0

میرے معبود ملا، دوست پرانے… ڈاکٹر عظمیٰ سلیم

 

ڈاکٹر عظمیٰ سلیم
ڈاکٹر عظمیٰ سلیم

 

میرے معبود ملا، دوست پرانے گزرے

وہی آواز، وہی ساز، ترانے گزرے

دل کی خواہش ہے کبھی پھر سے اُسی آنگن میں
کاش مل جائیں، وہی وقت پرانے گزرے

شمعِ اُمید بہر طور جلائے رکھی
تیرگی کم نہ ہوئی، گرچہ زمانے گزرے

رہِ الفت میں مرے نام کا پتھر ہی نہیں
ورنہ اس رہ سے محبت کے خزانے گزرے

کیسی آوازیں مرے چار طرف گونجتی ہیں
کوئی اے کاش سنا دے وہ فسانے گزرے

دل کی آبادی کا ساماں ہیں پرانی یادیں
خوشبوئیں بن کے مہکتے ہیں زمانے گزرے

عشق اور شعر نے کس کس کو لہو رلوایا
میر صاحب ہی نہیں ایک دوانے گزرے

وقت کی سل مرے سینے پہ دھری رکھی ہے
شل بدن سوچتا ہے کب یہ نہ جانے گزرے

دل کبھی سوچ کے عظمیٰ یہ لرز جاتا ہے
ایک سے ایک کٹھن، کیا کیا زمانے گزرے

ڈاکٹر عظمیٰ سلیم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں