0

مشفق خواجہ کا خامہ بگوش اور ہم … مجیب اللہ خان نیازی

مشفق خواجہ

مشفق خواجہ اُردو ادب کا وہ نام ہیں جنہوں نے اُردو ادب کے دامن کو بیش بہا تخلیقات عطا کیں۔ ”مشفق خواجہ کا خامہ بگوش” کے عنوان کے تحت ہم اُن کے ”سخن در سخن” کے عنوان سے لکھے گئے اُن 113 ادبی کالموں کا متن، مع مختصر حواشی و تعلیقات شائع کریں گے جو ستمبر 1981ء تا جنوری 1984ء روزنامہ ”جسارت” کراچی میں ہفتہ وار بنیادوں پر شائع ہوتے رہے۔ اُن کے یہ کالم اُردو پڑھنے والوں کی دل چسپی کا مرکز تھے اور روزنامہ ”جسارت” کراچی میں اشاعت کے بعد یہ کالم پاکستان سے باہر بھی مکرر اشاعت کے طور پر پیش کیے جاتے۔ اِس ہفتہ وار کالم کے قارئین بصد شوق اور بصد بے چینی کالم کا انتظار کرتے۔ اِن کالموں کو مشفق خواجہ نے اپنے اصل نام کی بجائے ”خامہ بگوش” کے فرضی نام سے لکھا اور اپنے اصل نام کو صیغۂ راز میں رکھا۔ اِس طرح ادبی حلقوں میں مصنف کے اصل نام کی کھوج الگ سے ایک موضوعِ بحث بنا رہا۔

انھی کالموں کی تدوین، حواشی اور تعلیقات جامعہ سرگودھا میں ہمارے ایم فل اُردو کے مقالے کا عنوان تھا۔ ہم ”تِریاق” کے اِن صفحات کے ذریعے آپ کو اُردو ادب کے اِس خوب صورت اور قیمتی خزانے کو ازسرِ نو پڑھنے کا موقع فراہم کریں گے۔ کالموں کے بنیادی متن سے قبل مذکورہ مقالے کے مقدمے کو پڑھیں کیونکہ یہ مقدمہ اُن کالموں کی اہمیت، قدر و منزلت اور تفہیم میں مدد فراہم کرے گا۔ اس کے بعد ان شاءاللہ بہت جلد کالموں کا بنیادی متن اور حواشی و تعلیقات پیش کیے جائیں گے۔ آئندہ تحریر میں مقالے کے مقدمے کی پہلی قسط کے ساتھ ملاقات ہوتی ہے۔ ان شاء اللہ

ضمیمہ نمبر۔1

25/جون2025ء

ہم نے کہہ تو دیا کہ ملتے ہیں مقدمے کی پہلی قسط کے ساتھ لیکن جب مقدمے کی پہلی قسط کو ”تریاق” پر اپ لوڈ کرنے کا وقت آیا تو سب سے پہلی مشکل یہ پیش آئی کہ ہماری ویب سائیٹ اِن پیج سپورٹڈ نہ تھی جب کہ ہمارا  سارے کا سارامقالہ اِن پیج میں تھا۔ جیسے تیسے کر کے اِن پیج کو یونی کوڈ میں تبدیل کیا تو اردو اعداد میں سافٹ ویئر نے مرضی کی ترامیم کر دیں مثلاً: بارہ کو اکیس میں، تیرہ کو اکتیس میں، چودہ کو اکتالیس میں تبدیل کر دیا۔ علیٰ ھٰذالقیاس۔۔۔ یہ تبدیلی یک ہندسی اور دو ہندسی اعداد تک تو درست کرنا کوئی زیادہ مشکل نہ ہے مگر جب تین ہندسی اور چار ہندسی اعداد کا معاملہ ہوتا  ہے تو دماغ چکرا جاتا ہے۔ ہمارا زیادہ تر واسطہ چونکہ انسائیکلو پیڈیاز اور کتب کے صفحات اور سنین سے ہے اس لیے ہمیں اکثر تین ہندسی اور چار ہندسی اعداد کی درستی کرنا پڑتی ہے۔ یہ کام  کافی مشکل ہے کہ آپ کو1986ء لکھنا ہو اور آپ کے سامنے 6891ء لکھا ہوا آجائے۔ اسی طرح کسی کتاب کا اصل میں صفحہ نمبر 981 ہو اور آپ کے سامنے 189 لکھا ہوا آ جائے۔ اس طرح کے مسائل میں عام حالات کی نسبت احتیاط اور حساسیت کا معاملہ بڑھ جاتا ہے۔ بندہ کئی کئی سیکنڈ عدد کو دیکھ کر سوچتا رہتا کہ اصل میں یہ عدد کیا ہو گا!

اعداد کے علاوہ تمام قوسین  کو اس () شکل کے بجائے  اس ) ( شکل میں تبدیل کر دیا۔ قوسین کے علاوہ ہر طرح کے کومے کو بھی تبدیل کیا یعنی انگریزی طرز کے کوموں کو اردو جب کہ اردو طرز کے کوموں کو انگریزی میں تبدیل کر دیا۔ تمام اقتباسات جو واوین کے اندر تھے ان واوین کو الٹا دیا اور عبارت کے آغاز کی واوین کو اقتباس کی اختتامی واوین میں جب کہ اقتباس کی اختتامی واوین کو اقتباس کے آغاز کی واوین میں تبدیل کر دیا۔ لہٰذا جس مواد کو ہم سمجھ رہے تھے کہ بہت جلد آپ کی خدمت میں پیش کر دیں گے، اب وہ مواد اپ لوڈ ہونے میں کافی دِقت طلب اور وَقت طلب ثابت ہورہا ہے۔ جس کے لیے ہم معذرت خواہ ہیں۔

ہم روزنامہ ”جسارت” کراچی  اور اُس کے چیف ایڈیٹر جناب شاہ نواز فاروقی صاحب کے بے حد مشکور ہیں کہ انھوں نے بہ ذریعہ ٹیلی فون کال ہمیں مشفق خواجہ کے ”جسارت” میں مطبوعہ کالموں کو اپنی ویب سائیٹ پر شائع کرنے میں خوشی کا اِظہار کیا۔

ہم کاپی  پیسٹ حضرات سے بھی پیشگی معذرت کریں گے اور یہ عرض کریں گے کہ اِن کالموں کی تدوین اور حواشی و تعلیقات پر بلا مبالغہ راقم کے ڈھائی قیمتی سال اور لاکھوں روپے خرچ آئے ہیں لہٰذا آپ پیشہ ورانہ دیانت کا مظاہرہ کریں گے اور کاپی پیسٹ جیسی نا پسندیدہ حرکت کے مرتکب نہیں ہوں گے اور خود کو اور ہمیں کسی مشکل اور شرمندگی سے دوچار نہیں کریں گے۔

ضمیمہ نمبر۔ 2

28/جولائی 2025ء

ہمیں لگتا ہے کہ کہیں آپ ہمارے ضمیمہ جات سے تنگ ہی نہ آجائیں۔ایک بار پھر،  ”اِک اور دریا کا سامنا تھا مجھ کو منیر” والا معاملہ درپیش ہے۔ ان پیج سے ایم ایس ورڈ میں تبدیلی بھی کم مشکل نہ تھی کہ ایک اور مشکل در پیش ہے۔  معاملہ کچھ یوں ہے:

ہم  مقالے کا مواد ترتیب دے کر ٹائپسٹ کے حوالے کرتے جاتے تھے اور اُسے یہ تلقین بھی تھی کہ احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹے۔ ہم مقالے کے حواشی اور حوالے تیار کرنے میں پہلے ہی ایک سال سے زائد عرصہ ضائع کر چکے تھے۔ اب یہ ممکن نہ تھا کہ ٹائپ ہونے کے بعد حوالوں اور حاشیوں کو باریک بینی سے دیکھا جاتا۔ اب جب کہ ہم نے ویب سائیٹ کے لیے مواد کو زیادہ باریکی سے دیکھنا شروع کیا ہے تو معلوم ہو رہا کہ  بنیادی متن کے درمیان حوالوں اور حاشیوں کو   پیسٹ کرنے میں ٹائپسٹ سے کافی غلطیاں سرزد ہوئی ہیں۔ اب اگر ہم چاہیں بھی تو فوری طور پر ان غلطیوں کو ٹھیک نہیں کر سکتے کیونکہ فی الوقت حوالے کی ہر کتاب ہمیں دستیاب ہے اور نہ ہی وقت میسرہے۔اس لیے ہمارے پاس اب دو ہی آپشن ہیں:

اول: حوالے کی تمام کتابوں کی دستیابی کو یقینی بنا کر تمام مواد (حواشی و حوالہ جات)کی اصلاح کر دی جائے۔ یہ کام یقیناً دِقت طلب اور وَقت طلب ہے۔ اور ہم اس وقت دِقت اور وَقت میں سے کسی کے بھی متحمل نہیں ہو سکتے ہیں لہٰذا اس  سارے پراجیکٹ کو   مؤخر کر دیا جائے  اور جب وقت ملے تب یہ بھاری پتھر اُٹھایا جائے۔

دوم: کالموں کے بنیادی متن کی تدوین کا کام  چونکہ ننانوے فیصد مکمل ہے تو کیوں نہ صرف متن کو ویب سائیٹ پر شائع کر دیا جائے۔ اور حواشی، حوالہ جات اور اشاریوں کو فی الحال رہنے دیا جائے۔ ایسا کام جو بالکل مکمل ہے اُسے کسی ایسے کام کے لیے ویب سائیٹ پر اشاعت سے کیوں روک کر رکھا جائے جو نہ جانے کب مکمل ہو!

ہمیں دوسرا آپشن بہتر لگا ہے اس لیے کالم نمبر 8 سے ہم  مشفق خواجہ کے کالموں کا فی الحال بنیادی متن شائع کرنے لگے ہیں اور حواشی، تعلیقات اور اشاریے وغیرہ بعد میں مواد کی صحت کی یقین دہانی/تصحیح کے بعد شائع کریں گے۔ ان شا اللہ

مجیب اللہ خان نیازی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں