
مقدمہ
راقم نے اردو ادب میں ایم اے تو محض برائے ایم اے کیا تھالیکن امتحان کی تیاری کے دوران اردو ادب کے دامِ محبت میں گرفتار ہوگیا اور یہ محبت بالآخر راقم کو ایم فل کے راستے پر لے آئی۔اور اس طرح 2013 ء میں راقم نے ایم فل میں داخلہ لیا۔
کورس ورک کے بعد مقالے کے موضوع کی باری آئی تو ہمارے ایک مہربان اور جامعہ سرگودھا کے پی ایچ ڈی اسکالر جناب طارق کلیم اور جناب ڈاکٹر عامر سہیل صاحب چیئر مین شعبہ اردو جامعہ سرگودھانے مشفق خواجہ پر کام کرنے کا مشورہ دیا۔ان کا مشورہ مان کر میں نے بھی مشفق خواجہ پر کام کی بسم اللہ کی تو گویا:
مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی
کے مصداق جوں جوں مشفق خواجہ کی تخلیقات، ان پر لکھی جانے والی تحریروں کوپڑھتا گیا توں توں مشفق خواجہ کی کثیرالجہات شخصیت اور کام کا معترف ہوتا چلا گیا اور میرا یہ یقین پختہ ہوتا چلا گیا اردو ادب کے مشفق خواجہ ادیبوں کے لیے بھی واقعی مشفق ہی تھے۔
مشفق خواجہ کا اصل نام خواجہ عبد الحئی تھا اورا ٓپ19 /دسمبر1935 کو لاہور میں پیدا ہوئے(1)۔ بعد ازاں والدین کی کراچی ہجرت کے باعث تا حیات کراچی کے ہو رہے۔ آپ نے میٹرک کا امتحان بطور پرائیویٹ امیدوار پاس کیا(2)جو اس بات کا بیّن ثبوت تھاکہ مشفق خواجہ کو علم سے خاصا لگاؤ تھا اور وہ خود کو تعلیم کے زیور سے آراستہ دیکھنا چاہتے تھے کیونکہ ٹِین ایج میں انسان کی دِل چسپیوں اور ترجیحات میں تعلیم حاصل کرنا کم ہی ہوتا ہے۔ باقاعدہ تعلیم سے وابستہ ٹین ایجرز کا پڑھتے رہنا ایک معمول بن جاتا ہے اور وہ غیر محسوس طور پراپنے دوستوں کے ہمراہ تعلیم کی منازل طے کرتے رہتے ہیں جبکہ انھیں احساس ہی نہیں ہوتا کہ وہ پڑھ رہے ہیں۔لیکن ایک ایسا نو عمر جو بدقسمتی سے رسمی تعلیم کے اداروں سے اپنا رابطہ بھی توڑ چکا ہو اور اس کے باوجود پرائیویٹ امیدوار کے طور پر اپنی تعلیم کا بندوبست کرے یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ وہ نو عمر لڑکا کوئی عام لڑکا نہیں بلکہ ایک غیر معمولی شخصیت کا مالک ہے اور پھر وقت نے ثابت بھی کیا کہ واقعی وہ لڑکا ایک غیر معمولی انسان ہی تھا۔
اسی نوجوان نے بعد میں گھر کے مالی حالات کے بہتر ہونے پر انٹر کرنے کے لیے اسلامیہ کالج کراچی میں داخلہ لیا اور 1954ء میں انٹر کا امتحان پاس کیا(3)۔ علم کے متلاشی اس نوجوان کو کالج کی فضا راس آگئی اور اس کی پوشیدہ تخلیقی صلاحیتوں کو نمو پانے اور اظہار کے بھر پور مواقع ملنا شروع ہوگئے کیونکہ یہاں پر اسے ایسے ہم جماعت نصیب ہوئے جو بعد میں علم و ادب کی آبرو ثابت ہوئے۔ شاہ نواز فاروقی اپنے مقالے ”اکابر صحافت“ میں لکھتے ہیں:
”جب انھوں نے 1952ء میں اس کالج میں داخلہ لیا تو سجاد باقر رضوی،حسنین کاظمی،اظہر حسن صدیقی،انعام صدیقی اور رضی اختر شوق جیسے لوگ یہاں زیر تعلیم تھے۔ (4) “
اس درسگاہ میں جہاں انھیں ادب دوست اور ادیب کالج فیلو ملے وہاں اساتذہ میں بھی نامی گرامی شخصیات شامل تھیں:
”اسلامیہ کالج میں اس وقت اہلِ علم کی کہکشاں موجود تھی جس سے مشفق خواجہ نے فیض حاصل کیا۔ یہاں انھیں حسن عسکری،شجاع احمد زیبا،پروفیسر ممتاز حسین،پروفیسر کرار حسین اور سید ابوالخیر کشفی جیسے نابغۂ روزگار اساتذہ کی راہنمائی اور رفاقت حاصل رہی۔“ (5)
