۔ اور علم کے خزانے سے تعارف اور ان کے کام سے نہ صرف لطف اندوز ہوا بلکہ اپنا دامن بھی اپنے ظرف کے مطابق ان کے فیض اور علم سے بھرا۔ بعد ازاں طارق کلیم نے مجھے کالموں کی فہرست (جو کہ ان کے مقالے میں بھی شامل ہے۔) بھی فراہم کی جس نے میری بے حد رہنمائی اور مدد کی۔ اس کے علاوہ مشکور ہوں اپنے علم دوست اور صاحبِ مطالعہ دوست جناب مطیع اللہ خان مجاہد کا جنہوں نے اپنی مصروفیات کے باوجود میرے ساتھ سرگودھا اور لاہور کے کئی سفر کیے جس میں ہم لائبریریوں میں اخبارات کی پرانی فائلوں سے اپنی ضرورت کی تصاویر لیتے تھے۔ شکر گزار ہوں بسم اللہ گرلزہائی سکول موچھ کی پرنسپل و اُردو معلمہ محترمہ نسیم اختر صاحبہ کا جنہوں نے مختلف انسا ئی کلوپیڈیا اور کتابوں سے مجھے بہت سی شخصیات کی معلومات ڈھونڈ کر دیں اور اس طرح میرا بہت سا قیمتی وقت بچا۔ میں شکر گزار ہوں اپنے ٹائپسٹ فضل الرحمن کا جس نے ہمیشہ انتہائی کم وقت میں مجھے زیادہ مواد ٹائپ کر کے دیا۔ میں شکر گزارہوں دیگر مدد گار ٹائپسٹوں،  محمد امیر شاہ دانش، عبدالجبار مجاہد، محمد شفیق اختر(پنجاب کالج میانوالی)، محمد شہزاد (احسن فوٹو سٹیٹ موچھ) اور عبدالعزیز عادل کا کہ جب بھی مجھے زیادہ جلدی ہوتی یہ سب لوگ میرے گھر(ڈیرہ نجیب اللہ) تشریف لا کر میری مدد کرتے اور دعائیں سمیٹتے تھے۔ شکریہ میری بھتیجیوں عائشہ صدیقہ اور نثار فاطمہ کاجنہوں نے پروف خوانی میں میری بے حد مدد کی اور مجھے بہت سامواد نقل کروایاجسے میں نے لیپ ٹاپ پر ٹائپ کیا۔

اپنی نگران محترمہ ڈاکٹر عظمیٰ سلیم صاحبہ کا تو خصوصی شکریہ جنہوں نے مقالہ کے دوران نہ صرف میری بھر پور رہنمائی فرمائی بلکہ جب بھی میرے کام میں تاخیر اور سستی ہوتی وہ مجھے فون کر کے میر ی ہمت بڑھاتیں (اور بعض اوقات شرمسار بھی کرتیں) اور مجھے یکسوئی کے ساتھ اپنے کام کو مکمل کرنے کی تلقین فرماتیں۔ مقالے میں رہنمائی کے دوران ہمیں اپنی نگران صاحبہ کا لاہور اور سرگودھا میں کئی بار مہمان بننے کا بھی شر ف حاصل ہوتا رہا جس کے لیے ہم محترمہ ڈاکٹر عظمیٰ سلیم صاحبہ، ان کے خاوند ڈاکٹر سلیم صاحب(اللہ تعالیٰ انھیں کامل صحت اور لمبی زندگی عطا فرمائے۔آمین) اور ان کے صاحبزادوں کے بھی سپاس گزار ہیں کہ ہر بار اُنھوں نے میزبانی کا بھرپور حق ادا کیا۔

میں اپنے استاد مکرمی جناب سید عامر سہیل صاحب کا شکریہ ادا کرنا بھی لازم سمجھتا ہوں کیونکہ مقالہ تحریر کرنے کے دوران بہت سے مواقع پر استاد گرامی سے رہنمائی ملتی رہی اور وہ اپنی مصروفیات کے باوجود ہمیں رہنمائی فراہم کرتے رہے۔ اور آخر پر سب سے زیادہ احسان مند ہوں اپنی شریکِ حیات سعدیہ خاتون کا جس نے نہ صرف میری اکلوتی اور لاڈلی(ایک سالہ) بیٹی زینب اقبال بی بی فاطمہ کے ہر لمحہ ناز اُٹھائے بلکہ مجھے بھی مطالعہ کی میز پر ہر وقت  موسم کے مطابق بہت اعلیٰ مشروبات اور دیگر اشیائے خوردو نوش سے نوازا اور میرے لیے گھر میں ہر طرح کی آسائش کا اہتمام کیا تاکہ مجھے مقالہ کے لکھنے میں آسانی رہے۔

راقم کا خیال ہے کہ بہ ظاہر یہ مقدمہ شاید مروّجہ طریقِ کار سے کچھ مختلف ہو، جسے راقم کا اجتہاد سمجھا جائے کیونکہ راقم کا یہ ماننا ہے کہ ہر تحقیق آنے والی لا تعداد تحقیقات کے لیے ایک دروازہ کھولتی ہے۔ سو میری دعا ہے کہ یہ تحقیق آنے والے دور میں محققین کے لیے راہنما ثابت ہو۔

طالبِ دعا

مجیب اللہ خان نیازی

متعلم ایم فل اردو

جامعہ سرگودھا

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں