0

سبز دعاؤں کی کونجیں کیوں ہجرت کر جاتی ہیں

 

تحریر: طارق اقبال خان نیازی

ہجرت صرف سفر نہیں، یہ وہ فیصلہ ہے جو دل کے ایک گوشے میں چھپے ہوئے درد کو لے کر جنم لیتا ہے۔ یہ صرف زمین بدلنے کا نام نہیں، بلکہ خواب، رشتے، یادیں، محبتیں حتیٰ کہ جڑیں تک چھوڑنے کا عمل ہے۔ خاص طور پر جب یہ ہجرت مجبوری بن جائے۔ مجبوری کی ہجرت ایسا زخم بن جاتی ہے جو صدیوں تک رِستا رہتا ہے۔

میانوالی— پنجاب کی عظمت کا وہ گوشہ جو تہذیب، غیرت، محبت اور مٹی سے وابستگی کا مظہر ہے— آج ہجرت کی ایک افسوسناک تصویر بن چکا ہے۔ جہاں کبھی زندگی کے رنگ تھے، اب وہاں خوف کی دھند، خاموشی کی راکھ، اور محرومی کی گونج چھائی ہوئی ہے۔ یہاں کے نوجوان، جو کل تک اپنی زمین کو سینے سے لگائے رکھتے تھے، آج بڑے شہروں، صوبوں اور یہاں تک کہ بیرونِ ملک جانے کو بے تاب ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟

فقط اِس لیےکہ یہاں رہ کر وہ محفوظ نہیں، مطمئن نہیں، باوقار نہیں۔

میانوالی میں آج جو ہجرت ہو رہی ہے، اس کی وجوہات صرف معاشی نہیں، بلکہ سماجی، نفسیاتی اور وجود اور ہستی کی بقا کی بھی ہیں۔ روز کی قتل و غارت گری نے لوگوں کے دلوں میں خوف کا ایسا بیج بو دیا ہے جو فصل بن کر یقین کی زمین کو نگل چکا ہے۔بے روزگاری نے تعلیم یافتہ ذہنوں کو مایوسی کی دھند میں گم کر دیا ہے۔ بدامنی اور بدمعاشی نے اُن گلیوں کو اجنبی بنا دیا ہے جن میں کبھی محبتوں کے گیت گونجا کرتے تھے۔لڑائی جھگڑوں کی سیاست نے رشتوں کو زہریلی بحثوں میں بدل دیا ہے۔تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولیات صرف کاغذ پر رہ گئی ہیں، حقیقت میں ان کی جگہ محرومی اور لاچارگی نے لے لی ہے۔

–وسائل کی کمی اور کاروبار و ملازمت کے ناپید مواقع نے نوجوانوں کو یا تو نشے میں دھکیلا یا پھر مٹی سے مَحَبت کو گروی رکھ کر ہجرت پر مجبور کر دیا۔

یہ المیہ صرف میانوالی کا نہیں بلکہ وہ ایک قومی آئینہ ہے جس میں آج  وطنِ عزیز کا ہر علاقہ اپنی بگڑتی صورت دیکھ سکتا ہے۔

اور اہلِ اختیار۔۔۔ اِن کی تو شان ہی الگ ہے۔ گویا:

تند موجیں بڑھ رہی تھیں اور دیوانہ

مطمئن بیٹھا ہوا تھا ریت کی دیوار پر

اے اہلِ طاقت و اہلِ اختیار!

ہجرت کو محض اعداد و شمار نہ سمجھئے۔ ہر ہجرت ایک امید کے قتل، ایک خواب کے جنازے اور ایک شہر کی ناکامی کی علامت ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری دھرتی کے بیٹے بیٹیاں اپنی مٹی میں جیئیں، بڑھیں اور سنوریں— تو ہمیں ان محرومیوں کو زبان، اِن دردوں کو راہ اور ان مسائل کو حل دینا ہو گا۔ہمیں امن، روزگار، تعلیم، صحت، اور خود اعتمادی کی وہ فضا دینی ہو گی جو ہجرت کو نہیں، سکونت کو جنم دے۔

وطنِ پاک  کے خالی ہوتے گھروں سے صدا آتی ہے:

”ہم جانا نہیں چاہتے تھے، ہمیں جانے پر مجبور کیا گیا پڑا۔” آج اگر ہم نے اِن صداؤں کو نہ سُناتو کل صرف شہر نہیں، پورا وطن ویران ہو جائے گا۔

ہم نے عنوان میں جس شعر کے مصرعے کا سہارا لیا ہے وہ میانوالی کے ایک فرزند سید محمد فیروز شاہ صاحب کا شعر ہے۔ مکمل شعر بھی ملاحظہ فرماتے جائیے:

گھر سُونا کر جاتی ہیں مائیں کیوں مر جاتی ہیں

سبز دعاؤں کی کونجیں کیوں ہجرت کر جاتی ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

سبز دعاؤں کی کونجیں کیوں ہجرت کر جاتی ہیں“ ایک تبصرہ

  1. السلام علیکم! طارق اقبال خان بھائی آپ کی اِس تحریر نے دِل چھوا تبھی آپ سے ”تِریاق” کے لیے یہ تحریر مانگ لی۔ آپ نے ہر پاکستانی کا نوحہ بیان کیا ہے اس میں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں