
کالم نمبر:8
مطبوعہ روزنامہ ”جسارت” کراچی، 30/اکتوبر1981ء
سُخن دَرسُخن۔۔۔خامہ بگوش کے قلم سے
پچھلے ہفتے ہم نے دبستانِ سرگودھا کے تعلق سے ایک بے ضرر سی خبر چھاپی تھی، اس پر ردِ عمل بھی بہت خفیف سا ہوا ہے۔ ہمارے ایک قاری نے خط لکھ کر پوچھا ہے کہ کیا پاکستان میں یہی ایک دبستان رہ گیا ہے جو آئے دن اخبارات میں اِس کے بارے میں خبر یں چھپتی رہتی ہیں۔سوال بہت اہم ہے واقعی یہ بڑی زیادتی ہے کہ دبستانِ سرگودھا کو گنجائش سے زیادہ اہمیت دے دی گئی ہے اور دوسرے دبستانوں کو بالکل نظر اندا کردیا گیا ہے۔اِس تشویشناک صورتِ حال کو بہتر بنانے کے لیے ہمارے نمائندہ خصوصی نے مختلف دبستانوں کے بارے میں معلومات جمع کی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان کے ہر چھوٹے بڑے شہر میں، یہاں تک کہ قصبوں اور دیہاتوں میں بھی دبستان موجود ہیں۔ ان سب کا ذِکر کرنا مشکل ہے۔ خاص خاص دبستانوں کے بارے میں معلومات ذیل میں درج کی جاتی ہیں:
دبستان پاک ٹی ہاؤس (لاہور)
یہ کوئی ایک دبستان نہیں، بلکہ بہت سے دبستانوں کا مجموعہ ہے۔ اگر یہ کہاجائے تو بے جانہ ہوگا کہ ٹی ہاؤس کی ہرچیز اپنی جگہ ایک دبستان ہے۔ لاہور کے بہت سے ادیبوں ہی کی نہیں۔ انتظار حسین کے ناول ”بستی“ کے بعض کرداروں کی ذہنی نشوونما بھی اسی ٹی ہاؤس میں ہوئی ہے۔ اسی لیے نقادوں نے انتظار حسین کے کرداروں پریہ اعتراض کیا ہے کہ انھوں نے ارتقائی منازل اتنی تیزی سے طے کی ہیں کہ سفر کے نقطۂ آغاز اور نقطۂ اختتام میں ایک نقطے کا بھی فرق نہیں۔
ٹی ہاؤس میں ہر طرح کے ادیب آتے ہیں جو ایک دوسرے کے سامنے بیٹھ کر اور منہ پھیر کر ادبی مسائل پر گفت گو اور ایک دوسرے کے عِلم میں اضافہ کرتے رہتے ہیں لیکن ادبی مسائل اور عِلم دونوں کا کچھ نہیں بگڑتا۔ ادبی مسائل کوادیب اپنے ساتھ لے جاتے ہیں اور عِلم ٹی ہاؤس کے بیروں کو ٹِپ میں دے دیتے ہیں۔ اِسی لیے کہا جاتا ہے کہ ٹی ہاؤس کے بیرے اتنے صاحبِ عِلم ہیں کہ اگر ان کی گفت گو قلم بند کرلی جائے تو انیس ناگی کے تنقیدی خیالات کانعم البدل ثابت ہوسکتی ہے۔
انتظار حسین اس دبستان کی آبرو ہیں۔وہ اپنے ناولوں افسانوں اور کالموں کے مواد یہیں سے حاصل کرتے ہیں۔ ان کے ساتھ مستقل بیٹھنے والوں میں احمد مشتاق ہیں جنہوں نے اپنے دیوان”گردِ مہتاب“ کی ساری غزلیں اِسی دبستان میں بیٹھ کر لکھی ہیں۔ اس دیوان کا دیباچہ بھی انتظار حسین نے یہیں لکھا تھا۔ اِس دیباچے کا آخری جملہ یہ ہے۔ ”میں مشتاق کی غزل کو خالی خولی غزل سمجھ کر نہیں پڑھتا۔ کیا سمجھ کر پڑھتا ہوں، اس پر سوچنا پڑے گا۔