0

میانوالی کا ادبی منظر نامہ. قسط اول… منور علی ملک

تحریر: پروفیسر منور علی ملک

میرا میانوالی

جب میں گورنمنٹ کالج میانوالی آیا تو یہاں اچھا خاصا ادبی ماحول تھا۔شعبہ اردو میں ڈاکٹر اجمل نیازی رونق لگائے رکھتے تھے ۔پروفیسر سلیم احسن بھی یہاں تھے۔ کچھ عرصہ بعد پروفیسر محمد فیروز شاہ بھی آگئے ۔سٹوڈنٹس میں فیروز شاہ کے خلیفۂخاص عصمت گل خٹک اور گلزار بخاری صاحب کے چھوٹے بھائی سید فیروز بخاری ادب کے افق پر پوری چمک دمک کے ساتھ طلوع ہو رہے تھے۔منصور آفاق بھی اسی دور میں پوری آب و تاب کے ساتھ ادب کے افق پر نمودار ہورہےتھے ۔ وہ جلد ہی میانوالی سے لاہور منتقل ہوگئے۔

دوسری طرف میانوالی شہر میں بھی خاصا جان دار ادبی ماحول تھا۔ شرر صہبائی ، انجم جعفری ، سالار نیازی ، میاں نعیم ، سلیمان اختر ، تاج محمد تاج انجمن فروغِ اردو کے پلیٹ فارم سے بہت فعال تھے۔ بزرگ شاعر سوز زیدی صاحب بھی کبھی کبھار ان محفلوں میں شریک ہو جاتے تھے۔

برادرم انجم جعفری کے ہاں ہر پندرہ روز بعد شعری نشست ہوتی تھی۔ موسیٰ خیل سے ظفر اقبال خان نیازی بھی اس محفل کے مستقل رکن تھے ۔ شعرا کا یہ گروپ روایت پرست گروپ کہلاتا تھا۔ علامہ انوار ظہوری لاہور سے میانوالی منتقل ہوئے تو اس گروپ کی قیادت انھوں نے سنبھال لی ۔

ڈاکٹر اجمل نیازی کی قیادت میں نوجوان شعرا کا جدت پسند گروپ اپنی جگہ سرگرم عمل تھا۔ میں ان دونوں گروپس میں شامل رہا ۔

سید نصیر شاہ بہت سینیئر شاعر اور ادیب تھے۔ مگر وہ کسی گروپ میں شامل نہ ہوئے ۔

آج کے ادبی منظر نامے میں محمد مظہر نیازی، عصمت گل خٹک، نذیر یاد، محمد ظہیر احمد مہاروی ، صابر بھریوں، عرشم خان نیازی اور چند دوسرے نوجوان شعرا نمایاں ہیں۔ بہت سے اہم نام اس وقت یاد نہیں آ رہے۔ اس گروپ کے محمد محمود ہاشمی جوانی ہی میں سرحد حیات کے اس پار جا بسے۔

سینیئر لوگوں میں سے صرف میں اور محمد سلیم احسن اس وقت بقید حیات ہیں۔ ہمارے باقی سب ساتھی زیر زمین آسودہ ہوگئے ۔

۔۔۔رہے نام اللہ کا ۔۔۔

۔۔۔منور علی ملک۔۔۔

26/جولائی2025ء

(مصنف کی اجازت سے اُن کی فیس بک وال سے منقول۔ایڈمن تِریاق)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں