
جس دُھوپ کے دل میں ٹھنڈک تھی
مجھے نہیں معلوم کہ ناصر کاظمی نے کس قلبی واردات کے زیرِ اثر اپنی مشہور غزل کا یہ شعر کہا تھا:
جس دھوپ کی دل میں ٹھنڈک تھی وہ دھوپ اُسی کے ساتھ گئی
ان جلتی بلتی گلیوں میں اب خاک اُڑاﺅں کس کے لیے
لیکن مجھے یہ شعر (معمولی سی ترمیم کے ساتھ جو کالم کے عنوان میں اختیار کی گئی ہے) 25 فروری 2012ء کی صبح ساڑھے سات پہ پہنچا دیتا ہے کہ جب میری والدہ محترمہ نے داعی ء اجل کو لبیک کہا تھا اور ہم تمام پسماندگان حکمِ خداوندی کے سامنے بے بس اور مجبور تھے۔
میں نے اپنی والدہ کے لیے جان بوجھ کر لفظ ”دُھوپ“ کا انتخاب کیا ہے کیونکہ میری والدہ اپنے مزاج اور گفتار میں انتہا کی سخت گیر خاتون تھیں۔ ہمیں کبھی یاد نہیں پڑتا کہ ہم بہن بھائیوں نے بے جا لاڈ یا بد تمیزی کی رَوِش اپنائی ہو اور ہماری والدہ نے ”مامتا“ کی محبت سے مجبور ہو کر اُسے برداشت کر لیا ہو۔ البتہ ایسے درجنوں واقعات ضرور ہیں کہ ان کے ہاتھوں ہماری اچھی خاصی پٹائی ہوئی۔ لیکن اس سب کچھ کے باوجود جب میں اپنی زندگی میں پلٹ کر جھانکتا ہوں تو مجھے ان گنت ایسے واقعات نظر آتے ہیں جِن میں اُس ”دُھوپ“ کے دل کی ٹھنڈک کو خوب محسوس کیا جا سکتا ہے۔
میری عمر تقریباً آٹھ سال تھی کہ ہمیں ایک بارات میں کم و بیش 4 کلو میٹر پیدل چلنا تھا، ابھی ہم نے 2 کلو میٹر راستہ طے کیا ہو گا کہ میری والدہ نے مجھے اُٹھا لیا۔ اُس وقت میں کافی نا سمجھ تھا اس لیے مجھے ”بالکل“ سمجھ نہیں آئی تھی کہ ایک سخت گیر ماں نے مجھے کیوں اُٹھا لیا ہے جبکہ نہ تو میں تھکا ہوا تھا اور نہ ہی اتنا چھوٹا تھا کہ آسانی سے اُٹھایا جا سکتا۔
اِسی طرح جولائی 2001ء میں کسی سرگرمی کو نمٹانے میں مجھے مسلسل تین چار روز دن رات کام کرنا پڑا۔ اُن دنوں میں ایک دوپہر تھوڑی دیر کے لیے مجھے اپنے گھر ایک گھنٹہ آرام کرنے کا موقع ملا۔ ٹھیک ایک گھنٹہ بعد مجھے اپنے دوستوں کے ساتھ اُسی ٹاسک کے سلسلہ میں دوبارہ کہیں جانا تھا۔ میں اُس ایک گھنٹہ میں سونا چاہتا تھا۔ میں نے اپنی والدہ اور بہن جو پرانے کپڑوں کی چھانٹی پہ لگی ہوئی تھیں‘ کو یہ کہا کہ آپ مجھے ٹھیک ایک گھنٹہ بعد جگا دیجیے گا۔
اگرچہ وہ ایک گھنٹہ میں نے آرام تو کر لیا لیکن دوستوں سے بر وقت پہنچنے کے وعدے کی فکر کی وجہ سے مجھے نیند نہیں آئی اور میں چہرے پر رکھے اپنے بازوﺅں کی اوٹ سے بار بار سامنے دیوار پر آویزاں گھڑی کو دیکھ رہا تھا جبکہ میری والدہ اور بہن میرے جاگنے سے بے خبر تھیں۔ میری بہن بھی بار بار گھڑی کو دیکھ رہی تھی۔ جیسے ہی ایک گھنٹہ گزرا اُس نے فوراً مجھے مخاطب کرنا چاہا۔ اُس کے منہ سے ابھی لفظ ”بھائی جان!“ ہی ادا ہوا تھا کہ میری والدہ نے اُسے چپ رہنے کا اشارہ کیا۔ اب میں کچھ بڑا ہو چکا تھا اس لیے اب مجھے ”کچھ کچھ“ سمجھ آئی کہ میری والدہ نے ایسا کیوں کیا ہے۔
یہ پندرہ جنوری 2012ء کی رات ہے۔ اُس روز میانوالی میں طویل اور تھکا دینے والی میٹنگز میں شرکت اور روکھڑی میں ایک فرد کے گھر رات کا کھانا کھانے کی وجہ سے میں رات کو بہت دیر سے گھر آیا تھا۔میں نے گھر سے کافی دُور اپنی موٹر سائیکل بند کی تاکہ اگر میری والدہ سو چکی ہوں تو موٹر سائیکل کی آواز کی وجہ سے نہ جاگ جائیں۔ موٹر سائیکل کو دالان میں کھڑا کرنے کے بعد میں دبے پاﺅں اپنی والدہ کے کمرے کے سامنے سے اس نیت کے ساتھ گزرا کہ اگر وہ جاگ رہی ہوں گی توکمرے میں داخل ہو جاﺅں گا (جاگنے کی نشانی یہ تھی کہ امی اور بہن کے درمیان گپ شپ کی آواز آ رہی ہوتی) اور اگر نہیں جا گ رہی ہوں گی تو خاموشی سے اپنے کمرے میں چلا جاﺅں گا۔ اُن کے کمرے میں خاموشی تھی لہٰذا میں اپنے کمرے کی طرف بڑھنے لگا، ابھی اُن کے کمرے کا دروازہ عبور ہی کیا تھا کہ آواز آئی:
” مجیب اللہ!“
میں نے جواب دیا:
”جی اماں جی۔“
انھوں نے پوچھا:
”کھانا کھانا ہے؟“
(اردو ترجمہ۔ ہماری گفتگو سرائیکی میں ہوئی تھی۔)
اب میں کافی بڑا ہو چکا تھا اور مجھے ”بہت زیادہ“ باتیں سمجھ آ جاتی تھیں اس لیے مجھے پتا تھا کہ وہ مجھ سے کھانے کا کیوں پوچھ رہی ہیں، تبھی تو اپنے کمرے تک پہنچتے پہنچتے میری آنکھیں بھیگ چکی تھیں۔ شاید اس لیے بھی کہ مجھے پتا تھا کہ میری ماں اب ہمارے پاس کچھ دنوں کی مہمان ہیں۔
فروری 2006ء سے لے کر فروری 2012ء تک اُنھوں نے چھ سال کا عرصہ وقفے وقفے سے CMH سرگودھا، CMH راولپنڈی، DHQ میانوالی اور عبید نور ہسپتال میانوالی میں گزارا تھا۔ ان چھ سالوں میں مسلسل تقریباً ہر ہفتے گردوں کی صفائی (dialysis) کے مرحلے سے گزرتی رہیں۔ گردوں کے مرض کو جاننے والے لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ مشین کے ذریعے گردوں کی صفائی اس قدر تکلیف دہ عمل ہوتا ہے کہ ہر dialysis کو بندہ مریض کی زندگی کا آخری دن سمجھ رہا ہوتا ہے۔

میں نے یہ واقعات صرف اپنی ماں کی محبت میں بیان نہیں کیے کیونکہ یہ واقعات اور محبت محض میری ماں کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ اس کائنات کی ہر ماں میری ماں جیسی ہے جو اگرچہ دُھوپ ہی کیوں نہ ہو، مگر ایسی دُھوپ ہوتی ہے کہ جس کے دل کی ٹھنڈک کو ”بازوﺅں کی اوٹ“ سے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ ٹھنڈک جنہیں میسر ہے وہ اس کی قدر کریں اور جن سے یہ ٹھنڈک روٹھ چکی ہے، وہ اپنے رب کو خوش رکھنے کا کوئی اور طریقہ تلاش کرلیں اور تیز قدم نہ چلیں۔
میں بہت قریب سے دیکھ چکا ہوں کہ ماں کی دعا کے بغیر زندگی کا سفر گویا ایسے ہے کہ تیز بارش میں آپ کو چکنی مٹی والے راستے پر چلنا ہے جہاں قدم قدم پر پھسلن ہے۔ اس بات کا اب مجھے ”مکمل“ پتا چل گیا ہے کیونکہ اب میں دعاﺅں کے لازوال خزانے کو کھو چکا ہوں اور روز سوچتا اور کہتا ہوں:
گھر سُونا کر جاتی ہیں مائیں کیوں مر جاتی ہیں
سبز دعاﺅں کی کونجیں کیوں ہجرت کر جاتی ہیں
والدہ صاحبہ کی تیسری برسی، 25 فروری 2015ء کو لکھی گئی تحریر