“ انتظار حسین کو ابھی تک سوچنے کی فرصت نہیں ملی اور احمد مشتاق ہر روز پوچھتے ہیں، کچھ سوچا؟ انتظار حسین یہ سوال سن سن کرتنگ آگئے ہیں لہٰذا انھوں نے فیصلہ کیا ہے کہ ”گردِ مہتاب“ کے اگلے ایڈیشن میں یہ جملہ یوں ہوگا: کیاسمجھ کر پڑھتا ہوں،اس پر سوچنے کی ضرورت نہیں۔ جب احمد مشتاق نے غزلِیں لکھتے وقت نہیں سوچا تو میں پڑھتے وقت کیوں سوچوں۔“
دبستانِ فنون (لاہور)
اِس دبستان کے سربراہ احمد ندیم قاسمی ہیں اور آلہ مکبّر الصوت یعنی معتمد نشر و اشاعت خالد احمد ہیں۔ اس دبستان کی روزانہ دو نشستیں ہوتی ہیں۔ صبح کی نشست جس میں آنے والوں کو بلاطلب چائے بھی ملتی ہے،مجلس ترقیء ادب میں ہوتی ہے اور شام کی نشست جس میں آنے والوں کو طلب کرنے پر پانی بھی نہیں ملتافنون کے دفتر میں ہوتی ہے۔”فنون “ ایک بلند پایہ ادبی رسالہ ہے جس میں ایسے شاعروں کا کلام کثرت سے شائع ہوتا ہے جو اپنا کلام بھیجتے وقت خریداری نمبر کاحوالہ بھی دیتے ہیں۔ ”فنون“ کا سالِ اجرا اور ایک مشہور شاعر ہ کا سالِ پیدائش ایک ہی ہے۔ اِس رعایت سے اس کے ہر شمارے میں موصوفہ کی تخلیقات ضرورشامل ہوتی ہیں۔ جب تک افتخار عارف ٹی وی میں تھے اور پاکستان میں تھے، فنون انھیں چھاپتا ہی نہیں، اچھالتا بھی تھا لیکن اب افتخار عارف پر”فنون“ کے دروازے بند ہوگئے ہیں۔ بالکل ویسے ہی جیسے آج کل سجاد باقر رضوی پر سخن گوئی اور سخن فہمی کا دروازہ بند ہے۔
دبستان اورینٹل کالج (لاہور)
یہ دبستان پسماندہ اور درماندہ ادیبوں اور محققوں کی آخری پناہ گاہ ہے جس کے سربراہ ڈاکٹر وحید قریشی ہیں جو خود پسماندہ ہیں نہ درماندہ بلکہ بڑے فعّال ہیں جس کا ثبوت یہ ہے کہ وہ اپنی کتابیں خود ہی تصنیف کرتے ہیں اور خود ہی اپنی کار چلاتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل ڈاکٹر عبادت بریلوی اس دبستان کے سربراہ تھے۔ وہ جاتے جاتے اِس دبستان میں اپنی دو درجن تصانیف اور ایک یاد گار چھوڑ گئے ہیں۔ تصانیف نقش و نگار طاقِ نسیاں ہوچکی ہیں البتہ یادگار ڈاکٹر تبسم کاشمیری کی صورت میں موجود ہے۔ ڈاکٹر وحید قریشی شروع شروع میں تبسم کاشمیری سے پرہیز کرتے تھے لیکن اب تعلقات کچھ خوشگوار ہوگئے ہیں۔ اس صورتِ حال کے پیشِ نظر ڈاکٹر قریشی نے فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ وہ اپنی کار خود نہیں چلایا کریں گے۔
دبستانِ نقوش (لاہور)
