
کالم نمبر:15
(18/ دسمبر 1981ء)
سُخن دَرسُخن۔۔۔خامَہ بگوش کے قلم سے
معمارِ اعظم یا فراڈ:
افسانہ نگار انور سجاد نے “ادبِ لطیف” کے تازہ شمارے میں “میں اور میرافن” کے عنوان سے ایک دل چسپ مضمون لکھا ہے۔ اس میں انھوں نے بعض ایسی باتیں بھی لکھی ہیں جو صرف وہی لکھ سکتے تھے۔ فرماتے ہیں:
“انور سجاد نئے اردو افسانے کا معمارِ اعظم ہے۔ مجھے یہ بیان قبول ہے۔ اس سے رائے دینے والے کی کشادہ دِلی ثابت ہوتی ہے اور میں اس حوصلہ افزائی کا احترام کرتا ہوں”۔۔۔ “انور سجاد کتنا بڑافراڈ ہے۔ وہ کہانی بیان نہیں کرسکتا۔ وہ کہانی کا آدمی ہی نہیں ہے۔ مجھے اس عالمانہ رائے سے بھی اختلاف نہیں۔ میں اِس رائے کا بھی احترام کرتا ہوں اور خوش ہوں کہ ایسے عالِم، دانش وراورعظیم تخلیق کار میرے بارے میں ایسی آرا رکھتے ہوئے بھی اپنے لکھے ہوئے دیباچوں میں کنڈم کرنے کے باوجود اِس ناچیز کی کہانیوں کو اپنے مرتب کردہ انتخابات میں جگہ دینے پر مجبور ہیں جو وہ افسانے کی مارکیٹ میں اپنا سکّہ چلانے کی خاطر چھاپتے ہیں۔”
انور سجاد نے اپنے بارے میں دو مختلف گروہوں کی آرا درج کی ہیں۔ ایک گروہ انھیں افسانہ نگار نہیں مانتا۔ دوسرا مانتا ہے۔ کراچی کے ایک ابھرتے ہوئے اورعِلم میں ڈوبے ہوئے نقاد کا خیال ہے کہ انور سجاد معاملے کی تہہ تک نہیں پہنچ سکے۔ ان دونوں آرا میں کوئی تضاد نہیں ہے بلکہ یہ ایک ہی سلسلہء کلام یا معنوی اکائی کے دو اجزا ہیں۔ ایک جزو میں دعویٰ ہے اور دوسرے میں اس کی دلیل۔۔۔ آپ اِن دونوں اجزا کو ملا کر پڑھئے تو بات یوں بنے گی: “انور سجاد اردو افسانے کا معمارِ اعظم ہے۔ وہ کہانی بیان نہیں کرسکتا۔ کہانی کا آدمی ہی نہیں۔” مطلب یہ کہ آج کل افسانہ نگار کے لیے ضروری نہیں ہے کہ اسے کہانی بیان کرنے کا فن آتا ہو یا وہ کہانی کا آدمی ہو۔ وہ کہیں کا بھی آدمی ہوسکتا ہے اور اردو افسانے کا معمارِ اعظم کہلا سکتا ہے۔
جون ایلیا کی گوشہ نشینی:
ادبی حلقوں میں اِس بات پر تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے کہ جون ایلیا ایک عرصے سے ادبی منظر سے غائب ہیں۔ ادبی رسالوں میں ان کا کلام شائع ہو رہا ہے نہ وہ کسی مشاعرے میں شرکت کر رہے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ ٹی وی کے بھی کسی پروگرام میں نظر نہیں آتے حالانکہ ایک زمانے میں ان کے وقت کا بڑا حصہ ٹی وی کے پردے پر یا ٹی وی اسٹیشن پر گزرتا تھا۔ اِس خاموشی اور گوشہ نشینی کا سبب یہ معلوم ہوا ہے کہ موصوف آج کل ایک عظیم الشان مثنوی کی تخلیق میں مصروف ہیں۔ یہ مثنوی حجم میں فردوسی کے شاہنامہ کے برابراورمعیار میں خود جون ایلیا کے سابقہ کلام کے برابر ہوگی۔ اِس مثنوی میں حیات وکائنات کے مسائل پر بے شمار بحثیں ہوں گی۔ اکثر بحثیں چونکہ بہت پیچیدہ نوعیت کی ہیں۔ اس لیے پاکستان کے مشہور اور واحِد فلسفی سید محمد تقی اِس مثنوی کی شرح بھی ساتھ ساتھ لکھتے جاتے ہیں۔ چونکہ موصوف جون ایلیا کے مقابلے پر زود نویس ہیں اس لیے توقع ہے کہ مثنوی کی تکمیل سے پہلے اس کی شرح مکمل ہو جائے گی۔
