0

دریا کے بَیٹ کے نیچے پانی کی ایکوائفر کی حقیقت کیا ہے؟

انجینیئر ظفر اقبال وٹو

 

 

کل رات شاہزیب خانزادہ کے پروگرام میں ایک سینیئر آبی ماہر صاحب فرما رہے تھے کہ دریائے سندھ کے آبی نظام کے نیچے 3500 کلومیٹر لمبی اور 5 کلومیٹر چوڑی ایک ایکوائفر ہے جس کے اندر 500 ملین ایکڑ فٹ پانی سٹور ہے جسے استعمال کرنے سے ہمارے تمام مسائل حل ہو جائیں گے اس لیے ہمیں ڈیم بنانے کی کوئی ضرورت نہیں۔

پاکستان زیرِزمین پانی کے ذخیرے کے لحاظ سے دُنیا کی ایک سُپرپاور ہے اور جو کہ صدیوں کی تطہیر شدہ پانی سے بنی ہے۔ تاہم یہ ایکوائفر لامتناہی نہیں۔ اس سے جتنا پانی ہم پمپ کریں گے اگر اُس کے برابر یا زیادہ فلٹر ہوکر اس میں واپس نہیں جاتا تو یہ کم ہونا شروع ہو جائے گی اور کم ہوتے ہوتے ایک دن ختم ہوجائے گی۔ ٹیکنیکل لوگ اسے سیف  یِیلڈ (safe yield) کہتے ہیں۔

اس زیرِ زمین ایکوائفر میں پانی زمینی تہوں سےفلٹر ہو کر جانے میں دنوں، مہینوں، سالوں اور صدیوں تک لگتے ہیں لیکن حِرص کا مارا انسان سولر پمپ لگا کر اس سے زیادہ پانی منٹوں میں واپس کھینچ لیتا ہے جس سے ایکوائفر کا توازن بگڑ جاتا ہے۔

صوبہ سندھ اور پنجاب میں لگے 20 لاکھ سے زیادہ ٹیوب ویل سالانہ 50-60 ملین ایکڑ فٹ پانی زمین سے کھینچ لیتے ہیں جو کہ دریائے سندھ کے سالانہ بہاؤ کے برابر بنتا ہے۔ سولر کے آنے کے بعد اس میں اور اضافہ ہوگا۔ اس کے مقابلے میں ہم سالانہ زمین کو کتنا پانی واپس بھیجتے ہیں؟

انڈیا سالانہ 180 ملین ایکڑ فٹ پانی زمین کو واپس بھیجتا ہے جسے managed aquifer recharge یا MAR کہتے ہیں۔ یہ حجم پاکستان کے کل سالانہ پانی 140 ملین ایکڑ فٹ سے بھی زیادہ ہے لیکن انڈیا میں پھر بھی زیرِ زمین پانی نیچے جارہا ہے کیونکہ وہاں بھی زراعت کے لیے بہت پانی پمپ ہوتا ہے۔

اگر ہم 50 ملین ایکڑ فٹ سالانہ بھی اپنی ایکوائفر سے باہر نکالیں تو موصوف ماہر صاحب کی 500 ملین ایکڑ فٹ کی لامتناہی سٹوریج صرف 10 سال میں ختم کر بیٹھیں گے۔ اس سے بڑا قدرت کے ساتھ کھلواڑ کیا ہوگا؟

 

انجینیئر ظفر اقبال وٹو2

29/اگست 2025ء

(مصنف کی اجازت سے اُن کی فیس بک وال سے منقول۔ ایڈمن تِریاق)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں