
بخت کے تخت سے یکلخت اتارا ہوا شخص
تُو نے دیکھا ہے کبھی جیت کے ہارا ہوا شخص
ہم تو مقتل میں بھی آتے ہیں بصد شوق و نیاز
جیسے آتا ہے محبت سے پکارا ہوا شخص
کب کسی قرب کی جنت کا تمنائی ہے
یہ ترے ہجر کے دوزخ سے گزارا ہوا شخص
بعد مدت کے وہی خواب ہے پھر آنکھوں میں
لوٹ آیا ہے کہیں جا کے سِدھارا ہوا شخص
اب اندھیرے ہیں کہ لیتے ہیں بلائیں اُس کی
روشنی بانٹ گیا دیپ پہ وارا ہوا شخص
موت کے جبر میں ڈھونڈی ہیں پناہیں اس نے
زندگی یہ ہے ترے لطف کا مارا ہوا شخص
جب بھی حالات کی چھلنی سے گزارا خود کو
ہاتھ آیا ہے مرے مجھ سے نتھارا ہوا شخص
اسد رحمٰن خان پپلاں، میانوالی