ڈگریوں کی ذخیرہ اندوزی:
سننے میں آیا ہے کہ ڈاکٹر انورسدید نے اپنے ان مقالات کو کتابی صورت میں مرتب کرلیا ہے جو احمد ندیم قاسمی کے بارے میں ہیں۔ انور صاحب اِس کتاب کو ڈی لٹ کی ڈِگری کے لیے پیش کریں گے۔ واضح رہے کہ موصوف پی ایچ ڈی کی ڈِگری پہلے ہی حاصل کرچکے ہیں جو غیر مطبوعہ تحقیقی کام پر دی جاتی ہے۔ اور ڈی لٹ کی ڈگری مطبوعہ کام پر ملتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ڈاکٹر انور سدید اِتنی بہت سی ڈگریوں کو کیا کریں گے؟ کیا یہ بہتر نہ ہوگا کہ موصوف فاضِل ڈگریاں اپنے احباب میں تقسیم کردیں۔ مثلاً منشی فاضِل کی جو ڈِگری اُن کے پاس بیکار ہے وہ راغب شکیب کے کام آسکتی ہے۔
روشن لوگوں کی کالی نظمیں:
آج کل امجد اسلام امجد اپنے قریبی دوستوں کی نظموں کا ایک انتخاب مرتب کررہے ہیں۔ اس کا نام انھوں نے “روشن لوگوں کی کالی نظمیں” رکھا ہے۔ واضح رہے کہ اس سے پہلے امجد صاحب “کالے لوگوں کی روشن نظمیں” شائع کرچکے ہیں۔
دنیا اُمید پر قائم ہے:
نثری نظم نگار مبارک احمد نے اپنا مجموعہء کلام مرتب کر لیا ہے اور اس کا نام “دنیا امید پر قائم ہے” رکھا ہے۔ انھوں نے اپنے مجموعہء کلام کا مسودہ ڈاکٹر سلیم اختر کے حوالے کیا ہے اور ان سے درخواست کی ہے کہ وہ اِس مسوّدے کو دیکھ کر بتائیں کہ اس پر آدم جی اِنعام مل سکتا ہے کہ نہیں۔ ڈاکٹر سلیم اختر کا جواب ملنے پر مبارک احمد فیصلہ کریں گے کہ یہ مجموعہ قابلِ اشاعت ہے یا نہیں۔ واضح رہے کہ ڈاکٹر سلیم اختر آئندہ سال بھی آدم جی اِنعام کے جج ہوں گے۔
سرقہ یا توارد؟
راولپنڈی اوراسلام آباد کے افسانہ نگار اور نقاد احمد جاوید نے کہا ہے کہ انھوں نے اپنی ایک زیرِ طبع کتاب کا نام “سفر در سفر” رکھا تھا لیکن اشفاق احمد یہ نام لے اڑے اور اِس نام سے اپنی کتاب چھپوادی۔ احمد جاوید نے اپنے دعوے کے ثبوت میں کہا ہے کہ “اکیڈمی آف لیٹرز” کی شائع کردہ مصنفین کی ڈائریکٹری کے صفحہ 20 پر میری اِس کتاب کا حوالہ موجود ہے۔ ہم نے یہ ڈائریکٹری دیکھی تو احمد جاوید کا دعویٰ درست نکلا۔ اب ہم احمد جاوید کو مشورہ دیں گے کہ وہ اشفاق احمد کی کتاب کا مطالعہ بھی کرلیں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کی یعنی احمد جاوید کی کتاب کے نام کی طرح اس کا متن بھی اشفاق احمد نے استعمال کرلیا ہو۔
تلافی کی بھی ظالِم نے تو کیا کی
ڈرامہ نگار ابصار عبدالعلی کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ آج کل افسانے لکھ رہے ہیں۔ ان کے قریبی حلقوں نے بتایا ہے کہ افسانہ نگاری سے ان کا مقصد یہ ہے کہ ان کی ڈرامہ نگاری سے اردو ادب کو جو فائدہ یا نقصان پہنچا ہے۔ اس کی تلافی کی جا سکے۔
