
کالم نمبر:10
مطبوعہ روزنامہ ”جسارت” کراچی، 13/نومبر 1981ء
سُخن دَرسُخن۔۔۔خامہ بگوش کے قلم سے
”نقوش“ کا ”انیس نمبر“ یا متاعِ بردہ!
”انیس نمبر“ کا صرف اداریہ غیر مطبوعہ ہے
”فنون“کا”محمد علی صدیقی نمبر“ چھپ گیا ہے
جمال پانی پتی، علمی اعتبار سے لکھ پتی ہوچکے ہیں
اختر حسین جعفری مسلمہ طور پر سب سے بڑے نظم گوہیں!!!
رسالہ”نقوش“پہلے صرف بک اِسٹالوں پر آتا تھا۔اب تو وہ خبروں میں بھی آنے لگا ہے۔ ہم بھی گاہے گاہے حصولِ ثواب کے لیے اِس کا ذِکر کرتے رہتے ہیں۔ گذشتہ ہفتے ہم نے نقوش اور نقوش ایوارڈ کا ذِکر کیا تھا، حریفوں اور حلیفوں سے جو کچھ سنا تھا، نقل کفر کفر نباشد کے مصداق درجِ گزٹ کردیا تھا اپنی طرف سے کچھ نہیں کہا تھا۔ اس کے باوجود بعض لوگوں نے ہم پر جانب داری کا الزام لگایا ہے لیکن یہ نہیں بتایا کہ ہم نے حریفوں کی جانب داری کی ہے یا حلیفوں کی۔ قطعِ نظر اس کے کہ ہم نے اپنا کالم اِنصاف کی کرسی پر بیٹھ کر نہیں لکھا تھا۔ ہم اپنی صفائی میں صرف اِس قدر عرض کریں گے کہ ہم نقوش کے دِلی خیرخواہ ہیں۔ ہماری دعا ہے کہ یہ رسالہ اپنی شاندار روایات کے مطابق ادب کی خدمت کرتا رہے۔ نقوش سے ہماری عقیدت کا اندازہ اِس بات سے کیجئے کہ جب سلیم احمد صاحب نے اپنے ایک اخباری کالم میں یہ لکھا: ”آپ یقین کیجئے کہ پچھلے بائیس سال سے مجھے یہ بھی عِلم نہیں کہ نقوش نامی رسالہ چھپتا بھی ہے یا نہیں“،تو ہم نے فوراً یقین کرلیا کہ ہمارا معاملہ اس کے برعکس ہے۔ یعنی ہمیں یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ نقوش کے علاوہ بھی کوئی رسالہ چھتا ہے یا نہیں اگر چھپتا ہوتا تو اس کی گھر گھر رونمائی نہ ہوتی، کہیں کوئی ذِکر تو ہوتا۔
رونمائی پر یاد آیا پچھلے دنوں کراچی میں نقوش کے انیس نمبر کی غائبانہ تقریب رونمائی ہوئی تھی۔ غائبانہ ان معنوں میں کہ مدیر نقوش خود اس میں موجود نہ تھے۔ یہ تو سنا تھا کہ لوگ پیٹھ پیچھے برائی کرتے ہیں لیکن لوگوں کو پیٹھ پیچھے تعریف کرتے پہلی بار سنا۔ تقریباً سبھی مقرر تعریف کرنے میں ہم خیال تھے۔خدا کا شکر ہے کہ نقوش نے نہ سہی، نقوش ایوارڈ نے تو ہمارے ادیبوں کو ہم خیال بنادیا۔
بیشتر ادیبوں کا خیال یہ تھا کہ نقوش کا انیس نمبر اپنے موضوع پر بے مثال پیش کش ہے۔ میرا نیس کے اِتنے بہت سے مرثیوں کاسراغ لگالینا بہت بڑا ادبی کارنامہ ہے حالانکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ اس نمبر میں سرے سے کوئی غیر مطبوعہ چیز ہی نہیں۔ ممکن ہے یہ بات ہمارے پڑھنے والوں کو عجیب سی لگے،لیکن۔۔۔اصل حقیقت یہی ہے!
آج سے ڈھائی سال قبل ڈاکٹر اکبر حیدری کاشمیری کی کتاب ”باقیاتِ انیس“ کی پہلی جلد لکھنؤ سے شائع ہوئی تھی۔ یہی کتاب نقوش کے انیس نمبر میں لفظ بلفظ نقل کردی گئی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ سرورق پر ڈاکٹرحیدری کا نہیں، محمد طفیل کا نام درج ہے اور اصل کتاب میں جواِنتساب تھا۔ وہ نقوش سے حذف کردیا گیا ہے۔ اِنتساب راجہ پیر پور کے نام تھااور ڈاکٹرحیدری کی طرف سے تھا۔ ظاہر ہے کہ مدیر نقوش کو کیا ضرورت تھی کہ وہ راجہ پیر پور کے نام اپنے رسالے کا اِنتساب کرتے۔ان کے توہر شمارے کا نام خود اپنے ہی نام ہوتا ہے۔
محمد طفیل نے اداریے میں انیس کے ”غیر مطبوعہ“ کلام کی دریافت کا سہرا اپنے سر باندھا ہے اور ڈاکٹر حیدری کا ذِکر اداریے میں نہیں، اداریے کے حاشیے میں اِن الفاظ میں کیا ہے: ”مجھے تو ایسا محسوس ہورہا ہے کہ ڈاکٹرحیدری اپنے نامکمل کاموں کو میرے سپرد اِس لیے کردیتے ہیں کہ انھیں میں مکمل کروں یا بناسنوار کر پیش کروں۔“ معلوم نہیں یہ جملہ پڑھ کر ڈاکٹر حیدری نے کیا محسوس کیا ہوگا۔
ہم بہت دیر تک یہ سوچتے رہے کہ آخر ڈاکٹر حیدری کے نامکمل کام کو طفیل صاحب نے مکمل کس طرح کیا ہے جب کہ نقوش میں کامے اور فل اسٹاپ تک وہی ہیں جو ڈاکٹرحیدری کی کتاب، ”باقیاتِ انیس“ میں ملتے ہیں۔ بہت غور و فکر کے بعد نکتۂ راز ہمارے ہاتھ آیا۔ انیس نمبر کے سرورق پر ”نسخۂ لاہور“ بھی لکھا ہے۔ یہی وہ دو لفظ ہیں جن کے اضافے سے ڈاکٹر حیدری کا نامکمل کام مکمل ہوا۔ واضح رہے کہ اس سے پہلے طفیل صاحب، دیوانِ غالب کے نسخۂ امروہہ اور دیوان میر کے نسخۂ لکھنؤ کو بھی ”نسخۂ لاہور“ کے نام سے شائع کرچکے ہیں۔ اس پر ایک ستم ظریف نے کہا تھا کہ اگر نقوش لاہور کی بجائے کالاشاہ کاکو سے نکلتا تو پھر یہ سارے نسخے ”نسخۂ کالاشاہ کاکو“کہلاتے۔
نقوش کے انیس نمبر میں ڈاکٹر حیدری کی کتاب پر کچھ اضافے بھی ہیں۔ان میں سے ایک توپروفیسر احتشام حسین کا مضمون ہے جوکئی بار چھپ چکا ہے۔دوسرا مضمون پروفیسر سید مسعود حسن ادیب رضوی کا ہے۔ یہ مضمون نہیں بلکہ پروفیسر ادیب کی کتاب”انیسیات“ کاپاکستانی ایڈیشن ہے۔ مدیر نقوش نے اِس کتاب کے شروع کے ایک سو تین صفحات لفظ بلفظ نقل فرمالیے ہیں اور کہیں اشارتاً کنایتا ً بھی نہیں بتایا کہ اِس ”متاعِ بردہ‘‘ کو کہاں سے حاصل کیا ہے۔ پروفیسر ادیب کی یہ کتاب 1976ء میں اُترپردیش اردو اکیڈمی لکھنؤنے شائع کی تھی۔
