
میرامیانوالی
ساغر صدیقی۔۔۔ اپنے دور کے نامور شاعر ساغرصدیقی زندگی تو ملنگوں والی بسر کرتے تھے، مگر شاعری میں بادشاہ تھے۔ ان کے بہت سے شعر آج بھی زبان زد عام ہیں۔
ساغر قیام پاکستان کے بعد اپنے والدین کے ساتھ بھارت سے پاکستان آئے۔ ان کے والد لکڑی کی کنگھیاں بنا کر بیچا کرتے تھے۔ والد کی وفات کے بعد کچھ عرصہ ساغر بھی یہی کام کرتے رہے۔ پھر سب کچھ چھوڑ کر ملنگ بن گئے۔ ملنگ بننے کی وجہ عشق نہیں تھا۔ عشق میں ناکامی انسان کو لالا عیسی خیلوی تو بنا سکتی ہے، ملنگ نہیں۔
ساغر کی ملنگی معاشرے کی نا انصافیوں کے خلاف خاموش احتجاج تھی۔ ساغر صدیقی نے دربار داتا صاحب کے ارد گرد پھرتے زندگی گزار دی۔ کھانا داتا صاحب کے لنگر سے مل جاتا تھا۔ کسی سے کچھ مانگتے نہیں تھے۔ نشے کا خرچ اپنی شاعری بیچ کر پورا کر لیتےتھے۔
ان کی شاعری کی شہرت سن کر صدر ایوب خان نے ان سے ملنے کی خواہش ظاہر کی تو ضلعی انتظامیہ کے لوگ ساغر کو لینے داتا دربار پہنچے۔ ساغر نے صدر صاحب سے ملاقات کرنے سے صاف انکار کرتے ہوئے کہا، صدر صاحب سے کہہ دینا:
جس دور میں لٹ جائے فقیروں کی کمائی
اس دور کے سلطان سے کچھ بھول ہوئی ہے
ساغر نے بہت سے مشہور و معروف فلمی گیت بھی لکھے۔ ظالم فلم ساز انھیں دس پندرہ روپے دے کر ان سے گیت لکھواتے رہے۔
ساغر خود کو نشے کے ٹیکے لگایا کرتے تھے۔ ایک دفعہ پیسے نہ ہونے کی وجہ سے نشہ آور دوا نہ مل سکی تو سرنج میں چائے کا قہوہ بھر کر اپنے بازو کی رگ میں لگا دیا۔ نتیجہ فوری موت۔ 19 جولائی 1973ء کو ساغر اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ انھیں داتا صاحب کے قریب پیر مکی کے قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔
شاعر کے چند یادگار شعر دیکھیئے:
جس دور میں لٹ جائے فقیروں کی کمائی
اس دور کے سلطان سے کچھ بھول ہوئی ہے
آؤ اک سجدہ کریں عالمِ مدہوشی میں
لوگ کہتے ہیں کہ ساغر کو خدا یاد نہیں
یاد رکھنا ہماری تربت کو
قرض ہے تم پہ چار پھولوں کا
زندگی جبرِ مسلسل کی طرح کاٹی ہے
جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں
۔۔۔رہے نام اللہ کا ۔۔۔
۔۔۔منور علی ملک ۔۔۔
21/جولائی2025ء
(مصنف کی اجازت سے اُن کی فیس بک وال سے منقول۔ ایڈمن تِریاق)