
کالم نمبر:13
مطبوعہ روزنامہ ”جسارت” کراچی، 4/ دسمبر 1981ء
سُخن دَرسُخن۔۔۔خامہ بگوش کے قلم سے
یہ تصویر جو ہمارے کالم کے ساتھ شائع ہو رہی ہے، اسلام آباد کے ادبی ڈائجسٹ ”ملّت“ میں چھپی تھی۔ اس کے بارے میں شین۔ فرخ نے ”اخبارِخواتین“ میں لکھا ہے: ”ایک نومولود ادبی جریدے میں ایک تصویر شائع ہوئی ہے، وہ پرچہ آج کل افتخار عارف کے بریف کیس میں رہتا ہے۔ وہ اِسے اپنے دوستوں کو دکھا کر کہتے ہیں: ”دیکھو کیا زبردست تصویر ہے۔ مستقبل کا بڑا شاعر دور حاضر کے بڑے شاعر کے ساتھ کھڑا ہے۔“ شین فرخ نے یہ نہیں بتایا کہ اِن دونوں میں سے کس شاعر کا تعلق مستقبل سے ہے اور کس کا دور حاضر سے۔ بعض لوگوں نے ہم سے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے کہا ہے ہم سے اپنا ہی کوئی مسئلہ حل نہیں ہوتا تو دوسروں کے مسئلے کیا حل کریں گے۔ البتہ یہ قیاس آرائی کرسکتے ہیں کہ تصویر میں بڑا شاعر تو ایک ہی ہے جو دورِ حاضر اور مستقبل دونوں پر چھایا ہوا ہے۔ فیض احمد فیض تو یوں ہی تصویر کھنچوانے کے شوق میں مسکرارہے ہیں۔ معلوم نہیں فیض صاحب کو بڑے لوگوں کے ساتھ تصویر کھنچوانے کا اتنا شوق کیوں ہے؟
اوپر شین۔ فرخ کی جس بات کا حوالہ دیا گیا ہے وہ انھوں نے افتخار عارف کے ایک انٹر ویو میں لکھی ہے۔ یہ انٹرویو عورتوں کے ایک رسالے میں شائع ہوا ہے۔ حالانکہ اس میں بعض باتیں ایسی بھی ہیں جو صرف عورتوں تک محدود نہیں رہنی چاہئیں۔ اس قسم کی چند باتیں آپ بھی سنئے:
”لندن میں اور بھی نام ور لوگ بستے ہیں لیکن لندن سے کراچی آمد یا کراچی سے لندن روانگی کی خبریں صرف افتخارعارف اور نازیہ حسن کی چھپتی ہیں۔“
محترمہ شین۔ فرخ نے یہ نہیں بتایا کہ نازیہ حسن کی خبریں کون چھپواتا ہے۔
میں ابھی تیئیس برس کا تھا کہ سارے مشرقی اور مغربی پاکستان میں پہچانا جاتا تھا۔ ٹی وی کے حوالے سے اور اب شاعری کے حوالے سے ہندوستان، پاکستان اور دوسرے ملکوں میں تھوڑی بہت پہچان بن گئی ہے۔“
تھوڑی بہت نہیں بہت زیادہ کہیئے کہ اُردو شاعری کا موجودہ دور آ پ ہی سے منسوب ہے۔
”جس زمانے میں، میں چھوٹی بڑی محبوباؤں کے لیے شعر لکھا کرتا تھا، سلیم احمد نے مجھے مار مار کر رومانی شاعری کی غزلیت سے نجات دلائی۔“
مار کم پڑی ہوگی ورنہ سلیم احمد کے بارے میں تو یہ سنا ہے کہ وہ سرے سے شاعری ہی سے نجات بھی دلوا دیتے ہیں۔
اکیڈمی آف لیٹرز کی سالانہ پکنک
اکیڈیمی آف لیٹرز کے ڈائریکٹر جنرل نے ادیبوں کو ایک گشتی مراسلہ بھجوایا ہے کہ دسمبر کے آخر میں اسلام آباد میں ادیبوں کااجتماع (ضدین) ہو رہا ہے۔ اس موقع پر ایک دوروزہ ”قومی ادبی مذاکرہ“ بھی ہوگا۔ جو ادیب اس اجتماع میں شریک ہوں گے اُن کے قیام و طعام اور آمد و رفت کے اخراجات اکیڈمی ادا کرے گی۔
بعض باخبر ذریعوں نے بتایا ہے کہ اس اجتماع میں پانچ سو کے قریب ادیب شرکت کریں گے اور اخراجات کا اندازہ چار ساڑھے چار لاکھ روپے کا ہے۔ سننے میں آیا ہے کہ کچھ ادیب یہ تجویز پیش کررہے ہیں کہ ایک اجتماع یا پکنک پر اتنی بڑی رقم صرف کرنا مناسب نہیں ہے۔ اگر یہ رقم ادیبوں میں برابر برابر تقسیم کردی جائے تو اس سے ادب اور ادیب دونوں کا بھلا ہوگا اور ہر ادیب کو گلڈ کے انعامات سے زیادہ رقم گھر بیٹھے بٹھائے مل جائے گی۔
کراچی میں جن ادیبوں کو اب تک ڈائریکٹر جنرل کا گشتی مراسلہ نہیں ملا، وہ بےحد پریشان ہیں، اور انھوں نے اپنے نام مراسلہ منگوانے کی تگ و دو شروع کردی ہے۔ جو لوگ مذکورہ اجتماع میں شرکت کے متمنّی ہیں، ان کی تعداد صرف کراچی میں پانچ سو کے قریب ہے۔ واضح رہے کہ پچھلے سال کراچی کے کئی ادیبوں کو مدعو نہیں کیا گیا تھا تو انھوں نے احتجاجی جلسے کیے تھے، اس کے جواب میں ڈائریکٹر جنرل نے وعدہ کیا تھا کہ اگلے سال کسی کو شکایت نہیں ہوگی۔ اطلاع ملی ہے کہ احتجاج کرنے والوں میں اب تک صرف اُن چند ادیبوں کو دعوت نامے ملے ہیں، جن کا تعلق_________دبستان رابسن روڈ سے ہے۔ مہران رائٹرز گلڈ کے کسی رکن، حتیٰ کہ سیکرٹری کو بھی دعوت نامہ نہیں ملا حالانکہ انھوں نے کنور مہندر سنگھ بیدی سحر سے سفارش کرائی تھی۔ مہران رائٹرز گلڈ کے سیکرٹری نے کہا ہے کہ اگر اکیڈمی نے انھیں مدعو نہ کیا تو وہ اپنے خرچ پر اجتماع میں شریک ہوں گے اور نتائج کی ذمہ داری بھی خود ان کی اپنی ہوگی۔
کمزور شاعری، مضبوط پی آر
کراچی کے ایک شاعر ہیں جن کا تخلّص سہ حرفی ہے اور نام سلطان جمیل نسیم کے نام کی طرح تین مختلف اجزا پر مشتمل ہے۔ پہلے وہ ترقی پسند تھے اور آج کل ستائش پسند مصنفین کی صف میں شامِل ہیں اور اپنے ساتھ شامیں”منوانے“ کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ انھوں نے اپنا پہلا اور آخری مجموعۂ کلام مرتب کرلیا ہے۔ آخری اِس لیے کہ جو صاحب انھیں غزلیں لِکھ کردیتے تھے۔ روز گار مل جانے کی وجہ سے مستقل طور پر دوبئی چلے گئے ہیں۔ شاعر موصوف اپنے کلام کا مسودہ لے کر مشہور نقاد احمد ہمدانی کے پاس گئے اور اپنے مجموعے پر فلیپ لکھنے کی فرمائش کی۔ احمد ہمدانی نے مسودے کی ورق گردانی کرتے ہوئے کہا: ”آ پ کی شاعری بہت کمزور ہے۔“ شاعر صاحب نے فرمایا: شاعری کمزور ہے تو کیاہوا، میری پبلک ریلیشننگ تو کمزور نہیں۔یہ سن کر احمد ہمدانی مسکرائے اور کہا: ”یہ بات ہے تو پھر فلیپ کیا، میں آپ کے مجموعہ پر دیباچہ بھی لکھ سکتا ہوں۔“
ماو اِقبال
لاہور سے اِطلاع مِلی ہے کہ اقبال اکیڈمی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر معزالدین کو ایک صاحب نے یہ مشورہ دیا کہ اکیڈمی کی طرف سے ڈاکٹر علی شریعتی کی کتاب ”ماواقبال“ (اقبال اور ہم) کااردو ترجمہ شائع ہونا چاہیے۔ ڈاکٹر صاحب نے فرمایا: ”اچھا! ماؤزے تنگ اور اقبال کے تعلق سے بھی کتاب لکھی جا چکی ہے۔ ایسی کتاب کا تو اردو میں ضرور ترجمہ ہونا چاہیے۔
ڈاکٹر عالیہ اِمام کا سفر نامہ
ڈاکٹر عالیہ امام کئی ملکوں کی سیاحت کے بعد کراچی واپس آچکی ہیں اور گزشتہ کئی مہینوں سے گوشہ نشینی کی زندگی بسر کر رہی ہیں۔ اس عرصے میں انھیں کسی تقریب میں نہیں دیکھا گیا جب کہ پہلے کوئی تقریب ایسی نہیں ہوتی تھی جو ان کی شرکت کے بغیر منعقد ہو۔ ڈاکٹر صاحبہ کے گھر پر بھی ہر مہینے ایک آدھ سماجی تقریب ضرور ہوتی تھی۔ کبھی کوئی مشاعرہ ہوتا تھا جس میں موسیقار اپناکلام سناتے تھے اور کبھی کوئی محفلِ موسیقی ہوتی تھی جس میں شعرا عملی حصہ لیتے تھے۔ ڈاکٹر صاحبہ کی خاموشی کا سبب یہ معلوم ہوا ہے کہ وہ آج کل اپنا سفر نامہ لکھ رہی ہیں۔ اس سفر نامے میں متعلقہ ملکوں کی تاریخ اور جغرافیے کے بارے میں تازہ ترین تحقیقات بھی شامل کی جائیں گی۔