
مجھے بچپن سے ہی پالتو جانوروں سے بے حد اُنس رہا۔ اِن جانوروں میں مرغ، تیتر اور بٹیر سبھی شامل ہیں۔ جانوروں کے لیے چارا کاٹنا، کترا بنانا، اسے جانوروں کو ڈالنا، جانوروں کو نہلانا، انھیں پانی پلانا اور چارا ڈالنے کے بعد ان کے قریب چارپائی ڈال کر بیٹھنا میری پسندیدہ مصروفیت ہوتی۔مجھے بچپن میں سکول سے کئی ایسی چھٹیاں بھی یاد ہیں جو میں نے صرف اس لیے کی ہوتیں کہ اُس دن ہمارے گھر کسی بکری، بھیڑ، گائے یا بھینس نے کوئی بچہ جنا ہوتا۔ میں سارا دن نوزائیدہ بچے کے آگے پیچھے پھرتا رہتا اور جانوروں سے اُنس کی حس کو تسکین پہنچاتا رہتا۔ ہمارے والد صاحب بھی تیتر کی حد تک یہ شوق فرماتے تھے۔
میری عمر ساڑھے پانچ سال تھی کہ ایک بار والد صاحب کا سیاہ تیتر پنجرے میں بند تھا کہ مجھے یہ سجھائی دیا کہ میں اس کو اپنے ہاتھوں میں پکڑوں۔ میں نے جیسے ہی تیتر کو باہر نکال کر ہاتھوں میں پکڑنا چاہا تو وہ مجھ سے قابو نہ ہوا اور فرار ہوگیا لیکن میں خلافِ روایت کسی بھی قسم کی ڈانٹ ڈپٹ سے بالکل محفوظ رہا۔ کچھ عرصہ بعد ہمارے والد صاحب ایک اور سیاہ تیتر لے آئے۔ تیتر آنے کے کچھ دنوں بعد پھر پرندوں کی محبت نے جوش مارا اور پھر یہ خواہش پیدا ہوئی کہ چونکہ پچھلی بار میں تیتر کو ہاتھوں میں نہ پکڑ سکا تھا لہٰذا کیوں نا اب کی بار انتہائی احتیاط سے اس نئے تیتر پر قسمت آزمائی کی جائے۔ اپنے اس ”نیک مقصد“ کو عملی جامہ پہنانے کے لیے میں نے ایک بار پھر وہی عمل دہرایا اور جنابِ سیاہ تیتر نے بھی اُسی روایت کو دہرایا جس پر اس کا پیش رو عمل کر چکا تھا۔ میں نے جیسے ہی تیتر کو باہر نکالا تو وہ میرے ہاتھوں سے آناً فاناً فرار ہو کرفضا میں اُڑنے لگا۔ تاہم اب کی بار مجھے یہ سمجھ آ گئی کہ تیتر کا سائز کافی بڑا ہوتا ہے اور میرے ہاتھ کافی چھوٹے ہیں اس لیے یہ مجھ سے اپنے ہاتھوں میں قابو نہیں ہوتا لیکن میری یہ سمجھ ایک ”مشرقی والد“ سے جان بچانے کے لیے ناکافی تھی۔
مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا کروں۔ اِضطراب کی حالت میں گھر کی حویلی سے باہر نکلا تو دیکھا کہ میری چچی حویلی سے ملحق اپنے ٹیوب ویل پر کپڑے دھو رہی ہیں اور اُن کے ساتھ اُن کا سات آٹھ ماہ کا بیٹا محمد خان بھی بیٹھا ہے۔ میں نے اپنی چچی کو کہا کہ آپ کو محمد خان تنگ کررہا ہوگا۔ لائیں اسے مجھے دیں میں اسے گھر لے جاکر بہلاتا ہوں اور تب تک آپ تسلی سے کپڑے دھوئیں۔ انھوں نے مجھے دعا دی (او بشکا تھیوم) اور خوشی خوشی اپنے لختِ جگر کو میرے حوالے کر دیا۔ میں اُسے گھر لے گیا اور تین چار منٹ بعد واپس آکر اُسے چچی کے پاس یہ کہتے ہوئے چھوڑا کہ آپ ہی اس کو سنبھالیں۔ اس نے تو بابا کے تیتر کے پنجرے کا دروازہ کھول دیا ہے اور تیتر اُڑ گیا ہے (تیتر کے پنجرے کے دروازے میں ایک باریک سی ہک تھی جسے بچے کے لیے نکالنا کوئی مشکل کام نہ تھا۔ نا سمجھ بچے اکثر اس طرح کے ”چن چڑھاتے“ رہتے ہیں)۔ میری چچی نے (او رڑّے کراڑاں نے کہتے ہوئے) اپنے بیٹے کو سنبھالا اور میں ایک اور تیتر کو ہضم کرنے کے باوجود مطمئن اور پر سکون ہو گیا کہ میری بروقت ترکیب میرے کام آچکی تھی۔

طالب علموں کے جین میں شامل ہوجاتا ہے کہ ٹیچر جس مرتبے اور جس مقام کا بھی ہو وہ اُسے فرلو لگانے کی کوشش کرتے ہیں۔ جس ٹیچر پر وار کامیاب ہوجائے اُسے جوت لیتے اور جس پر وار ناکام ہوجائے اُس سے پھر کنی کتراتے ہیں۔ اپنی ٹیچنگ کی زندگی میں جب کبھی مجھے میرے شاگرد بے وقوف بنانے کی کوشش کرتے ہیں تو میں اُنھیں کہتا ہوں بیٹا آپ غلط جگہ پر طبع آزمائی کررہے ہیں۔یہ جو آپ مجھے بے وقوف بنانے کی کوشش کررہے ہیں یہ کام میں نے پانچ سال کی عمر میں ہی سیکھ لیا تھا۔
جب میں نے ٹیچنگ شروع کی تو ارادتاً یا خواہش کے مطابق نہ کی بلکہ حادثاتی طور پر اس فیلڈ میں آگیا تھا لیکن اب میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ میں جلد ٹیچنگ اور جماعت اسلامی سے وابستہ ہو گیا تھا۔ اِن دونوں نے مجھے بہت ذمہ دار، بے حد سنجیدہ بنا دیا ہے اور ایک بامقصد زندگی سے ہمکنار کردیا ہے ورنہ خدا نخواستہ میری زندگی کسی بھی غلط رخ پر جا سکتی تھی۔
اللہ تعالیٰ ہر انسان کو دکھوں اور مصیبتوں سے محفوظ رکھے اور با مقصد زندگی جیسی عظیم دولت سے نوازے۔ آمین!