0

ہنڑ ڈر گیا ایں! ایک ڈسپنسر سے دل چسپ مکالمہ

Mujeeb Niazi
تحریر: مجیب اللہ خان نیازی

ہم نے کئی بار خون کا عطیہ دیا مگر کسی کو بتایا نہ اُس کو کبھی فیس بک پر پوسٹ کیا۔ آج مگر خون عطیہ کرتے وقت ایک دِل چسپ واقعہ پیش آیا تو سوچا آپ کو بھی اُس سے محظوظ ہونے کا موقع فراہم کر دیا جائے۔ آج ہم خون کے عطیے کے لیے سٹی میڈیکل کمپلیکس  میانوالی پہنچے تو  کراس میچ کے لیے مصباح نامی لیب اہل کار نے  ہم سےعمر پوچھی۔ ہم نے  اپنی عمربتائی تو اُس نے کہا کہ اِس عمر میں ڈاکٹرز خون دینے سے منع کرتے ہیں۔ ہم نے کہا کہ ہم  خود کو نوجوان سمجھتے ہیں لہٰذا ہمیں کوئی پروا نہیں۔ آپ بلا تامل ہم سے عطیہ وصول کریں۔ بات آئی گئی ہو گئی۔ پندرہ بیس منٹ بعد کراس میچنگ کی رپورٹ آئی تو ہمیں عطیہ لینے کے لیے سٹریچر پر لیٹنے اور دایاں بازو پیش کرنے کو کہا گیا۔ کسی  وجہ سے دائیں بازو سے خون کی ترسیل ممکن نہ ہوئی تو اُس نوجوان (مصباح) نے  کہا کہ دائیں بازو سے ڈونیشن  ممکن نہیں لہٰذا بایاں بازو پیش کریں۔ ہم نے پوچھا کہ بائیں طرف تو دل بھی ہوتا ہے۔ کہیں بائیں طرف سے ڈونیشن کے چکر میں میں آپ ہمیں اللہ تعالیٰ کے پاس ہی نہ بھیج دیں۔ جوان نے جھٹ سے کہا کہ ابھی تو آپ خود کو نوجوان کہہ رہے تھے۔ ”ہنڑ ڈر گیا ایں!”

ترجمہ: اب ڈر گئے ہو!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں