0

فیس بک کے اہلِ قلم (قسط اول)

میرا میانوالی: منور علی ملک

 

 

آج سے دس سال پہلے جب میں نے فیس بک کی وادی میں قدم رکھا تو سب سے پہلے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی کہ کیا میرا کوئی ہم عمر ہم مشرب بندہ بھی یہاں موجود ہے یا میں اکیلا ہی بچوں کی اس محفل کے رنگ میں بھنگ ڈالنے آگیا۔ یہ دیکھ کر اطمینان ہو گیا کہ میرے دو ہم عمر ہم ذوق دوست پروفیسر اشرف علی کلیار اور ظفر خان نیازی اس محفل میں بھر پور حصہ لے رہے ہیں۔ ظفر خان نیازی تو آج سے چند سال قبل سرحد حیات کے اس پار جا بسے۔ ظفر خان بہت معروف شاعر اور افسانہ نگار بھی تھے۔ فیس بک پر وہ میانوالی کے کلچر اور نمائندہ شخصیات کے بارے میں بہت عمدہ پوسٹس لکھا کرتے تھے۔

پروفیسر اشرف علی کلیار عربی کے پروفیسر ہیں۔ فیس بک پر زیادہ تر عربی کے اقوال زریں قسم کی چیزیں اور اپنی پسند کی پکچرز لگاتے رہتے ہیں۔ کچھ عرصہ سے وہ اپنے تجربات اور مشاہدات بھی مختصر پوسٹس کی شکل میں شیئر کر رہے ہیں۔ ذرا زیادہ مفصل لکھیں تو لوگ زیادہ مستفید ہوں گے۔

عصمت گل خٹک شاعر اور ادیب کے علاوہ ایک سینیئر صحافی بھی ہیں۔ مقامی اور قومی اخبارات میں سماجی اور سیاسی مسائل پر فکر انگیز کالم لکھتے رہے۔ فیس بُک پر اندر کی بات اور باہر کی بات کے عنوان سے اقوال زریں قسم کی دو سطری تحریریں لکھتے رہتے ہیں۔ کھل کر نہ لکھنے کی ایک وجہ تو ان کی کاروباری مصروفیات ہو سکتی ہیں، دوسری وجہ بڑھاپے کا ضرورت سے زیادہ احساس ہے۔ پتہ نہیں ان کا یہ احساس اتنا شدید کیوں ہے حالانکہ کالج میں یہ ہمارے سٹوڈنٹ تھے۔ جب اساتذہ بڑھاپے کے آگے ہتھیار نہیں ڈال رہے تو سٹوڈنٹس کیوں بڑھاپے کا رونا روئیں۔

کبھی کبھار عصمت گل خٹک اپنے آبائی علاقے کے حوالے سے کسی قدر مفصل پوسٹس لکھتے ہیں تو پڑھ کر مزا آجاتا ہے۔ اس مؤثر انداز تحریر کے استعمال میں کنجوسی نہ کریں تو لوگ بہت دعائیں دیں گے۔

ابھی فیس بُک کے بہت سے قابل قدر قلم کاروں کا تذکرہ باقی ہے۔ اس لیے یہ سلسلہ ایک دو دن مزید چلتا رہے گا۔

رہے نام اللہ کا ۔۔۔

منور علی ملک ۔۔۔

7/اگست2025ء

(مصنف کی اجازت سے اُن کی فیس بک وال سے منقول۔ایڈمن تِریاق)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں