0

سکول کا دوسرا دن اور راستے میں بابا سے چھترول…سلسلہء خود نوشت؛ میں تو جیسے پتھر تھا!

Mujeeb Niazi

میں نے زندگی میں پہلی بار چوتھی جماعت میں لکھا تھا۔ کیا لکھا تھا اس کی تفصیل پھر کسی موقع پر لیکن اتنا بتاتا چلوں کہ وہ ایک ”حزنیہ“ تھا اور قلم دوات کی مدد سے لکھا گیا تھا اور اپنی تخلیق کے فوراً بعد ہی ”پکڑا“ گیا تھا اور میں اس سے انکاری ہوگیا تھا لیکن میرے بڑے بھائی نے مجھے کہا کہ پچھلے دو گھنٹوں سے کمرے میں صرف میں اور آپ ہیں اور اس تحریر کی سیاہی ابھی خشک ہی نہیں ہوئی۔ بھلا آج کی بال پوائنٹ کی نسل کو کیا پتا کہ سیاہی خشک ہونے کا کیا مطلب ہوتا ہے۔ تحریر سے مکرنے کی وجہ اعتماد کی کمی تھی۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ اس تحریر پر مجھے داد ملے گی یا لعن طعن نصیب ہو گی اس لیے میں نے ممکنہ داد کے لالچ میں آنے کے بجائے یقینی لعن طعن سے بچنے کو وارے کا سودا سمجھا۔

محترم منور علی ملک صاحب
محترم منور علی ملک صاحب

تمہیدِ طویل کا مطلب ہے کہ یہ جو لکھنے کی بیماری ہے یہ بچپن سے ہی لاحق ہو گئی تھی۔ اس مرض کو وقت کے ساتھ ساتھ بڑھاوا ملتا رہا اور پھر میری جماعت اسلامی سے شناسائی، ایم اے اردو کرنا اور پھر ایم اے کے گیارہ سال بعد اچانک ایم فل کی طرف جا نکلنا ایسے سوانح ہیں جو میرے لکھنے کی حس اور خواہش کو مزید بڑھاتے رہے۔ اور سب سے ”کاری اور فیصلہ کن وار“ جنابِ منور علی ملک صاحب نے کیا کہ اُنھوں نے بندہء نا چیز کو ایک سے زیادہ بلکہ کئی بار کہا کہ تمہارے اندر لکھنے کی صلاحیت ہے لہٰذا تم لکھا کرو۔

لکھنے کے بعد اگرچہ ہمیشہ مجھے عجیب طرح کی تسکین حاصل ہوتی چاہے وہ تحریر اشاعت کی غرض سے لکھی گئی ہوتی یا ذاتی ڈائری کے لیے تاہم اب تمام تر ہمت کو مجتمع کرکے لکھنے کے آغاز کاسارا کریڈٹ میری اس تسکین اور خوشی کو نہیں جاتا بلکہ محترم منور علی ملک صاحب کو جاتا ہے کہ اب یہ سلسلہ اگر میں جاری رکھ سکا تو انھی کی ہمت افزائی کی بدولت ہوگا۔

