
مرحوم ڈاکٹر محمد اجمل نیازی اگرچہ بہت اچھے شاعر بھی تھے لیکن وہ بنیادی طور پرایک صاحب طرز نثر نگار تھے۔ صاحب طرز نثر نگار وہ ہوتا ہے جس کا اپنا منفرد انداز تحریر ہو۔ اچھے نثر نگار تو بہت ہیں مگر صاحب طرز نثر نگار بہت کم۔
ڈاکٹر اجمل نیازی بلاشبہ ایک صاحب طرز نثر نگار تھے۔ ان کی تحریر کا ایک اپنا ذائقہ ہے۔ سادہ الفاظ اور مختصر جملوں میں بہت بڑی بڑی باتیں کہہ دیتے تھے۔ مندر میں محراب کے عنوان سے ان کا بھارت کا سفرنامہ عمدہ نثر کا شاہ کار کہلا سکتا ہے۔
ڈاکٹر اجمل نیازی کی زیادہ تر تحریریں روزنامہ نوائے وقت میں بے نیازیاں کے عنوان سے کالموں کی صورت میں منظر عام پر آتی رہیں۔ ان کالموں کا ایک مجموعہ بھی شائع ہوا تھا۔ ابھی یہ سلسلہ جاری تھا کہ اچانک تقدیر نے یہ چراغ گل کر دیا۔
ڈاکٹر اجمل نیازی نظریاتی صحافی تھے۔ اپنے کالموں میں سیاست کی منافقتوں کو بے رحمی سے بے نقاب کرتے رہے۔
ادبی منظر نامے میں ڈاکٹر اجمل نیازی ملک بھر میں میانوالی کی پہچان تھے۔ چاروں صوبوں کے بلند پایہ اہل قلم سے ان کے ذاتی تعلقات تھے۔ لباس اور وضع قطع میں بھی وہ سراپا میانوالیین تھے۔ پشاوری طرز کی پگڑی ان کے لباس کا مستقل حصہ تھی۔ تقریبات میں ان کی گفت گو بھی سننے کے لائق ہوتی تھی۔ بہت ہنس مکھ اور زندہ دل انسان تھے۔
رہے نام اللہ کا ۔۔۔
منور علی ملک ۔۔۔
4/اگست2025ء
(مصنف کی اجازت سے اُن کی فیس بک وال سے منقول۔ایڈمن تِریاق)