TIRYAAQ/ تریاق 0

تعلیم کہانی۔۔۔میکو شلم آنا اے!

Mujeeb Niazi
تحریر: مجیب اللہ خان نیازی

طارق مجید خان موچھ کے نوجوانوں کی ہر دل عزیز شخصیت ہیں۔ شائستہ اوردل چسپ انداز گفت گو کی حامل اس شخصیت کا تعلق پاکستان تحریک انصاف سے ہے۔ پچھلے دنوں ایک ملاقات میں فیس بک انصافی جنونیوں کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ فیس بک جنونی شام کو 20روپے کی مونگ پھلی خریدتے ہیں اور رات کو جب تک مونگ پھلی ”چگتے” (انھیں کے الفاظ کو ہو بہو نقل کیا گیا ہے) رہتے ہیں تب تک پارٹی کے ساتھ اخلاص اور وفا داریوں کی اسناد بانٹتے رہتے ہیں اور جب مونگ پھلی ختم ہو جاتی ہے تو ان کے سرٹیفیکیٹس بھی اس وقت اپنے اختتام کو پہنچ چکے ہوتے ہیں اور موصوف رضائی اوڑھ کر سو جاتے ہیں۔۔۔

طارق مجید خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر کبھی آپ ان ”دانش ور اور مجاہد صفت” جیالوں کو میدانِ عمل میں محض جھنڈا اٹھانے کی ذمہ داری بھی سونپنا چاہیں تو ان کا جواب ہوتا ہے: ”میکو شلم آنا اے!” (مجھے شرم آتی ہے)

یہی بے چارگی موچھ کے کچھ جنونی ”مصلحین” کو لاحق ہو گئی ہے۔ وہ موچھ کو منافقوں اور دو نمبر افراد کے چنگل سے نجات بھی دلوانا چاہتے ہیں، ”مظلوم” اساتذہ کو ”ظالم” سکول انتظامیہ کے ”پنجۂ استبداد” سے بھی آزاد کروانا چاہتے لیکن سامنے آنے سے گویا وہ بھی کہتے کہ: ” میکوشلم آنا اے!”۔۔۔ معاشرے کے ان ”نجات دہندگان” کی حالت یہ ہے کہ انھوں نے برقعے پہن رکھے ہیں اور قوم کے غم میں ان کی کمر دوہری ہوئی جاتی ہے۔۔۔ تمام نجات دہندگان چونکہ برقعوں میں ہیں اس لیے یہ بھی معلوم نہیں پڑتا کہ مصلح “ہی ہے یا شی”ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے تو ان برقع پوشوں کی پوسٹس پر کمنٹ نہ کرنے کی گویا قسم کھا رکھی ہے۔ البتہ ان کی پوسٹوں پر کمنٹس کرنے والے ”مرد” حضرات سے گذارش ہے کہ اگر ان برقع پوشوں سے کسی چوک چوراہے، کسی گلی محلے میں ملاقات ہو جائے تو انھیں اس بات پر قائل کر لیجیے گا کہ فیس بک چینل یا کیبل نیٹ ورک پر کیوں نہ آپ تمام برقع پوشوں اور ان کے ساتھ پسِ پردہ موسیقاروں اور منافقین، ظالم، غاصب اور دو نمبر لوگوں کا ایک لائیو شو کرا دیا جائے؟؟؟ اس لائیو ٹاک شو کے تمام اخراجات بندۂ نا چیز برداشت کرے گا۔

5/جنوری2018ء

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں