
اےمیرےصاحب!
چوک اعظم چائے کے ہوٹل پر چائے پینے بیٹھے تو شدید گرمی میں بھی اچھا خاصا رش تھا۔ یہ سڑک کنارے ایک درمیانے قسم کا ہوٹل تھا۔ زیادہ تر لوگ ایران اسرائیل جنگ کے حوالے سے گفتگو کر رہے تھے۔ یہ گفتگو خاصی دلچسپ تھی ایک صحافی نما شخص جنگ کا ایسا نقشہ پیش کر رہا تھا جیسے وہ ابھی ابھی جنگ کے میدان سے واپس آ رہا ہو۔ اس کے پاس ایسی ایسی معلومات اور خبریں تھیں اگر ایران اور اسرائیل کے علم میں لائی جائیں تو وہ ہکا بکا رہ جائیں۔ دونوں ممالک کے مختلف شہروں کے نام ایسے بتا رہا تھا جیسے یہ نام رکھے ہی اسی نے ہوں مگر چائے پیتے لوگ اس کی باتیں نہ صرف غور سے سن رہے تھے بلکہ یقین بھی کر رہے تھے۔ ہوٹل کا مالک اتنا متاثر ہوا بیٹھا تھا کہ بار بار اسی سےپوچھتا:چاٹھیک اے۔۔۔ہمارے آخری گھونٹ تھے جب اس نے فرمایا اگر اس وقت ملک میں عمران خان کی حکومت ہوتی تو اسرائیل کا نام نشان مٹ ہوچکا ہوتا۔ پاکستانی فضائی بمباری سے اسرائیلی بھاگتے پھرتے۔۔۔
یہ سنتے ہی میں نے کہا آپ بلکل درست کہہ رہے ہیں۔ میں نے یہ اس لیے کہا کہ مجھ سے پہلے ایک صاحب نے انہیں ٹوکتے ہوئےکہا:کوئی عقل کی بات کرو۔۔۔
جواباً اس شخص نے چائے کا کپ اوپر اٹھاتے ہوئے کہا:یہ دیکھ رہے ہو۔۔۔بھکا مریساں۔۔۔