
ہائے اُس زُود پشیماں کا پشیماں ہونا
غالب نے کہا تھا:
کی میرے قتل کے بعد اُس نے جفا سے توبہ
ہائے اُس زُود پشیماں کا پشیماں ہونا
کل قتل ہونے والی خاتون کا آج صبح 11بجے جنازہ تھا، ہر آنکھ اشک بارتھی۔ تدفین کے وقت مقتولہ کےقریبی رشتہ داروں اور پڑوسیوں سے بات ہوئی تو بتا رہے تھے کہ گناہ کبیرہ کا مرتکب وہ بیٹا ساری رات ماں کی میت سے لپٹ کر دھاڑیں مار کر روتا رہا۔ جب بتانے والے یہ بات بتا رہے تھےتومیں اس بیٹے کے احساسات کی دنیا میں گم ہو گیا اوروہ احساسات میرے اوپر طاری ہو گئے اور میں بمشکل اپنے آپ کو رونے سے روک سکا۔ ارادہ یہی تھا کہ گھر جا کر خوب روؤں گا۔ راستے میں مگر اس کیفیت میں ڈوب کراس پر مزید سوچنے کا موقع ملا اور میں نا جانے سوچ کی کن وادیوں میں گم ہو گیا۔۔۔ مجھے باربار غالب کا مذکورہ بالا شعر یاد آتا رہا۔ پتا نہیں غالب نے کس فرضی کیفیت میں مبتلا ہو کر یہ شعر لکھا تھا لیکن اس ماں کی میت تو ساری رات یہ شعر تمام سوگواران اور اپنے بیٹےکو سناتی رہی۔۔۔ کیا وہاں کوئی تھا جس نے ماں کی میت کی آواز سنی تھی؟ کیا کسی نے سوچا تھا کہ آج یہ جو ماں قتل ہوئی اور اس کی بیٹیاں جو مامتا سے محروم ہوئی بس اب یہ آخری ماں اور آخری بیٹیاں تھیں۔ آج اس ماں کی میت کا پیغام سن کرہم نے فیصلہ کر لیا ہے کہ اب ہم نے مرض تلاش کر لیا ہے اور آئندہ ہمارے معاشرے میں ایسا کبھی نہیں ہوگا؟؟؟ بتاؤ نا! کسی نے سنی تھی اس میت کی آواز جو بار بار یہ شعر پڑھ رہی تھی؟

قاتل اور ذمہ دار کا تعین ہو تو یہ آواز سنائی دے۔ جب تک ذمہ داروں کا تعین نہیں ہوگا تب تک غلطی ٹھیک کیسے ہوگی؟
ہمارے خیال میں اس کا قاتل بیٹا نہیں بلکہ اس کا قاتل میں ہوں۔ اس کا قاتل موچھ کا درد رکھنے والا ہر شخص ہے، اس کے قاتل تمام مذہبی جماعتوں کے نمائندے ہیں، تمام اساتذہ اور تمام سیاستدان ہیں جن کے ذمے اس قوم نے اپنے بچوں کی اصلاح کی ذمہ داری لگائی ہے اور اِن سب نے قبول بھی کر رکھی ہے۔ اس کے قاتل تمام سکول مالکان ہیں، اس کے قاتل تمام مساجد کے امام ہیں۔۔۔۔ اگر نہیں ہیں تو مجھے صرف ایک سوال کا جواب دے دیں کہ مذکورہ بالا تمام لوگ ہر اس نوجوان سے تو رابطے میں رہتے ہیں جن کی سمت نسبتاً درست ہے لیکن ان بچوں سے رابطہ کیوں نہیں رکھتے جنہیں کسی بھی وجہ سےمناسب تربیت کے مواقع دستیاب نہ ہو سکے؟؟؟ کیا ہم نے کبھی اپنے دسترخوانوں ، اپنے فنکشنوں، اپنی دعوتوں کا رخ ان نوجوانوں کی طرف بھی پھیرا ہے جن کا اندازہ ہو رہا ہوتا کہ یہ جس دلدل میں پھنس چکے ہیں اگر اس سے انھیں بروقت نہ نکالا گیا تو بہت جلد قانونِ خداوندی کے مطابق گندم کے ساتھ گھِن بھی پِس جائے گا۔
جب تک ہم اپنی مصروف زندگیوں سے ایسے نوجوانوں کے لیے خصوصی وقت نہیں نکالیں گے اسی طرح مائوں کی میتیں ہمیں قبر میں جاتے جاتے یہ شعر سناتی جائیں گی اور اگر ہم ان نوجوانوں کی طرف رخ کر لیتے ہیں تو پھر ان شا اللہ یہ آخری میت ہوگی جو ہمیں یہ شعر سنا رہی ہوتھی۔۔۔ آئیں آج فیصلہ کر لیں ورنہ پچھلی رات تو ماں کی یہ میت محض اپنے بیٹے سے مخاطب تھی کہ:
کی میرے قتل کے بعد اُس نے جفا سے توبہ
ہائے اُس زُود پشیماں کا پشیماں ہونا
اس کے بعد مستقبل میں ایک بوسیدہ قبر سے یہ ماں ہماری آنے والی نسلوں کو کہہ رہی ہوگی کہ:
بے وفا کو ہوا میرا احساس جبٗ تب تلک تو نشانِ قبر مِٹ چکا
جا کے ہر قبر پر پڑھی فاتحہٗ میری آرام گاہ پوچھتا رہ گیا
فروری 2018 میں ایک افسوس ناک واقعہ پر لکھی گئی تحریر