
کالم نمبر:11
مطبوعہ روزنامہ ”جسارت” کراچی، 20/نومبر 1981ء
سُخن دَرسُخن۔۔۔خامہ بگوش کے قلم سے
نثری نظم کا جھگڑا نثری غزل بھی ایجاد ہوچکی ہے
علامہ اقبال پر تحقیق فہمیدہ ریاض۔ شاعر ہ درجامعہ
رسالہ”ملت“ یا ہوٹلوں کی ڈائرکٹری ادبی اثاثوں کی چھان بین
ایک لاکھ پینتیس(35) ہزار کا قصّہ فلیپ نگاری کاارتقا
منظوم نثر
ادبی حلقوں میں یہ بحث ایک عرصے سے جاری ہے کہ نثری نظم کا ”بانی“یا”موجد“ کون ہے۔لاہور اور کراچی میں بانی ء فساد ہونے کا دعویٰ کرنے والوں کی ایک بڑی تعدا د موجود ہے لیکن ان میں سے کسی کو یہ معلوم نہیں کہ یہ صنف اردو میں آج سے پچاس ساٹھ سال پہلے رائج ہوچکی تھی۔ اور اس صدی کی چوتھی دہائی میں اس کاشمار مقبول ترین اصنافِ ادب میں ہوتا تھا اس زمانے میں اسے”منثور نظم“ کہتے تھے۔ افسانہ نگار غلام عباس ایک زمانے میں نثری نظم لکھنے میں خاصی شہرت رکھتے تھے۔ رسالہ ”نیرنگ خیال“ میں ان کی کئی نثری نظمیں شائع ہوچکی ہیں۔ ”نیرنگ خیال“ کے1937ء کے سالنامے میں ان کی ایک نثری نظم ”موسیقار“ شائع ہوئی تھی۔ اس کے چند مصرعے ملاحظہ ہوں:
اتنے میں ہوا کا ایک سرمست جھونکا
منڈلاتا ہوا اِدھر آنکلا
اور اس کی خاک کودیوانہ وار
اِدھر اُدھر بکھیرنے لگا
یہ دیکھ کر سب پر ندوں نے باہم اپنے پروں کو پھیلا لیا اور اس کی خاک کو ان کے نیچے چھپالیا
اس نظم کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ بیک وقت نثری نظم بھی ہے اور علامتی نظم بھی۔
اور اب آئیے نثری غزل کی طرف۔ ہمیں اطلاع ملی ہے کہ لاہور کے بعض شاعر عدم موزونیء طبع کی بنا پر نثری غزل ایجاد کرنے کی فکر میں ہیں۔ ان شاعروں نیز عام لوگوں کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ نثری غزل آج سے اسّی برس قبل متعارف ہوچکی ہے۔ اس کے موجد ظریف لکھنوی ہیں۔پہلی نثری غزل ان کے مجموعۂ کلام ”دیوان جی“ میں شامل ہے۔ملاحظہ ہو:
جب لڑائی ہونے لگے اغیار اور یار سے
آخر کور قیب بھاگامار سے
بلبل جوآشیانے کے اندرچپکی بیٹھی ہوئی ہے
کیا خفا ہوگئی ہے فصلِ بہار سے
عاشق کے قتل کرنے کو جب مقتل میں پہنچا
تلوار گرپڑی کمرِیار سے
جس کا جی چاہے فاتحہ پڑھ دے
مردے کا نشان باقی ہے مزار سے
بڑی گرمی ہے
موسم گرما شروع ہوگیا بہار سے
کس قدر آنکھوں کو خنکی پہنچتی ہے
سبزہ زار سے
ایک مرتبہ مزدور گر پڑا
جمعہ مسجد کے مینار سے
یوم اقبال پر ڈاکٹر وحید قریشی کی قیادت میں اورنٹیل کالج کے اساتذہ اور طلبہ نے علامہ اقبال کے مزار پر پھول چڑھائے۔ اسی رات ڈاکٹر قریشی نے علامہ اقبال کو خواب میں دیکھا۔ علامہ نے ان سے پوچھا:”ڈاکٹر صاحب! مزار پر پھول چڑھانے کی بات تو میری سمجھ میں آتی ہے۔ لیکن آپ جو مجھ پر تحقیقی کام کرتے رہتے ہیں اس کا سبب کیا ہے؟“ ڈاکٹر قریشی نے برجستہ جوا ب دیا: ”اس مسئلے پرمیں نے ابھی تحقیق نہیں کی۔“
دہلی سے خبر آئی ہے کہ جب سے شاعرہ فہمیدہ ریاض کا جامعہ ملّیہ اسلامیہ میں ”شاعرہ درجامعہ“ کے عہدے پر تقرر ہوا ہے ان کی پاکستان دشمن سرگرمیوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔ وہ ہر ادبی اور غیر ادبی محفل میں پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی ضرور کرتی ہیں۔ جامعہ ملیہ کے اساتذہ نے اس پر احتجاج کیا ہے کہ فہمیدہ ریاض کو صرف پاکستان دشمنی کی وجہ سے ایک ایسے عہدے پر فائز کیا گیا ہے جس کا عملاً کوئی وجود نہیں۔ اس احتجاج کے جواب میں فہمیدہ کے شوہر ظفرعلی اُجَن کو جامعہ ملیہ کے واچ اینڈ وارڈ کے شعبے میں آفیسر آن اسپیشل ڈیوٹی مقرر کردیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ موصوف کراچی میں بھی یہی کام کرتے تھے۔
سننے میں آیا ہے کہ محکمۂ سیاحت والے رسالہ ”ملت“اسلام آباد کے ادبی ایڈیشن کو بڑی تعداد میں خریدنے کاارادہ رکھتے ہیں۔ اس کاسبب یہ ہے کہ رسالے میں راولپنڈی اور اسلام آباد کے تقریباً سبھی ہوٹلوں کے”مفصل“ اشہارات ہیں۔محکمۂسیاحت اس رسالے کو ہوٹلوں کی ڈائریکٹری کے طور پر استعمال کرے گا۔
ادبی اثاثوں کی چھان بین
معلوم ہوا ہے کہ گلڈ کے بعض بہی خواہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام اراکین کے ادبی اثاثوں کی چھان بین کی جائے اور ایسے لوگوں کی رکنیت ختم کی جائے جنہوں نے کبھی کچھ نہیں لکھا۔ جمیل اختر خان ،شکیل عادل زادہ اور اکرام احمد نے ایک مشترکہ بیان میں اس تجویز کو انتہائی لغو قراردیا ہے اور کہا ہے کہ رکنیت صرف ان کی ختم ہونی چاہیے جو آئندہ کبھی کچھ لکھنے کا ارادہ رکھتے ہوں۔
راولپنڈی کے ”ملت“ میں شکیل عادل زادہ کا ایک بیان شائع ہوا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے”شوکت صدیقی ہمارے لیے لکھتے ہیں۔ ہم انھیں ایک قسط کا معاوضہ تین ہزارروپے دیتے ہیں۔وہ ہمیں 45قسطیں دے چکے ہیں۔ ہم صرف نوقسطیں ہی شائع کرپائے ہیں لیکن ہم انھیں ایک لاکھ پینتیس ہزارروپے اداکرچکے ہیں۔ “اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے شوکت صدیقی کے ایک عقیدت مند نے کہا ہے کہ جتنی رقم شوکت صدیقی کو دی گئی ہے۔ اس سے کہیں زیادہ رقم اس واقعے کی پبلسٹی پرصرف کی جاچکی ہے۔
ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہان پوری آج کل ڈی لٹ کامقالہ لکھنے میں مصروف ہیں۔اس کا موضوع ہے ”اردو میں فلیپ نگاری کاارتقا۔“ ڈاکٹر صاحب نے مقالے کی پہلی جلد مکمل کرلی ہے۔ اب وہ دوسری جلد شروع کرنے والے ہیں۔ جو صرف احمدندیم قاسمی کی فلیپ نگاری کے بارے میں ہوگی۔ ان تمام لوگوں سے، جن کی کتابوں کے فلیپ قاسمی صاحب نے لکھے ہیں۔ ڈاکٹر شاہجہانپوری نے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے اپنے فلیپوں کی مصدقہ نقلیں انھیں بھیج دیں اور یہ بھی بتائیں کہ ان کی ادبی یا روزمرہ زندگی پر قاسمی صاحب کے فلیپوں کا کیااثر ہوا ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے یہ درخواست بھی کی ہے کہ اگر بعض لوگو ں کے پاس یاخو د قاسمی صاحب کے پاس غیرمطبوعہ فلیپ ہوں تو ان کی نقلیں بھی عنایت کی جائیں۔
محسن بھوپالی سے کسی نے پوچھا کہ آپ کے تاز ہ مجموعۂ کلام میں کوئی نثری نظم شامل نہیں ہے۔ محسن صاحب نے فرمایا: میں نثری نظم نہیں لکھتا،مجھے صرف منظوم نثر لکھنے کی عادت ہے۔