کلام اِقبال بزبان ِرفیق خاور
گزشتہ برس رفیق خاور نے ایک فارسی مثنوی شائع کی تھی جس کے بارے میں ان کا دعویٰ تھا کہ یہ مثنوی علاقہ اقبال نے انھیں خواب میں لکھوائی تھی۔ اِس مثنوی کا نام “حرفِ نشاط آور” ہے جب کہ خواب کی رعایت سے “حرفِ خواب آور” مناسب ہوتا۔ فارسی جاننے والوں کی رائے یہ ہے کہ اِس مثنوی کی فارسی واقعی ایسی ہے کہ عالمِ بیداری میں نہیں لکھی جا سکتی۔ اس فارسی کو علامہ اقبال سے منسوب کرنا ایسا ہی ہے جیسے رفیق خاور اپنے اردو کلام کے بارے میں دعویٰ کریں کہ یہ انھیں غالب یا میر تقی میرؔ نے خواب میں لکھوایا تھا۔ بڑے شاعر خواب میں بھی صحیح زبان لکھنے کے عادی ہوتے ہیں۔
سنا ہے آج کل خاور صاحب حفیظ جالندھری کے شاہنامے کا فارسی نظم میں ترجمہ کررہے ہیں۔ خاور صاحب نے بتایا ہے کہ ترجمہ اصل سے بڑھ گیا ہے۔ یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ ترجمہ ادبی معیار میں آگے بڑھا ہے یا تعداد اشعار میں۔
سو سال پہلے کا ایک لَطیفہ
پچھلی صدی کے آخر میں دہلی سے ایک اخبار“کرزن گزٹ” شائع ہوتا تھا جس کے ایڈیٹر مرزا حیرت دہلوی تھے۔ اِس اخبار میں کوئی صاحب “عنقا” کے فرضی نام سے مضمون لکھتے تھے۔ انھیں دنوں دہلی سے ایک اور اخبار جاری ہوا جس کا نام “نیرنگِ نظر” تھا۔ اِس اخبار کے ایڈیٹر نے مرزا حیرت سے درخواست کی: “اگر آپ کو اعتراض نہ ہوتو میں اپنے اخبار کے لیے عنقا کی خدمات حاصِل کرلوں۔”
مرزا حیرت نے کہا: “مجھے اِس پر کوئی اعتراض نہیں لیکن میری ایک شرط ہے۔”
“وہ کیا؟” ایڈیٹر نے پوچھا:
“عنقا کے مضامین توآپ کے اخبارمیں شائع ہوں، لیکن اس کی تنخواہ ہمارا اخبار ادا کرتا رہے۔”
“وہ کیوں؟”
“آپ صحافت کے میدان میں نووارِد ہیں، اس لیے بیک وقت دودونقصان اٹھانا آپ کے لیے ممکن نہ ہوگا۔”
نیرنگِ نظر کاایڈیٹر بہت خوش ہوا اورا س نے عنقا کے مضامین اپنے اخبار میں چھاپنے شروع کردیئے۔ چار پانچ ماہ کے بعد یہ ایڈیٹر مرزاحیرت کے پاس گیا اور کہا: “کیا یہ نہیں ہوسکتا کہ عنقا کے مضامین آپ حسب ِسابق اپنے اخبار میں شائع کرتے رہیں اور ہمارا اخبار عنقا کو تنخواہ دیتا رہے۔”
“کیوں؟” مرزا حیرت نے حیرت سے پوچھا:
نیرنگِ نظر کے ایڈیٹر نے ہاتھ باندھ کرکہا: “حضور آپ ہی نے تو کہا تھا کہ میں صحافت کے میدان میں نووارِد ہوں۔ آپ ماشاء اللہ پرانے اور بڑے اخبار نویس ہیں بڑا نقصان آپ اٹھا لیجئے، چھوٹا نقصان میں اٹھالوں گا۔”
یہاں تک ایک تاریخی واقعہ تھا جو ہم نے بیان کردیا لطیفہ اب شروع ہوتا ہے اور صرف اتنا ہے کہ عنقا کے فرضی نام سے خود مرزا حیرت ہی مضامین لکھا کرتے تھے۔ قارئین کرام اِس لطیفے کے جملہ حقوق مرزاحیرت کے نام محفوظ ہیں لہٰذا آج کے دور کے کسی کالم نگار سے یہ لطیفہ منسوب نہ کیا جائے۔