اِس نمبر میں جو تصویریں چھاپی گئی ہیں۔ وہ بھی ”باقیاتِ انیس“ میں سے نقل کی گئی ہیں۔ غرضیکہ ہروہ چیز جو نقوش کے انیس نمبر کی اشاعت سے پہلے طبع ہوچکی تھی، اب غیر مطبوعہ قرار پائی ہے۔ ہاں ایک خوبی کا اعتراف ضروری ہے کہ محمد طفیل کا اداریہ غیر مطبوعہ ہے اور ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ یہ اداریہ اس سے پہلے کبھی شائع نہیں ہوا۔ ساٹھ روپے میں یہ غیر مطبوعہ چیز مہنگی نہیں ہے۔
انیس نمبر768 صفحات ہیں اور عام ایڈیشن کی قیمت ساٹھ روپے ہے۔”فنون“ کا سالنامہ بھی انھیں دنوں شائع ہوا ہے۔ اس کے صفحات 566 ہیں اور قیمت چھتیس روپے ہے۔۔۔ دونوں رسالوں کا کاغذ ایک جیسا ہے، سائز ایک جیسا ہے ایڈیٹر ایک جیسے ہیں، پھر قیمت کافرق سمجھ میں نہیں آیا۔ جِس حساب سے نقوش کی قیمت متعین کی گئی ہے، اس حساب سے فنون کی قیمت کم از کم پچاس روپے ہونی چاہیے۔ آخر فنون والوں کو کیاسوجھی کہ قیمت اتنی کم رکھ دی۔ گھرپھونک تماشا دیکھنا اِسی کو کہتے ہیں۔”فنون کانام آیا ہے تو کچھ اِس کاذِکر بھی ہو جائے۔ تازہ شمارے کے سرورق پر لکھا ہے۔”سالنامہ حصہ دوم“لیکن مندرجات پر سرسری نظر ڈالنے سے معلوم یہ ہوتا ہے کہ یہ محمد علی صدیقی نمبر ہے (فِلم اسٹار محمد علی اپنے نام کے ساتھ صدیقی نہیں لِکھتا، گو اس کا پورا نام بھی صدیقی کے اضافے کے ساتھ ہے)۔ جمال پانی پتی نے ایک طویل مضمون لکھا ہے جو محمد علی صدیقی کے ایک مضمون کے جواب میں ہے۔ ہم صدیقی صاحب کا مضمون پڑھ چکے تھے۔ اس لیے پانی پتی صاحب کا مضمون بھی پڑھ ڈالا۔ نتیجہ دونوں کاایک ہی نکلا۔ نہ اُس مضمون کا کوئی اثر ہوا نہ اِس کا۔
معلوم نہیں یہ پانی پتی صاحب کون ہیں۔ اگر یہ وہی صاحب ہیں جو آتش وناسخ کے دور کی غزلیں مشاعروں میں ترنم سے پڑھاکرتے ہیں تو حیرت ہے انھوں نے ایسا فِکرانگیز مضمون کیسے لکھ لیا۔ بہرحال اب لکھ ہی لیا ہے تو ہمارا مشورہ یہ ہے کہ اِس کام کوجاری رکھیں اور غزل گوئی کا شوق ترک کردیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ ترکِ افیون کی طرح ترکِ سخن بھی بہت مشکل ہے لیکن ہماری دعائیں اور سلیم احمد کا زورِبازورائیگاں نہیں جاسکتا۔ پانی پتی صاحب ایک نہ ایک دن بہت بڑے مضمون نگار ضرور بن جائیں گے اور پھرلوگ انھیں عِلمی اعتبار سے ”لکھ پتی“ کہا کریں گے۔
اگر شاعر اور مضمون نگار دو الگ الگ پانی پتی ہیں تو شاعر صاحب سے گزارش ہے کہ وہ حسبِ سابق غزلیں لکھتے اور ترنّم سے پڑھتے رہیں۔ شاعری کے سلسلے میں ہماری دعائیں تو کیا سلیم احمد کا زورِ بازو بھی کام نہیں آسکتا۔
”فنون“ میں مشکور حسین یاد اور تحسین فراقی نے بھی محمد علی صدیقی کا تعاقب کیا ہے اور بزعم خود بعض غلطیوں کی نشاندہی کی ہے۔ ہماری رائے میں کسی کی غلطیوں کی نشاندہی کرنا آسان اور خوبیوں کو تلاش کرنا بہت مشکل ہے۔ غلطیاں خس و خاشاک کی طرح سطح پرنظر آجاتی ہیں، خوبیاں موتیوں کی طرح دریا کی تہہ میں ہوتی ہیں اور وہ بھی بطنِ صدف میں۔ ان تک عام نگاہیں نہیں پہنچ سکتیں۔ افسوس کہ آج کل لوگ آسان کاموں کوبعجلتِ ممکنہ انجام دیتے ہیں اور مشکل کاموں کو آئندہ پر اٹھا رکھتے ہیں۔
محمد علی صدیقی صاحب کو ہم مخلصانہ مشورہ دیں گے کہ وہ اِس صورتِ حال سے ہراساں نہ ہوں، بعض نقاد تو ”کمپنی کی مشہوری“ کے لیے خود اپنے خلاف مضمون لکھ کر فرضی ناموں سے چھپوا دیتے ہیں۔خوشی کی بات ہے کہ جو کام خود صدیقی صاحب کے کرنے کا تھا، اُسے جمال پانی پتی،مشکور حسین یاد اور تحسین فراقی برضا ورغبت او ربغیرکسی معاوضے کے انجام دے رہے ہیں بلکہ انجام تک پہنچارہے ہیں۔صدیقی صاحب نے اپنے اِس قسم کے نکتہ چینوں کو ”پروف ریڈر“ کانام دیا ہے۔ یعنی یہ لوگ تنقید نہیں کرتے،پروف ریڈنگ کرتے ہیں۔ ہمارا خیال ہے یہ لوگ پروف ریڈنگ بھی نہیں کرتے، مخو ل کرتے ہیں۔ اے پروف ریڈرو! باز آجاؤ،ورنہ تمہاری بھی کوئی پروف ریڈنگ کرڈالے گا۔ محمد علی صدیقی بہت بڑے نقاد ہی نہیں ہیں، انھیں ہماری طرح پروف ریڈنگ کا فن بھی آتا ہے۔
فنون کے سالنامہ میں اور بھی بہت سی تحریریں لائقِ مطالعہ ہیں لیکن ہم ہی اِس لائق نہیں ہیں کہ ان کا مطالعہ کرسکیں۔ مذکورہ مضامین کے علاوہ ہم صرف ایک اشتہار پڑھ سکے ہیں جو اختر حسین جعفری کے مجموعۂ کلام ”آئینہ خانہ“ کا ہے۔ اس اشتہار میں جلی حروف میں لکھاہے:
”اختر حسین جعفری مسلّمہ طور پر دورِ حاضر کا سب سے بڑا نظم گوہے۔“
لیکن افسوس کہ اشتہار میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ شاعر کس زبان کا ہے۔ شاید افریقہ کی کسی زبان میں نظمیں لکھتاہوگا۔ اِسی لیے تو ہمیں اس کے حدودِاربعہ کا عِلم نہیں۔ ورنہ اُردو زبان کے تو چھوٹے سے چھوٹے نظم گو کانام بھی ہم جاتے ہیں۔ مثلاً جوشؔ ملیح آبادی اور فیض احمد فیض تک کا کلام ہماری نظر سے گزر چکا ہے۔
اِس اشتہار میں کتابت کی بھی غلطی نظر آرہی ہے اگر تحسین فراقی سے پروف ریڈنگ کرالی جاتی تویہ غلطی نہ رہتی۔ غلطی یہ ہے کہ ”دورِ حاضر“ کے الفاظ عبارت کے سیاق و سباق کے شایانِ شان نہیں ہیں، شاید اصل عبارت یوں ہوگی:
”اختر حسین جعفری مسلّمہ طور پر ماضی، حال اور مستقبل کا سب سے بڑا نظم گوہے۔“
آئندہ اشتہار اسی طرح چھپے تو اچھا ہے۔کاتب پر کڑی نظر رکھی جائے، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ جملے کے آگے سوالیہ نشان یا علامتِ استعجاب لگادے۔