آج ذکر کرتے ہیں میرے سکول جانے کے دوسرے دن میں پیش آنے والے واقعہ کا۔ میں نے سکول جانے کا آغاز لڑکیوں کے سکول گورنمنٹ گرلزپرائمری سکول مجید باغ سے کیا۔ لڑکوں کا سکول ڈھائی تین کلومیٹر دور تھا جبکہ یہ سکول ہمارے گھر سے کلومیٹر ڈیڑھ کلو میٹر کے فاصلے پر تھا۔ سکول میں دو معلمات تھیں۔پہلے دن انھوں نے مجھے تھوڑا سا سبق دیا۔ الف انار اور ب بکری۔ میں نے فوراً جا کر سبق سنا دیا اور نیا سبق لیا ۔ وہ بھی جا کر سنا دیا۔ حتیٰ کہ میں نے وہ قاعدہ پہلے ہی دن ے یکے تک سنا دیا۔ یعنی پہلے ہی دن قاعدہ ختم۔ دوسرے دن سکول جاتے ہوئے مجھے وہ قاعدہ ساتھ لے جانے کی بھلا کیا ضرورت تھی جو میں نے کل ہی سارا ختم کر لیا تھا۔ سکول جاتے ہوئے راستے میں میرے والد صاحب ہمارے ہالی(چاچا غلام محمد کلو) سے جوڑا لے کر ہل چلا نے کا شوق پورا کررہے تھے۔ ان کے پاس سے گزرا تو میں نے (کریڈٹ لینے کی غرض سے) والد صاحب سے کہا کہ میں سکول قاعدہ لے کر نہیں جا رہا۔ ہمارے والد صاحب ماشا ءاللہ سو فیصد” مشرقی باپ“ ہیں(مشرقی باپ کی سینکڑوں خصوصیات میں سے ایک نمایاں ترین خصوصیت یہ ہے کہ وہ کسی بھی معاملے پر بات چیت کا ایک چوتھائی سنیں گے اور چارگنا ردعمل دیں گے)۔ انھوں نے وجہ جاننے کی ضرورت محسوس کیے بغیر جوڑا ہالی کے سپرد کیا لیکن ہالی کو چھڑی واپس کرنا” بھول“ گئے۔اس چھڑی سے مجھے ہانکتے ہوئے واپس گھر تک لائے ۔ میں نے قاعدہ اٹھایا اور روتے روتے دوبارہ سکول کی راہ لی۔

مجھے اپنی قسمت اور بے بسی پہ بھی رونا آرہا تھا لیکن اتنی کم عمری میں الفاظ نہ تھے کہ میں اپنا مدعا صاف اور پورا بیان کر پاتا۔ جس بات کو میں نے اپنے لیے فخر جانا اور والد صاحب سے شاباش لینے کی غرض سے ان کے سامنے اظہار کیا وہی بات میرے لیے سزا کا سبب بن چکی تھی۔ میں حیران تھا کہ میری اس کارکردگی پر تو مجھے داد ملنی چاہیے تھی کہ پہلے ہی دن سارا قاعدہ ختم کر لیالیکن یہاں معاملہ الٹ ہے اورمجھے مار پڑرہی ہے۔

وہ کہتے ہیں نا کہ والدین کے ہر کام اور ہر فیصلے میں اللہ کی طرف سے برکت شامل ہو جاتی ہے۔اُس مار کا مجھے یہ فائدہ ہوا کہ میں نے عملی زندگی میں ہمیشہ اپنے شاگردوں، بچوں اور جن جن لوگوں کا معاملہ میرے سامنے احتساب کے لیے پیش ہوا میں نے انھیں ہمیشہ اطمینان کے ساتھ سنا اور جب اُن کی طرف سے بات ختم ہوجاتی ہے تو بھی میں باربار پوچھتا ہوں کہ اگر مزید کچھ کہنا ہے تو میں حاضر ہوں۔ میں آپ کی مزید بات سننے کو تیار۔ اس عادت کی بدولت مجھے اللہ نے یہ صلاحیت عطا کی ہے کہ آج تک کوئی میرے کان نہیں بھر سکاکیونکہ میں ہر فریق کو سنتا ہوں۔الحمدللہ میں آج تک کبھی سنی سنائی بات پر عجلت میں غلط فیصلوں کی شرمندگی سے دوچار نہیں ہوا۔ الحمدللہ…

تحریر کے عنوان کا آج کی اس تحریر سے شاید ربط آپ کو محسوس نہ ہو۔ یہ عنوان دراصل اُن دو درجن عنوانات میں سے ایک ہے جو میں اپنی خود سوانح عمری کو نام دینا چاہتا ہوں۔یہ عنوان اُس آزاد نظم کا ایک مصرع ہے جو کسی نے مجھ پر لکھی تھی۔ وہ پوری نظم نہ مجھے دستیاب ہے اور نہ ہی یاد۔ صرف چار مصرعے یاد ہیں جن میں سے ایک مصرع تحریر کا عنوان ہے۔ ان شاءاللہ آئندہ تمام تحریریں (اگر لکھی گئیں تو) مستقلاً اسی عنوان سے لکھی جائیں گی۔

اُس کے نرم ہاتھوں کی
بے زباں لکیروں کی
التجا کہاں سنتا!
میں تو جیسے پتھر تھا!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں