
کالم نمبر:1
مطبوعہ روزنامہ ”جسارت” کراچی،4/ستمبر1981ء
سُخن دَرسُخن ۔۔۔خامَہ بگوش (مشفق خواجہ)کے قلم سے
نظیرصدیقی (1)کی آمد ورفت:
بیشتر نقاد، کم کم انشائیہ نویس اور جزوقتی شاعر نظیر صدیقی کراچی(2) میں ایک مہینے سے زیادہ قیام کرنے کے بعد اسلام آباد(3) واپس چلے گئے۔ اس دوران موصوف نے بے شمار استقبالیوں، شعری نشستوں اور نثری محفلوں میں شرکت کی جن میں نثری نظم کی خوبیوں اور خامیوں پر بے نتیجہ بحثیں ہوئیں۔ شعری نشستوں کی صدارت عموماً نظیر صدیقی نے کی اور صدر کے اختیارات خصوصی سے کام لیتے ہوئے اپنا مجموعہء کلام ”حسرت ِاظہار(4)“ پورے کا پورا سناتے رہے۔ اوراگر حسرت اظہار پھر بھی باقی رہ جاتی تھی تو غیر مطبوعہ کلام سنا دیتے تھے جو اس مقصد کے لیے انھوں نے ایک ضخیم بیاض میں لکھ رکھا تھا۔ ایک نشست میں یہ دونوں چیزیں سنانے کے بعد بھی کچھ وقت بچ رہا تو نظیر صاحب نے پسندید ہ کلام سنا ڈالا۔ یہ کلام محبوب خزاں(5) اور پروین شاکر(6) کا تھا جو موصوف کے پسندیدہ شعراء ہیں۔ کراچی میں نظیر صاحب کے قیام کے بعض خاص خاص واقعات جو ہم تک پہنچے ہیں وہ نذرِِ قارئین کئے جاتے ہیں:
نظیر صدیقی کے احباب نے ٹھٹھہ(7) کی سیر کا پروگرام بنایا۔ مقصد یہ تھا کہ مکلی(8) کے قبرستان میں ”حسرت ِاظہار“ کا ایک نسخہ دفن کردیا جائے گا کہ اس کتاب کا ادب کی تاریخوں میں ذکر آ جائے۔ معلوم نہیں اس منصوبے پر عمل ہو سکا یا نہیں۔
نظیر صدیقی نے ”تخلیقی ادب(9)“ میں گزشتہ دس برسوں کی غزل پر جو مضمون لکھا ہے ادبی حلقوں میں اس کا بہت چرچا ہے۔ بہت سے شاعروں نے اس سلسلہ میں اپنی شکایات اور بعض نے اپنے دواوین بھی پیش کئے۔ ایک غزل گوجن کے کلام کی خوبیاں ان کے تخلص کی طرح سربستہ راز کی حیثیت رکھتی ہیں اور جو ایک اخبا رمیں ادبی ڈائری بھی لکھتے ہیں، انھوں نے ایک محفل میں نظیر صاحب کا بازو پکڑ کر کہا: آپ نے اپنے مضمون میں میرا ذکر کیوں نہیں کیا؟” نظیرصاحب نے فوراً جواب دیا: ”میں اتنے دنوں سے کراچی میں ہوں، ہر روز میرے اعزاز میں کوئی نہ کوئی تقریب ہوتی ہے۔ لیکن آپ نے اپنی ڈائری میں میرا ذکر نہیں کیا۔ چلیے حساب برابر ہوگیا۔“
افسر ماہ پوری(10) بھی غزل گوشاعر ہیں اور نظیر صدیقی کے نہایت قریبی دوست ہیں۔ نظیر صاحب نے اپنی ایک تازہ کتاب انھیں کے نام معنون کی لیکن غزل والے مضمون میں ان کا کوئی ذکر نہیں۔ افسر صاحب نے شکایت کی: ”جب غزل والے مضمون میں ذکر نہیں کیا تو کتاب میرے نام معنون کرنے کی کیا ضرورت تھی؟“ نظیر صاحب نے جواب دیا: ”مضمون بہت طویل ہوگیا تھا، اس لیے گنجائش نہ نکل سکی، کتاب میں ایک صفحہ سادہ بچ رہا تھا، اسے کسی نہ کسی کام تو لانا ہی تھا۔“
