
فیس بک دل کی باتیں شیئر کرنے کا بہت اچھا وسیلہ ہے اس وقت بہت سے لوگ فیس بک پر اپنے خیالات احساسات معلومات، تجربات اور مشاہدات منظرعام پر لارہے ہیں۔ فیس بک کے قارئین ان پوسٹس سے محظوظ اور مستفید ہو رہے ہیں۔ دوستی کے پائیدار رشتے بن رہے ہیں۔ لوگ ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے ہیں۔ ان رشتوں کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ دنیا کے ہر کونے سے ان پوسٹس پر رسپانس آتا ہے۔ پوسٹ فیس بک پر آتے ہی کمنٹس، تنقید، تجاویز اور مشوروں کی صورت میں رسپانس موصول ہونے لگتا ہے۔ کتنی دل چسپ بات ہے کہ ادھر آپ کی پوسٹ فیس بک پر نمودار ہوتی ہے اور ادھر فی الفور اپنے ملک کے علاوہ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے پاکستانی قارئین کا رسپانس آنا شروع ہو جاتا ہے۔ میرے بعض مہربان قارئین آسٹریلیا، فرانس، برطانیہ، کینیڈا، چین اور جاپان سے میری تحریروں پر اپنی رائے دیتے رہتے ہیں۔ جرمنی سے بھی ڈاکٹر نائیٹ رائڈر کے نام سے میرے ایک مستقل قاری میری پوسٹس پر اظہار خیال کرتے رہتے تھے۔ بہت عرصہ سے وہ شریک محفل نہیں ہو رہے۔ اللہ کرے بخیریت ہوں۔
تمہید خاصی طویل ہو گئی ہے۔ کل سے انشااللہ فیس بک کے نمایاں قلم کاروں کا مختصر تعارف لکھنا شروع کروں گا۔
رہے نام اللہ کا ۔۔۔
منور علی ملک ۔۔۔
6/اگست2025ء
(مصنف کی اجازت سے اُن کی فیس بک وال سے منقول۔ایڈمن تِریاق)