بعدازاں کراچی یونیورسٹی سے1957ء میں بی اے آنرز جبکہ 1958ء میں ایم اے اردو کے امتحانات پاس کیے۔ (6)
مشفق خواجہ کو ابتدائے عمر سے ہی لکھنے لکھانے سے دلچسپی تھی اور انھوں نے لڑکپن سے ہی کہانیاں لکھنی(7)اور شعر کہنا(8) شروع کر دیے تھے۔ تحقیق کے میدان میں انھوں نے بی اے آنرزکے دوران قدم رکھا جب انھوں نے ایک مضمون لکھا تھا(9)۔بعدازاں آپ کی تحقیقی صلاحیتوں کو اس وقت جِلا ملی جب آپ ایم اے کے دوران انجمن ترقی اردو کی لائبریری میں مطالعہ کے لیے جاتے تھے۔ وہاں پر آپ کی دل چسپی نئی کتب سے زیادہ پرانی کتب میں ہوتی تھی جسے دیکھ کر بابائے اردو مولوی عبدالحق کی گوہر شناس آنکھوں نے آپ کو بھانپ لیا اور انجمن ترقی اردو کے دفتر میں پہلے بطورِ رضا کار اور بعد میں مستقل رکن کا درجہ دے دیا۔ آپ بابائے اردو کے انتہائی معتمد لوگوں میں شامل رہے۔بابائے اردو کی وفات کے بعد بھی آپ انجمن ترقی اردو سے 1983ء تک وابستہ رہے (10)۔
مشفق خواجہ اپنے نام کی طرح واقعی مشفق تھے۔ آپ کے مزاج میں جذبۂ ہمدردی کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ لوگوں کی مدد کرنا گویا اپنے فرائضِ منصبی میں سمجھتے تھے۔ ادیبوں کے حالات سے نہ صرف آگاہ رہتے تھے بلکہ ہمیشہ ان کی مدد کے لیے فکر مند اور کمر بستہ بھی رہتے تھے۔ رفیع الدین ہاشمی کو لکھے جانے والے ایک خط میں انسانی ہمدردی کا یہ مظاہرہ دیکھا جا سکتا ہے:
”اختر انصاری اکبر آبادی (حیدرآباد) آج کل بیمار ہیں ان کے مالی حالات خرابی کی انتہا کو پہنچ چکے ہیں۔یہاں کے دوست جو کچھ کرسکتے تھے انھوں نے کیا، لیکن اب معاملہ زیادہ نازک ہوگیا ہے۔اس لیے ادیبوں کی طرف سے ایک اپیل حکومت کو بھیجی جارہی ہے۔ اس کی ایک کاپی آپ کو بھی بھیج رہا ہوں۔ازراہ کرم اس پر سرگودھا کے ادیبوں کے دستخط کرا دیجئے۔ ا پیل کی سامنے کی طرف جگہ نہ رہے تو پشت پر د ستخط کر ا لیجئے۔ڈاکٹر وزیر آغا صاحب کے دستخط ضرور ہونے چاہییں۔ ان کا نام بڑا ہے اس کا اثر بھی زیادہ ہوگا۔“ (11)
مرزا ا دیب نے انتہائی خوبصورتی کے ساتھ مشفق خواجہ کی انسان دوستی کا نقشہ یوں کھینچا ہے:
”خواجہ صاحب آپ کے د وست ہیں تو یوں سمجھ لیجئے کہ انھوں نے آپ کی طرف سے اپنی ذاتی ذمہ داریوں میں اضافہ کرلیا۔“ (12)
ادیبوں کی صرف مالی معاملات میں ہی مدد نہیں کرتے تھے بلکہ محققین اور یونیورسٹی کے اسکالرز کے لیے بھی آپ مہربان کا درجہ رکھتے تھے۔ ڈاکٹر فاطمہ حسن کہتی ہیں:
”میں نے جب پی ایچ ڈی کے مقالے پر کام شروع کیا تو مواد کے حصول میں ان کی غیر معمولی مدد حاصل ہوئی۔ مگر میں جسے غیر معمولی سمجھی تھی وہ تحقیق کرنے والوں کے ساتھ ان کا معمول کا رویہ تھا۔ متعلقہ موضوع پر جتنا مواد ان کی ذاتی لائبریری میں موجود ہوتا وہ اس کے پلندے نقل کرواکر مہیا کر دیتے۔ “ (13)
مشفق خواجہ کی تحقیق کے طالب علموں کی مدد کا اعتراف ڈاکٹر تبسم کاشمیری اپنی شاہکار کتاب”اردو ادب کی تاریخ“ کے پیش لفظ میں یوں کرتے ہیں:
”۔۔۔جب میں براستہ کراچی اوساکا واپس جارہا تھا تو کراچی میں مختصر قیام کے دوران میں مجھے برادرِمشفق جناب مشفق خواجہ کے ذخیرے سے مستفیض ہونے کا موقع ملا۔میں ان کا از بس ممنون ہوں کہ انھوں نے کمال عنایت سے اپنے کتب خانے کے دروازے مجھ پر کھول دیے اس کے بعد بھی ان کی نوازش جاری رہی اور مجھے ان کی طرف سے مطلوبہ کتب کی نقول فراہم ہوتی رہیں۔“ (14)
جیسا کہ مشفق خواجہ خود فرماتے ہیں کہ کسی بھی محقق کے چہرے پر مسکراہٹ نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی لیکن مشفق خواجہ ان محققین یا نقادوں میں سے نہیں تھے جن کے چہرے پر کبھی مسکراہٹ نہ دیکھی جاتی ہوبلکہ آپ بہت دلچسپ شخصیت کے مالک اور ہنس مکھ انسان تھے۔ڈاکٹر فاطمہ حسن مشفق خواجہ کی اس خوبی کو یوں بیان کرتی ہیں:
”خواجہ صاحب کی زندگی میں انھیں اور یوسفی صاحب کو الگ الگ کم ہی دیکھا۔یہ دونوں جب ساتھ بیٹھے ہوں تو ہماری عید ہوجاتی، فقروں پر فقرے لگائے جاتے۔ جو ہدف بنتا وہ بھی ہنس رہا ہوتا اور فراز صاحب آجاتے تو رنگِ محفل ایسا ہوتا کہ پیرزادہ قاسم بھی اسی رنگ میں رنگ جاتے۔ یہ ہنستی ہنساتی محفلیں رات گئے تک جاری رہتیں۔ پُر مذاق، ہلکی پھلکی باتوں کے درمیان سنجیدہ ادبی گفتگو بھی شامل ہوتی۔“ (15)
مطالعہ کے علاوہ مشفق خواجہ فوٹو گرافی، ساحلِ سمندر کی سیر اور اپنے مہمانوں کے ساتھ ریستورانوں پر جاکر کھانا کھانے کے بھی بے حد شوقین تھے۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر فاطمہ حسن کہتی ہیں:
”شہر میں آنے والے اپنے دوست، ادیب اور شاعر کو کھانے کے لیے دعوت بھی دیتے۔ ان کی پسندیدہ جگہیں عثمانیہ ریسٹورنٹ(کلفٹن) اور لال قلعہ تھیں۔“ )16)
اردو ادب سے دلچسپی رکھنے والے لوگوں میں شاید ہی کسی کے علم میں یہ بات نہ ہو کہ مشفق خواجہ ایک بہت بڑی نجی لائبریری کے مالک تھے۔ ان کے پاس 50۔60ہزار کتب کا ذخیرہ تھا جس کا اظہار انھوں نے ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی کو لکھے جانے والے ایک خط میں کیا۔ اس خط سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انھیں اپنی زندگی کے بعد اپنے کتب خانے کی فکر تھی:
”آج کل پریشانی اور بھی ہے کہ میرے کتب خانے کا کیا ہوگا 50۔60ہزارسے زیادہ کتابیں اور رسالے ہیں۔خطوط کا بہت بڑا ذخیرہ ہے پہلے سوچا تھا کہ حکیم سعید کے بیت الحکمت میں جمع کرادوں مگر اس لائبریری کی حالت نہایت خراب ہے۔حکیم صاحب کی شہرت طلبی انھیں غلط راستے پر لے جا رہی ہے۔جو کام انھیں کرنا چاہیے،اس کی طرف سے غافل ہیں۔ان کی لائبریری میں بڑی تعداد بے کار کتابو ں کی ہے۔ڈھنگ کی کتابیں کم ہیں اور وہ بھی وقت پر نہیں ملتیں۔نتیجہ یہ کہ لائبریری کتابوں کا جنگل بن گئی ہے۔میں نے سوچا تھا کہ مجلسِ ادبیاتِ مشرق کے نام سے ایک ٹرسٹ بنا کر اپنا کتب خانہ محفوظ کرا دوں مگر کراچی کے حالات نے اس منصوبے پر عمل سے باز رکھا۔“ (17)
تاہم مشفق خواجہ نے اپنی اس فکر مندی کا جزوی بندوبست اپنی زندگی میں ہی کر دیا تھا۔ بقول ڈاکٹر فاطمہ حسن:
”انھوں نے اپنی زندگی میں ڈاکٹر نعمان الحق کی ایماء پر لائبریری کی ساری کتابوں کو کراچی ہی میں رہ کر ڈِجیٹائزڈ کرنے کا انتظام شکاگو یونیورسٹی میں اردو تحقیقی کتب خانوں کی تنظیم(Urdu Research Library Consortium……….URLC) کی سربراہی میں قائم ہونے والے لائبریری کنسورشیم آف لائبریری امریکہ کے تحت کر لیا تھا۔“ (18)
مشفق خواجہ کی وفات کے بعد اس کتب خانے کو قائم رکھنے اور چلائے جانے کا کامل بندوبست بھی ہو گیا جس کی تفصیلات اس کتب خانے کے منتظم ناصر جاویدکی زبانی ملتی ہیں۔ وہ فرماتے ہیں:
”اس کتب خانے کانام مشفق خواجہ لائبریری اینڈ ریسرچ سنٹر رکھا گیا ہے۔اسے چلانے کے لیے ایک گورننگ بورڈ تشکیل دیا گیا ہے جس میں پاکستان اور امریکہ کے نام ور ادیب شامل ہیں۔ پاکستانی اراکین میں ڈاکٹر منظور احمد،ڈاکٹر جمیل جالبی۔ڈاکٹر کلیم اللہ لاشاری اور مشتاق احمد یوسفی ہیں جب کہ دیگر اراکین کا تعلق امریکہ سے ہے۔کتب خانے کو مستقل بنیادوں پر چلانے اور اس کے مستقبل کو محفوظ کرنے کے لیے تمام اراکین نے باہمی مشاورت سے اس کتب خانے کو جون 2008ء میں وقف کے طور پر رجسٹرڈ کروایا۔اس وقف کا نام مشفق خواجہ کے نام کی مناسبت سے ”مشفق خواجہ ٹرسٹ وقف برائے ترقی علم و ثقافت Mushfiq Kawja Trust for the advancement of knowledge and culture رکھا گیا ہے۔گورننگ بورڈ کے اراکین وقف کے ابتدائی ٹرسٹیز بن گئے اور اسی حیثیت سے کتب خانے میں اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔“ (19)
حوالہ جات مقدمہ
1۔مشفق خواجہ____ادارہ، فرد، نابغہ:انجمن ترقی اردو پاکستان2016ء (کوائف نامہ)
2۔ ایضاً
3۔ ایضاً
4۔ شاہنواز فاروقی:”اکابر صحافت“ ص: 206
5۔ عبدالرحمان طارق: ”دنیائے ادب کا مشفق اور میرے حئی بھائی جان“ماہ نامہ ”قومی زبان“ فروری2006ء ‘ ص 217
6۔ مشفق خواجہ____ادارہ، فرد، نابغہ:انجمن ترقی اردو پاکستان2016ء (کوائف نامہ)
7۔ شاہنواز فاروقی:”اکابر صحافت“ ص: 209
8۔ مشفق خواجہ‘ انٹرویو‘ از امت ا لصبور‘ مشمولہ: ”کتاب نما‘‘ نئی دہلی‘ص:43
9۔ مشفق خواجہ‘ انٹرویو‘ ازطاہر مسعود‘ مشمولہ: ”کتاب نما‘‘نئی دہلی‘ ص: 28
10۔ مشفق خواجہ____ادارہ، فرد، نابغہ:انجمن ترقی اردو پاکستان 2016ء (کوائف نامہ)
11۔ ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی: ”مکاتیب مشفق خواجہ بنام ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی“ مرتبہ: ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی‘ ص: 47۔49
12۔ مرزا ادیب: ”مشفق خواجہ کچھ شخصی جھلکیاں‘‘مشمولہ:اوراق‘جلد:22‘شمارہ:11۔12 ،نومبر،دسمبر 1987ء ص، 216
13۔ ڈاکٹرفاطمہ حسن:مشفق خواجہ____ادارہ، فرد، نابغہ،انجمن ترقی اردو پاکستان، 2016ء ص۔12
14۔ ڈاکٹرتبسم کا شمیری ”اردو ادب کی تاریخ“ لاہور‘ سنگ میل پبلیکیشنز‘ 2003ء‘ ص: 15
15۔ ڈاکٹرفاطمہ حسن:مشفق خواجہ____ادارہ، فرد، نابغہ،انجمن ترقی اردو پاکستان 2016، ص۔12
16۔ ایضاً، ص۔13
17۔ ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی: ”مکاتیب مشفق خواجہ بنام ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی“ مرتبہ: ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی‘ ص: 147
18۔ ڈاکٹرفاطمہ حسن:مشفق خواجہ____ادارہ، فرد، نابغہ،انجمن ترقی اردو پاکستان 2016، ص۔ 13
19۔ ناصر جاوید: ”مشفق خواجہ ٹرسٹ۔ رودار“ مشمولہ:ماہنامہ”قومی زبان‘‘مارچ 2011ص، 64