ایک محفل میں کسی دوست نے نظیر صدیقی سے پوچھا: ”آپ محبوب خزاں ؔ کو میر ؔ(11) سے بڑا شاعر کیوں سمجھتے ہیں؟“ نظیر نے جواب دیا: ”وہ واقعی میرؔ سے بڑے شاعر ہیں۔“ اور پھر نظیر نے سوال کرنے والے دوست سے پوچھا: ”آپ محبوب خزاں کو کیسا شاعر سمجھتے ہیں؟“ دوست نے جواب دیا: ”ویسا شاعر جیسے آپ خود ہیں۔ بس انیس19 بیس20 کا فرق ہے۔“ ”انیس کون ہے اور بیس کون؟“ نظیر نے پوچھا: دوست نے جواب دیا:”یہ آپ دونوں قرعہ اندازی سے فیصلہ کرلیجئے۔“
عطا ء الحق قاسمی(12) کی تشنگی:
جنوب مشرقی ایشیا(13) کے ممتاز شاعر جناب عالمتاب تشنہ(14) نے ایک اخباری انٹرویو میں کہا ہے کہ عطاء الحق قاسمی نے ان سے پندرہ غزلیں طلب کی ہیں جنہیں وہ اپنے رسالے ”معاصر“(15) میں شائع کرنا چاہتے ہیں۔ تشنہ صاحب نے اس فرمائش کی تعمیل نہیں کی کیونکہ انہیں غزلوں کی اشاعت سے دل چسپی نہیں ہے۔ عطاء الحق قاسمی نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بیان میں نصف صداقت ہے۔ تشنہ صاحب سے غزلیں میں نے نہیں ”معاصر“ کے ایڈورٹائزنگ مینیجر نے طلب کی تھیں۔
نمود(16) یا نمود بے بود:
شاعر، نقاد اور اردو کے استاد سحر انصاری(17) آج کل کتابوں کی رونمائیوں میں بے حد مصروف ہیں۔ ہر کتاب کی تقریبِ رونمائی میں وہ ضرور مقالہ پڑھتے ہیں۔ بلکہ بعض اوقات تو وہ کسی کتاب کی اشاعت کی خبرسن کرہی مقالہ لکھ لیتے ہیں اور مصنف کو ورغلاتے ہیں کہ وہ اپنی کتاب کے لیے تقریب کا اہتمام کرے۔ سننے میں آیا ہے کہ انصاری صاحب اپنے ”تقریبی“ مقالات کا مجموعہ مرتب کر رہے ہیں۔ اس کا نام ”نام و نمود“ ہوگا۔ واضح رہے کہ انصاری صاحب کے مجموعۂ کلام کا نام ”نمود“ ہے لیکن بے تکلف احباب میں ”نمو د بے بود“ کے نام سے مشہور ہے۔
نصراللہ خان(18) کی واپسی:
اردو کے واحد مقبول کالم نگار جو صدر ریگن(19) کو ان کی کامیابی پر مبارک باد دینے کے لیے امریکہ(20) گئے تھے، واپس کراچی پہنچ گئے ہیں۔ خان صاحب کا جہاز جب کراچی ایئر پورٹ(21)پر اُترا تو وہاں کچھ اخباری نمائندے بھی کسی کام سے آئے ہوئے تھے۔ خان صاحب نے موقع غنیمت جان کر ان سے کہا: ”لگے ہاتھوں یا رنگے ہاتھوں میرا انٹرویو بھی لے لو۔“ اخباری نمائندوں اور خان صاحب میں جو گفت گو ہوئی اس کا بڑا حصہ نا قابل اشاعت ہے۔ چند قابلِ اشاعت سوال و جواب نذرِ قارئین ہیں:
سوال:- آپ جس اخبا ر میں لکھتے ہیں، اس میں کچھ تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ اس سلسلے میں آپ کا کیا خیال ہے؟
جواب:- تبدیلیاں تو اس وقت ساری دنیا میں رونما ہورہی ہیں، اخبار کی تبدیلیاں اخبار کے فکاہیہ کالم کی طرح دل چسپ ہوتی ہیں۔ یہ کوئی ایسا مسئلہ نہیں جس پر اظہارِ خیال کیا جائے۔
سوال:- آپ کی عدم موجودگی میں دو مشہور ادیبوں کو کالم نگاری پر مامور کیا گیا ہے!
جواب:- یہ سب کچھ کئی بار میری موجودگی میں بھی ہوچکا ہے۔ یہ اچھی بات ہے۔ اخبار کی اشاعت میں نہیں تو کالم نگاروں کی تعداد میں اضافہ ضرور ہونا چاہیے۔
سوال:- ان کے کالم آپ کے کالم کے اوپر چھپتے ہیں!
جواب:- اچھا ہے کہ یہ اوپر ہی سے گزر جائیں۔
سوال:- کیا ان کالم نگاروں کی وجہ سے اخبار کی اشاعت بڑھے گی؟
جواب:- جب گزشتہ 25 برسوں میں ان ادیبوں کی کتابوں کے پہلے ایڈیشن ہی فروخت نہیں ہوئے تو۔۔۔
حواشی و تعلیقات مع حوالہ جات کالم نمبر 1
1۔ نظیر صدیقی: 1930 ء میں موضع سرائے ساہو، ضلع چھیرا صوبہ بہار ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ 1946 ء میں پٹنہ یونی ورسٹی سے میڑک اور1948ء میں میاں صاحب جارج اسلامیہ انٹر کالج گورکھ پور سے انٹر پاس کیا۔ ڈھاکہ یونی ورسٹی سے بی اے اور ایم اے اردو کے امتحانات پاس کیے۔ نوب پور گورنمنٹ ہائی سکول میں ملازمت اختیار کر لی۔
1969ء میں کراچی آئے۔ آپ کی تصانیف میں ”شہرت کی خاطر“،”تاثرات و تعصبات“، ”میرے خیال میں“ مجموعۂ کلام ”حسرتِ اظہار“۔ شخصی خاکے ”جان پہچان“، ”اردو غزل۔ ایک مطالعہ“ اور”عندلیب شادانی شخصیت اور فن کا مطالعہ“ شامل ہیں۔
(یاسر جواد انسائیکلوپیڈیا ادبیات عالم،اسلام آباد: اکادمی ادبیات پاکستان، 2013ء،ص: 918)
2۔ کراچی: پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے۔ صوبہ سندھ کا دارالحکومت او رکراچی ڈویژن کا صدر مقام ہے۔ یہاں بین الاقوامی ہوائی اڈا موجود ہے۔ پاکستان کے جنوب مغرب میں بحیرۂ عرب کے کنارے آباد ہے۔ اس کے قریب ہی دریائے سندھ ڈیلٹا بناتا ہوا سمندر میں گرتا ہے۔کراچی بندرگاہ کا شماردنیا کی بہترین بندرگاہوں میں ہوتا ہے۔ یہ بندر گاہ کیماڑی کے مقام پر740 ایکٹر رقبے پر پھیلی ہوئی ہے۔ کراچی میں کئی یونی ورسٹیاں موجود ہیں۔ کراچی صوبہ سندھ کا ایک ڈویژن اور دارالحکومت ہے۔ یہ پانچ اضلاع؛ مغربی کراچی، مشرقی کراچی، جنوبی کراچی، وسطی کراچی، اور ملیر میں منقسم ہے۔ یہاں کی بلدیہ میٹرو پولیٹن کارپوریشن ملک کی سب سے بڑی بلدیہ ہے اور ا س کےتحت متعدد میونسپل کمیٹیاں ہیں۔
(اردو انسائیکلو پیڈیا لاہور: فیروز سنز پرائیویٹ لمٹیڈ، 2005ء، ص: 1122)
3۔ اسلام آباد: اسلامی جمہوریہ پاکستان کا دارلحکومت ہے۔ راولپنڈی سے بجانب شمال سطح مرتفع پوٹھوار پر واقع ہے۔ رقبہ 351 مربع میل ہے۔ فروری 1959 ء میں پاکستان کےصدر ایوب کے قائم کمیشن نے دارالحکومت کے لیے موجودہ جگہ کا انتخاب کیا او رفروری 1960 ء میں اس کا نام اسلام آباد رکھا گیا۔1961ء میں تعمیراتی کام کے ساتھ ساتھ یہاں وفاقی حکومت کے دفاتر منتقل ہونا شروع ہوئے۔شہرمختلف سیکٹروں (علاقوں)میں منقسم ہے۔ انتظامی سیکٹروں میں ایوانِ صدر، سکریٹریٹ، قومی اسمبلی، اورسپریم کورٹ وغیرہ کی عمارات ہیں۔اسلام آباد میں پانچ یونی ورسٹیاں؛ قائدا عظم، علامہ اقبال، بین الاقوامی اسلامک انٹر نیشنل یونی ورسٹی، یونی ورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے علاوہ نمل یونیورسٹی بھی موجود ہے۔
(اردو انسائیکلو پیڈیا لاہور: فیروز سنز پرائیویٹ لمٹیڈ، 2005ء، ص:131)
4۔ ”حسرتِ اظہار“: نظیر صدیقی کا شعری مجموعہ جو 1977ء میں زیورِطباعت سے آراستہ ہوا۔
(یاسر جواد انسائیکلوپیڈیا ادبیات عالم،اسلام آباد: اکادمی ادبیات پاکستان، 2013ء،ص: 918)
5۔ محبوب خزاں: کا اصل محمد محبوب ہے۔ ضلع بلیہ یوپی کے قصبے چند ائیر میں پیدا ہوئے۔ گورکھ پور سے بی اے پاس کیا۔پھر 1952 ء میں سی ایس پی کے محکمہ آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس میں ملازمت اختیار کی۔ وہ صوبہ سندھ کے اکاؤنٹنٹ جنرل کی حیثیت سے 1990ء میں ریٹائر ہوئے۔ کراچی میں سکونت اختیار کی ایک شعری مجموعہ ”اکیلی بستیاں“ بھی منظر عام پر آیا۔
(یاسر جواد انسائیکلوپیڈیا ادبیات عالم،اسلام آباد: اکادمی ادبیات پاکستان، 2013ء،ص: 858)
6۔ پروین شاکر: 1952ء میں کراچی میں پیدا ہوئیں۔ اصل نام سیدہ پروین شاکر تھا۔ کراچی یونی ورسٹی سے انگریزی ادب اورلسانیات میں ایم اے کی ڈگریاں حاصل کیں۔ بینک ایڈمنسٹریشن میں ایم اے کی ڈگری بھی حاصل کی۔ مقابلہ کے امتحان کے بعد وہ کسٹم اور ایکسائز کے محکمہ میں ڈپٹی کلکٹر کسٹم کے عہدے پر فائز ہوئیں۔ تصانیف میں ”خوشبو“،”صدبرگ“، ”خود کلامی“، اور ”انکار“ شامل ہیں۔ 26 دسمبر 1994ء کو اسلام آباد میں ایک ٹریفک حادثے (پروین شاکر کی کار ایک بس سے ٹکرائی تھی) میں فوت ہوئیں۔
(یاسر جواد انسائیکلوپیڈیا ادبیات عالم،اسلام آباد: اکادمی ادبیات پاکستان، 2013ء،ص 594)
7۔ ٹھٹھہ: کراچی سے 50 میل مشرق کی طرف سندھ کے ڈیلٹا پر آباد ایک شہر اور ضلعی صدر مقام ہے۔ پرانا شہر موجودہ شہر سے تین میل شمال مغرب کی طرف ہے۔ اسی شہر کے آثار ملحقہ پہاڑیوں پر اور ان کے دامن میں اب بھی موجود ہے۔ پرانے اور نئے شہر کے درمیان ایک بہت بڑا قبرستان ہے۔ پندرہویں صدی میں ٹھٹھہ کی شان و شوکت عروج پر تھی۔ ٹھٹھہ کے مقام پر شاہ جہانی مسجد اور دیگر مساجد و مقابر کی مینا کاری مسلم عہد حکومت میں آرٹ کی ترقی کی ترجمانی کرتی ہے۔
(اردو انسائیکلو پیڈیا لاہور: فیروز سنز پرائیویٹ لمٹیڈ، 2005ء، ص: 510)
8۔ مَکلی کا قبرستان: سندھ کا ایک قدیم مقام، ٹھٹھہ سے جانب مغرب ایک پہاڑی کا نام ہے جو دو میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ چھ مربع میل رقبہ پر پھیلا ہوا ایک عظیم شہرِ خموشاں ہے۔ اس کا واسطہ ماضی کی400 سالہ پرانی تہذیب سے ہے۔ جس میں سندھ کے سمہ، ارغوں، اور اتر خان خانوادوں، مغل گورنروں، مشاہیر اور اولیاء کے مقبرے واقع ہیں۔ عمارتیں اینٹوں یا پتھروں کی ہیں جو جنوبی سندھ کی چار سوسال کی تاریخ کا بیش قیمت خزانہ ہیں۔ یہاں ایک مسجد بھی ہے۔
(اردو انسائیکلو پیڈیا لاہور: فیروز سنز پرائیویٹ لمٹیڈ، 2005ء، ص: 1346)
9۔ ”تخلیقی ادب“: اگرچہ کتابی سلسلہ تھا لیکن اس کی صورت ادبی رسائل جیسی تھی۔ مشفق خواجہ نے 1980ء میں اس کی پہلی کتاب میں لکھا کہ ایک غیر ملکی دوست کی فرمائش پر گزشتہ دہائی کے ادب کا ایک جائزہ مرتب کرنےکا خیال پیدا ہوا۔ اس سلسلے میں اہلِ قلم نے تعاون کیا، تو انھوں نے غیر مطبوعہ تخلیقی تحریروں او رعالمی ادب کے تراجم کو بھی اشاعتی منصوبے میں شامل کر لیا۔ بودلیئر،وٹمین، ہارڈی، ہیمنگو ے کے تراجم کے علاوہ انشائیہ او رخودنوشت کو بطور خاص اہمیت دی گئی۔
”تخلیقی ادب“کی دوسری جلد دس سالہ ادب کے جائزوں کے لیے مخصوص کی گئی۔”تخلیقی ادب“ کے تیسرے شمارے پر کراچی سے مشفق خواجہ نے رسالہ ”اسلوب“ جاری کیا۔ اسلوب کا ہر شمارہ ایک مکمل کتاب کی صورت شائع ہوتا رہا۔ تخلیقی ادب کے آخری تین شمارے خاص نمبروں کی صورت”اسلوب“کے زیر اہتمام شائع ہوئے۔
(یاسر جواد انسائیکلوپیڈیا ادبیات عالم،اسلام آباد: اکادمی ادبیات پاکستان، 2013ء،ص: 601)
10۔ افسر ماہ پوری: اردو کے ممتاز شاعر، ادیب، نقاد او رمترجم تھے۔ آپ کا اصل نام ظہیر عالم صدیقی تھا۔ آپ یکم دسمبر 1918ء ماہ پور ضلع چھپرہ (بہار) میں پیدا ہوئے۔ اردو کے علاوہ بنگلہ او رانگریزی میں بھی لکھتے رہے۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد پاکستان کراچی آگئے۔ شعری کتب میں ”غبار ماہ“، ”نگارماہ“، ”طور سے حرا تک“ (نعت)، ”جام کوثر“ (نذر الاسلام کی نظموں کا ترجمہ) شامل ہیں۔ 15فروری1995ء کو کراچی میں وفات پائی اور کراچی میں ہی تدفین ہوئی۔
(ڈاکٹر منیر احمد سلیچ، وفیات ناموران پاکستان، اردو سائنس بورڈ،2005ء، ص: 143 اور وکیپیڈیا ویب سائیٹ)
11۔ میر تقی میر: 1722ء کو آگرہ میں پیدا ہوئے۔کچھ کتابوں میں ان کی پیدائش 1723ء بھی درج ہے۔ان کے والد میر متقی میرؔ کے بچپن میں ہی داغِ مفارقت دے گئے۔میر متقی کے دوست امان اللہ کے زیر سایہ بھی میر کا کچھ وقت گزرا۔ دہلی کے اجڑنے کے بعد وہاں میر تقی میر ایسے تخلیق کار کا دہلی میں رہنا بہت مشکل ہوگیا۔ 1782ء میں لکھنؤ کے نواب آصف الدولہ کے پاس چلے گئے۔ میرؔ اپنے وقت کے نمائندہ شاعر تھے۔ میر تقی میر ؔنے1810ء میں لکھنؤ میں وفات پائی۔
(ہارون الرشید تبسم، 100 عظیم شاعر اور نثر نگار لاہور:مقبول اکیڈمی2016، ص: 13)
12۔ جنوب مشرقی ایشیا: آبادی، رقبے اور جغرافیائی نقطہ نگاہ سے جنوبی ایشیاء دنیا کا ایک نہایت ہی اہم اور گنجان آباد خطہ ہے۔ جو دنیا کی کل آبادی کا تقریباً 25 فیصد ہے۔ اس خطے میں افغانستان، پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا، بھوٹان، نیپال او رمالدیپ وغیرہ شامل ہیں۔
(جغرافیہ، پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ لاہور، ص: 63)
13۔ عالمتاب تشنہ: اصل نام سید عالمتاب تھا۔ آپ 1935 ء میں میرٹھ یوپی میں پیدا ہوئے۔ اردو کے ممتاز ادیب، شاعر اور مترجم تھے۔اور تقسیم ہند کے وقت پاکستان کی طرف ہجرت کرکے کراچی میں آباد ہوئے۔آپ نے کاروبار کیا او رعالم گروپ آف کمپنیز کے چیئر مین و منیجنگ ڈائر یکٹر رہے۔ آپ آرٹس کونسل کراچی کے صدر بھی تھے۔ آپ کے شعری مجموعے ”موج موج تشنگی“ (1978 ء) اور ”آئینے کے اس طرف“ (1985 ء) شائع ہوئے۔ شیکسپیئر کے ڈرامے”اے مڈ نائٹ ڈریم“ کا ”خوابِ نیم شب“کے نام سے اردوترجمہ کیا۔
(یاسر جواد انسائیکلوپیڈیا ادبیات عالم،اسلام آباد: اکادمی ادبیات پاکستان، 2013ء،ص: 763)
14۔ عطا الحق قاسمی: 1943 ء کو امرتسر میں پیدا ہوئے ۔ ایم اے او کالج سے گریجوایشن کی۔ ایم اے اردو اسلامیہ کالج لاہور سے کیا۔ مسلسل 48 برس سے اپنا کالم لکھ رہے ہیں۔ ایم ا ے او کالج لاہو رمیں اردو کے لیکچرر رہے۔ مارچ 1997ء میں ناروے کے سفیر بنے۔ طنز و مزاح پر مبنی ان کی کئی کتب شائع ہوچکی ہیں۔ سفرنامے ”شوقِ آوارگی“، ”گوروں کے دیس میں“،”دنیا خوبصورت ہے“۔ اردو کالموں میں ”سرگوشیاں“، ”دھول دھپا“ اور ”روزنِ دیوار سے“جب کہ طنز و مزاح میں خاص طور پر ”جرمِ ظریفی“ ، ”عطائیے“، ”خندمکرر ”بازیچۂ اعمال“ شامل ہیں۔ ٹی وی کے کئی ڈرامے بھی لکھے۔
(یاسر جواد انسائیکلوپیڈیا ادبیات عالم،اسلام آباد: اکادمی ادبیات پاکستان، 2013ء ص: 780)
15۔ معاصر: ایک رسالہ جواکتوبر 1979 ء میں لاہور سے حبیب اللہ خان نے ”معاصر“ کے نام سے جاری کیا تو اسے غیر مطبوعہ تحریروں کا مجموعۂ نظم و نثر شمار کیا گیا۔ اس کے مدیرانِ اعزازی عطا الحق قاسمی او رسراج منیر تھے۔ ”معاصر“ کی ضخیم ادبی دستاویز میں ادب اور نظریہ دونوں نظر آتے ہیں۔ ”معاصر“ نے جدید شعراء کے تعارف میں نمایاں دل چسپی لی۔ کافی عرصہ سے مطلعِ ادب پر نمودار نہیں ہوا۔
(یاسر جواد انسائیکلوپیڈیا ادبیات عالم،اسلام آباد: اکادمی ادبیات پاکستان، 2013ء،ص: 884)
16۔ سحر انصاری:1941 ء میں اورنگ آباد(دکن) میں پید ا ہوئے۔ ان کا اصل نام انور مقبول انصاری ہے۔ ان کا آبائی وطن امروہہ ہے۔ 1950ء میں والدین کے ہمراہ کراچی چلے آئے۔ جامعہ کراچی سے انگلش ادب، اردو ادب، اور لسانیات میں ایم اے کی اسناد حاصل کیں۔ شاعری میں جالب مراد آبادی کے شاگرد ہوئے۔ مندرجہ ذیل تصانیف شائع ہو چکی ہیں: ”خدا سے بات کرتے ہیں“، ”دھنک تال“ ترجمہ اور ”نمود“
(یاسر جواد انسائیکلوپیڈیا ادبیات عالم،اسلام آباد: اکادمی ادبیات پاکستان، 2013ء، ص: 699)
17۔ نمو د:سحر انصاری کے کلام کا مجموعہ ہے۔
(مشفق خواجہ، سخن در سخن، روزنامہ، جسارت، کراچی، 4ستمبر1981ء)
18۔ ریگن: 1911 ء کو قصبہ ٹمپیکو (ریاست اِلی نوئے) میں پیدا ہوئے۔ امریکہ کے 40 ویں (1981ء تا 1989ء) صدر تھے۔ والد آئر لینڈ سے ترک وطن کر کے امریکہ آئے تھے او رجوتوں کا کاروبار کرتے تھے۔1932ء میں یوریکا کالج سے گریجوایشن کی۔1937 ء میں فلم ساز ادارے وارنر برادرز سے وابستہ ہوئے۔ جنگ عظیم دوم میں فضائیہ میں خدمات انجام دیں۔ 1946 ء میں فوج سے سبکدوش ہوئے اورپھر فلمی دنیا سے منسلک ہوگئے۔54فلموں میں کام کیا۔1965 ء میں عملی سیاست میں حصہ لیا۔ نومبر 1980ء میں ری پبلکن پارٹی کے ٹکٹ پر صدارتی انتخاب میں حصہ لیا۔ مسٹر جمی کارٹر کو ہرا کر امریکہ کے صدر چنے گئے۔
(اردوانسائیکلوپیڈیا، فیروز سنز (پرائیویٹ) لمٹیڈ لاہور، کراچی، 2005 ء ص: 772)
19۔ امریکہ: ریاست ہائے متحدہ، براعظم شمالی امریکہ کی ایک وفاقی جمہوریہ، جو (ہوائی، او رالاسکائی ریاستوں کو چھوڑ کر) کیلیفورنیا تک پھیلی ہوئے ہے۔ اسے عام طور پر امریکہ کہا جاتا ہے۔ رقبہ 3618770 مربع میل ہے۔ دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی اور سب سے بڑا شہر نیویارک ہے۔ دیگر شہروں میں شکاگو، لاس اینجلس، فلاڈ لفیا، ہوسٹن، ہالٹی اور ڈائیگو شامل ہیں۔
(اردوانسائیکلوپیڈیا، فیروز سنز (پرائیویٹ) لمٹیڈ لاہور، کراچی، 2005 ء ص: 195)
20۔ نصر اللہ خان: طنز و مزاح نگار، ممتاز صحافی اور کالم نگار مشہور ہوئے۔ آپ11نومبر 1920 ء کو خواجہ محمد عمر کے ہاں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم امرتسر میں حاصل کی۔ پرائیویٹ امیدوار کی حیثیت سے ایف اے کیا اور بی اے کرنے کے بعد اجمیر چلے گئے۔ 1947 ء میں ناگ پور سے ایم اے اردو کیا۔ جیکب لائنز گورنمنٹ ہائی امرتسر میں ملازمت اختیار کی۔ مولانا ظفر علی خان کی وساطت سے صحافت میں آئے۔ امروز میں کالم نگاری کا آغاز کیا۔ ریڈیو کی ملازمت اختیارکر لی۔ ریڈیو کے لیے ڈرامے بھی لکھے۔ روزنامہ ”حریت“ میں کالم لکھے۔ ”حریت“ کےلیے انھوں نے 16 ہزار کالم لکھے۔6 ہزار کالم نوائے وقت کے لیے لکھے۔ حکومت پاکستان کی طرف سے تمغہ برائے حسنِ کارکردگی سے نواز ا گیا۔
(اردوانسائیکلوپیڈیا، فیروز سنز (پرائیویٹ) لمٹیڈ لاہور، کراچی، 2005 ء ، ص:414)
21۔ کراچی ائیر پورٹ: کراچی ائیر پورٹ کا نام جناح انٹرنیشنل ائیر پورٹ کراچی ہے۔ پاکستان کا سب سے بڑا ائیر پورٹ ہے۔ سندھ کے سب سے بڑے شہرے اور دارالحکومت میں واقع ہے۔ یہ ائیر پورٹ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے نام سے منسوب ہے۔
(جغرافیہ، پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ لاہور، ص : 87)