0

جب ایک فوجی افسر نے مرغا بنادیا… سلسلہ ء خود نوشت؛ میں تو جیسے پتھر تھا!

Mujeeb Niazi

بچپن میں ایک بار گرمیوں کی چھٹیوں میں ننھیال جانا ہوا تو وہاں میانوالی مسلم کالونی میں رہائش پذیر خالہ اور ماموں(مرحوم کرنل ریٹائرڈ عبداللہ خان نیازی)بھی آئے ہوئے تھے۔اُن دنوں ماموں عبداللہ فوج میں شاید میجر تھے۔ وہاں جب ہم رشتہ دار لڑکے اکٹھے ہوئے تو یہ پروگرام بنا کہ ہمارے گھر(ڈیرہ نجیب اللہ جو موچھ سے تقریباً 5کلومیٹر کے فاصلے پر میانوالی کالاباغ روڈ کے مشرق میں واقع ہے) چلتے ہیں تاکہ وہاں پر ہمارے رقبے کے درمیان میں سے گزرنے والی ندی پر نہا سکیں۔ اس کارِ خیر کی مشاورت میں کلیدی کردار ہمارے فوجی افسر ماموں کے صاحبزادے زبیر عبد اللہ خان (جو اس وقت بریگیڈیئر ہیں۔)،راقم اور ہمارے خالہ زاد بھائی طارق مسعود خان(جو ڈاکٹر ہیں اور اس وقت NESCOM ہاسپٹل اسلام آباد ہوتے ہیں) نے ادا کیا تھا جبکہ پسِ پردہ موسیقی میں چند دیگر افراد تھے. اس کے علاوہ ایک فسادی اور مخبر گروہ بھی تھا جس نے اس خفیہ منصوبے کو ہماری ماﺅں تک پہنچانے کا فرض ادا کیا تھا۔ان کا دکھ یہ تھا کہ وہ بہت چھوٹے تھے اور ہم نے انھیں ساتھ لے جانے سے انکار کردیا تھا. نتیجتاً انھوں نے نہ کھیڈاں گے نہ کھیڈنڑ دیواں گے کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے یہ راستہ چنا تھا.

کامیاب مشاورت کے بعد ہم اُس مٹھی بھر شر پسند اقلیت کی پروا کیے بغیراپنی ماﺅں سے چھپ کربے سروسامانی کے عالم میں(پیدل) ڈیرہ نجیب اللہ کی طرف چل دیے۔ ابھی موچھ شہر میں ہی تھے کہ زبیرنے کہا:
” اوئے میں تو نہیں آتا۔ ابو کو پتا چلا تو وہ ماریں گے۔“ یہ کہتے ہی اُس نے قافلہ راہِ حق کا ساتھ چھوڑ دیا۔ باقی مسافرانِ حق چلتے رہے حتیٰ کہ ڈیرہ نجیب اللہ پہنچ گئے۔ گھر سے نیکریں اٹھائیں اور ندی نالے پر پہنچ گئے۔

اُدھر دوسری طرف وہ مٹھی بھر اقلیت اپنا کام دکھا چکی تھی اور اُس نے ہماری ماﺅں کو خوب بڑھ چڑھ کر مرچ مسالہ لگا کر ہمارے مشن کی خبر فاش کردی۔ تینوں ماﺅں نے آسمان سر پر اٹھا لیا۔ ماموں جان جو گھر سے باہر تھے جیسے ہی گھر پہنچے انھیں اپنی بیگم اور بہنوں نے ہمارے اقدام کی خبر سنائی۔ماموں جو فوج میں جانے سے قبل بھی مکمل فوجی تھے اور اب تو باضابطہ فوج میں میجر یا کرنل تھے وہ بھلا کسی مہم پر جانے سے کیسے گھبراتے۔

اُن دنوں محلے میں کسی سے سائیکل کا ملنا بھی اتنا آسان نہ تھا لیکن ہماری بد نصیبی کہ موچھ میں ایوب سائیکل ورکس کے نام سے ایک دکان ہوتی تھی جو کرائے پر سائیکلیں دیا کرتے تھے۔ خدا جانے ماموں نے وہاں سے مفت میں یا کرائے پر سائیکل لی تھی۔ بہر حال وہ ہماری طرف چل دیئے۔

اِدھرہم ٹھنڈی ندی کے گدلے پانی میں غوطہ زن تھے کہ اچانک کسی بدخبرے نے آواز لگائی:
”اوئے! ماموں آگئے ہیں۔“ کیا دیکھتے ہیں کہ ماموں جان سائیکل سے اتر رہے ہیں۔ انھوں نے سائیکل سے اترتے ہی شیشم کے ایک درخت سے چھڑی توڑی اور ہمیں ”فالن“ کا حکم سنایا۔ دوسرا فرمان جاری ہوا کہ مرغے بن جائیں۔ ہم تمام بلاچون و چراہ با جماعت مرغے بن گئے۔ اس کے بعد شیشم کی چھڑی ہماری تشریفوں پر برسنے لگی۔ اگلے مرحلے میں ہم زمین پر ناک سے لکیریں کھینچ رہے تھے۔

لیفٹینینٹ کرنل (ر) عبداللہ نیازی

ان تمام مناسکِ ضروریہ کے بعد ہمارے لیے فرمان جاری ہوا کہ ہم والدہ محترمہ کے موچھ سے واپس آنے تک خود کو گھر میں(ڈیرہ نجیب اللہ پر) مقید کرلیں جبکہ دیگر مہم جوﺅں کو وہ اپنے ساتھ واپس موچھ لے گئے۔

زمین پر ناک رگڑنے اور تشریف مبارک پر چھڑیاں کھانے کی جلن نے دوچار دن ہمارا پیچھا کیا۔ تاہم دلچسپ اور اطمینان بخش صورتِ حال اُس وقت پیش آئی جب ہمیں تین چار دن بعد میانوالی خالہ کے گھر مسلم کالونی جانا پڑا اور وہاں ہم سے مذکورہ واقعہ میں ملوث خالہ زاد بھائی ڈاکٹر طارق مسعود خان نیازی نے انتہائی رازداری سے سوال کیا کہ کیا آپ بھی کرسی یا چارپائی پر بیٹھتے ہیں تو آپ کو تکلیف ہوتی ہے؟ میں اپنی شرمیلی فطرت کے باعث اسے ہاں تو نہ کہہ سکا تاہم دل کو یہ تسلی ضرور ہوگئی کہ اس تکلیف میں مبتلا میں اکیلا نہیں ہوں بلکہ:
تیری میری ایک کہانی۔۔۔

اُس وقت یہ سزا اور ماموں ہمیں زہر لگے تھے لیکن جوں جوں عمر بڑھتی گئی تو معلوم ہوا کہ جو بڑے آپ کی کسی سنگین غلطی پر آپ کو سزا دیتے ہیں تو وہ آپ کے بے پناہ خیر خواہ ہوتے ہیں ۔ یہاں پر تو معاملہ عام سزاسے قدرے زیادہ اہمیت کا حامل تھا کہ ایک فوجی افسر اپنے سٹیٹس کا خیال رکھے بغیر پیدل 5کلومیٹر کے سفر پر چل نکلے اور راستے میں سائیکلوں کی کسی دکان سے سائیکل پکڑی اور بچوں کو سزا دی۔ کیا آج کسی کے پاس اتنا وقت ہوگا کہ وہ بھانجوں کی اصلاح کے لیے اتنا تردد کرے!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں