
میرا میانوالی
میانوالی کی ادبی تاریخ کوچند منٹ کی پوسٹ میں سمیٹتے ہوئے کئی بہت اہم نام رہ گئے۔ جلد بازی میں اکثر ایسا ہو جاتا ہے۔ تلافی ء مافات کے طور پہ آج کچھ ذکر ان دوستوں کا ہوگا جن کا ذکر کل کی پوسٹ میں نہ ہو سکا۔
پروفیسر گلزار بخاری اور فاروق روکھڑی صاحب میرے ساتھ ہی شعروسخن کی وادی میں وارد ہوئے۔ دونوں بہت مترنم اور مقبول شاعر تھے۔ فاروق روکھڑی بعد میں اردو شاعری ترک کر کے سرائیکی گیت نگاری کی طرف متوجہ ہو گئے۔ ہم سے کچھ عرصہ بعد پروفیسر رئیس احمد عرشی اور گلزار بخاری کے بھائی شاہ علی اعظم بخاری بھی منظرعام پر آگئے۔ دونوں اردو کے پروفیسر اور بہت اچھے شاعر ہیں۔
ہمارے زمانے میں پپلاں سےخورشید میلسوی، حاجی طفیل رضا اور ماسٹر غلام حیدر خاں خاصے مشہور و معروف شاعر تھے۔ آج کے دور میں پپلاں کے سلیم شہزاد اور اسد رحمٰن ادبی منظر نامے میں نمایاں ہیں۔ دونوں جدید لہجے کے نمائندہ شاعر ہیں۔
نئی نسل کے نوجوان شاعروں میں حفیظ اور شاکر خان بلچ بہت خوب صورت شعر کہتے ہیں۔ ڈھیر امید علی شاہ کے نوازش علی ندیم منفرد لب و لہجے کے بہت توانا شاعر ہیں۔ اگرچہ اب ملتان میں مقیم ہیں مگر ضلع میانوالی کے شعرا میں ان کا ذکر نہ کرنا ناانصافی ہوگا۔
لمحۂ موجود میں میانوالی کے محمد اقبال شاہ ناشناس کی بیٹھک اہل شعر وسخن کا مرکز ہے۔ شاہ صاحب بھی بہت اچھے شاعر ہیں۔
سرائیکی شاعری میں میانوالی کے ابراہیم غریب اور عیسیٰ خیل کے یونس خان ہم سے پہلے دور کے معروف شاعر تھے۔ ابراہیم غریب دوہڑہ لکھتے تھے۔یونس خان نے دوہڑے کے علاوہ کئی گیت بھی لکھے۔ لالا عیسی خیلوی کی آواز میں یونس خان کے گیت:
کرکر منتاں یار دیاں آخر آنڑں جوانی ڈھلی
اور
شالا رج رج مانڑیں یار میڈا
بہت مقبول ہوئے۔
یونس خان کے بعد گیت نگاری میں مجبور عیسیٰ خیلوی اور کمر مشانی کے اظہر نیازی اور ڈھیر امید علی شاہ کے خورشید شاہ نے بہت شہرت حاصل کی۔ لالا عیسیٰ خیلوی کی فرمائش پر میں نے بھی سرائیکی میں بہت سے گیت لکھے ۔
سرائیکی غزل میں پروفیسرمحمد سلیم احسن سب سے نمایاں شاعر ہیں۔ انھیں ان کے شعری مجموعہ ”جکھڑ جھولے” پر صدارتی ایوارڈ بھی ملا۔ حال ہی میں میانوالی کے محمد ظہیر احمد مہاروی نے بھی سرائیکی شاعری میں صدارتی ایوارڈ حاصل کیا۔
۔۔۔رہے نام اللہ کا ۔۔۔
۔۔۔منور علی ملک ۔۔۔
27/جولائی2025ء
(مصنف کی اجازت سے اُن کی فیس بک وال سے منقول۔ایڈمن تِریاق)