اس دبستان کے بانی محمد طفیل ہیں جواپنے آپ کو بابا ئے اردو کاجانشین نہیں، پیشرو سمجھتے ہیں۔ یہ نکتہ انھیں ڈاکٹر سلیم اختر نے سمجھایا ہے جو اپنی مختصر تاریخ ادب کے اگلے ایڈیشن میں اس نکتے پر اپنا نقطۂ نظر پیش کریں گے۔ اس دبستان کے خاص خاص اراکین، ڈاکٹر سلیم اختر، میرزا ادیب اور کسریٰ منہاس ہیں۔ اول الذکر دونوں حضرات کا کام یہ ہے کہ جب نقوش کے کسی خاص نمبر کی تقریب اجرا منعقد ہوتو اس میں مضمون پڑھیں۔ کسریٰ منہاس ان مضامین کی پروف ریڈنگ کرتے ہیں۔ پاکستان رائٹرز گلڈ دبستانِ نقوش کا ایک ذیلی ادارہ یعنی طفیلی سیّارہ ہے اور اِس حیثیت میں روز افزوں ترقی کررہا ہے۔
دبستان اِنچولی(کراچی)
اِس دبستان کے بانی مشہور شاعر،نقاد، کالم نگار، اور صوفی منش دانش ور سلیم احمد ہیں جن کا قیام انچولی سوسائٹی میں ہے۔ شہر کے بیش تر اہم ادیب او رشاعر سلیم احمد کے درِدولت پر حاضری دیتے ہیں اور بعض صرف دستک دے کر آ جاتے ہیں۔ سلیم احمد کے ہاں دائیں بازو والے بھی آتے ہیں اور بائیں بازو والے بھی۔ اور وہ بھی جو بغیر کسی بازو کے ہوتے ہیں اور سلیم احمد کے زو رِبازو سے اپنی ادبی حیثیت منوالیتے ہیں۔
پچھلے دنوں سلیم احمد نے اپنے گھر پر عِلمی نشستیں شروع کی تھیں اور یہ شرط لگادی تھی کہ صرف وہی لوگ آئیں جن کی گِرہ میں عِلم ہو لیکن ان نشستوں میں وہ لوگ بھی آنے لگے جن کے پاس عِلم تو کیا وہ گِرہ بھی نہیں تھی جس میں عِلم ہوتا ہے۔ جب سلیم احمد کو یہ بات معلوم ہوئی تو انھوں نے نشستوں کا یہ سلسلہ ختم کردیا اور کہا کہ میں عِلم کی بے حرمتی نہیں دیکھ سکتا۔ اس کے جواب میں احمد ہمیش نے کہا: ”آپ نہ دیکھیں، ہم تو ضرور دیکھیں گے۔یہاں نہیں تو کہیں اور سہی۔“
دبستان رابسن روڈ(کراچی)
یہ دبستان سو بھراج چیتو مل میٹرنٹی ہوم سے متصل رابسن روڈ پر واقع ہے۔ یہ دبستان گیارہ بجے کھلتا ہے اور پانچ بجے بند ہوجاتاہے۔ اس دوران میں کراچی کا ہر وہ ادیب جو رابسن روڈ سے گزرتا ہے، اس دبستان میں تھوڑی دیر کے لیے دم ضرور لیتا ہے اور جب دم گھنٹے کا احساس ہوتا ہے تو گھر کا راستہ لیتا ہے۔ صہبا لکھنوی اس دبستان کے بانی ہیں اوراپنی اس حیثیت سے بے حد مطمئن ہیں۔ اس دبستان کی جڑیں اور شاخیں اختر انصاری اکبر آبادی کے دستِ طلب کی طرح دور دور تک پھیلی ہوئی ہیں۔ اس کے مستقل اراکین میں محمد علی صدیقی،شہزاد منظر شبنم رومانی اور حنیف فوق ہیں۔ محمد علی صدیقی”افکار“ کے مہمان مدیر ہیں، شہزاد منظر میزبان مدیر ہیں، شبنم رومانی بھی میزبانی کے فرائض کبھی کبھی ادا کرتے ہیں اس لیے صہبا اُنھیں محبت سے شبنم میزبانی کہتے ہیں۔ حنیف فوق صرف مہمان نہیں، مستقل مہمان ہیں، دن رات صہبا صاحب ہی کے ساتھ رہتے ہیں۔ دبستان رابسن روڈ کے غیر مستقل (مزاج) اراکین میں محسن بھوپالی اور سحر انصاری سر فہرست ہیں۔ یہ دونوں پہلے بڑے سرگرم کارکن تھے، لیکن اب جذبات میں کچھ ٹھہراؤ آگیا ہے۔ محسن سے صہبا صاحب نے یہ کہا ہے کہ وہ ہر مہینے ”افکار“ میں ان کا کلام شائع نہیں کرسکتے۔ سحر انصاری کو بھی جَتادیا گیا ہے کہ وہ دبستان انچولی سے قطع تعلق کرلیں کیونکہ اس دبستان سے تعلق رکھنے والوں کے لیے دبستان رابسن روڈ میں کوئی جگہ نہیں۔
دبستان ریڈیو پاکستان(کراچی)
یہ دبستان کسی نے قائم نہیں کیا بلکہ خود بخود قائم ہوگیا ہے۔ بالکل ویسے ہی جیسے عطا الحق قاسمی اچھے خاصے کالم لکھتے لکھتے شاعر ہوگئے ہیں حالانکہ انھیں کسی نے مشورہ نہیں دیا تھا۔ اس دبستان کے سب سے بڑے علم بردار احمد ہمدانی ہیں جو مشہور کتاب ”قصّہ نئی شاعری کا“ کے مصنف ہیں۔ گو اس کتاب کا نام قصّہ ہیر رانجھا اور قصّہ سوہنی مہینوال کے طرز پر ہے، لیکن مواد کے اعتبار سے یہ مختلف چیز ہے۔یہ کتاب اپنے اصلی نام کی بجائے ”تذکرہ شعرائے ریڈیو پاکستان“ کے نام سے زیادہ مشہور ہے حالانکہ اس میں صرف شاعروں کا تذکرہ نہیں، بعض ساز ندوں اور گلوکاروں کا ذکر بھی ہے۔
اس دبستان کے فعال اراکین میں رضی اختر شوق، ضمیر علی بدایونی، جمیل زبیری، قمر علی عباسی اور انعام صدیقی ہیں۔ رضی اختر شوق پہلے بھی شعر کہتے تھے۔ اب بھی شعر ہی کہتے ہیں۔ اور خدا جانے کب تک صرف شعر ہی کہتے رہیں گے۔ ضمیر علی بدایونی پہلے بھی کچھ لکھتے تھے، اب بھی وہی کچھ لکھتے ہوں گے، جو کچھ لکھتے ہوں گے۔ اُس سے ہمیں بحث نہیں کہ یہ ان کا ذاتی فعل ہے۔ جمیل زبیری پہلے افسانے لکھتے تھے۔ اب سفر نامے لکھتے ہیں اور ستم یہ کرتے ہیں کہ جو کچھ لکھتے ہیں چھپوا بھی دیتے ہیں۔قمر علی عباسی بچوں کے لیے لکھتے ہیں، بچّے معصوم اور بھولے بھالے ہوتے ہیں اس لیے وہ کوئی حرفِ شکایت زبان پر نہیں لاتے۔ انعام صدیقی، پروفیسر جمیل اختر خان کی طرح زبانی ادیب ہیں۔ انھوں نے کبھی کچھ نہیں لکھا اور آئندہ بھی کچھ لکھنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ اُردو ادب کی گردن پر اُن کا یہ احسان ہمیشہ ہمیشہ رہے گا۔ بشرطیکہ اُردو ادب کی گردن صہبا اختر کی شاعری کے بوجھ سے سلامت رہ جائے۔
دبستان ریڈیو میں کئی ایسے ادیب بھی شامل ہیں جن کا ریڈیو سے ملازمت کاتوکیا، دور کا بھی کوئی تعلق نہیں۔ لیکن یہ ادیب ہر روز ریڈیو اسٹیشن ضرور آتے ہیں۔ اس توقع پر کہ کوئی پروگرام مل جائے۔ ان ادیبوں کو جتنی مشکل سے ریڈیو اسٹیشن میں داخل ہونے کی اجازت ملتی ہے، اتنی ہی مشکل انھیں باہر نکالنے میں پیش آتی ہے۔