0

مقدمہ مقالہ مشفق خواجہ.قسط سوم… مجیب اللہ خان نیازی

مشفق خواجہ

راقم خود کو اس حوالے سے خوش قسمت سمجھتا ہے کہ اس کامقالہ ایک ا یسی شخصیت کے کام سے متعلق ہے جو واقعتاً اردو ادب کی آبرو ہیں اور جس نے اردو ادب کا کوئی گوشہ اپنے مطالعہ اور تحقیق سے اوجھل نہیں ہونے دیا۔ جہاں تک ان کی کالم نگاری کا تعلق ہے تو اس سے تو ایسے لوگوں نے بھی استفادہ کیا جو اردو ادب کی دیگر اصناف کو وقت دینے اور ان سے مستفید اور لطف اندوز ہونے کی صلاحیت یا دسترس کم رکھتے تھے۔ مشفق خواجہ کے کالموں کے اندر جس دلکش انداز میں اور انتہائی روانی اور سادہ پیرائے میں بہت گہری بات کی جاتی ہے، اسے ادب پر گہری اور عمیق نظر رکھنے والا قاری اور عام قاری بیک وقت برابر لطف اٹھاتے اور اپنے دامن کو معلومات سے بھرتے ہیں۔ مشفق خواجہ کے کالموں کی زبان اگرچہ بہت سادہ اور رواں ہے لیکن اس کے باوجود ایک عظیم لکھاری کے قلم کی تمام خصوصیات اور پوری شان بھی لیے ہوئے ہے۔

معروف بھارتی مزاح نگار مجتبیٰ حسین، خامہ بگوش(مشفق خواجہ) کی تحریر کے معیار کو یوں بیان کرتے ہیں:

“بہت دن سوچتا رہاکہ یہ خامہ بگوش کون ہو سکتا ہے۔ پاکستان کے بہت سے بڑے ادیبوں کا خیال آیا کہ شاید فلاں ادیب نے لکھا ہو لیکن جیسے ہی اس تحریر کو کسی بڑے ادیب سے وابستہ کرنے کی کوشش کرتا تو یہ تحریر اس بڑے ادیب سے بھی بڑی نظر آنے لگتی۔” (34(

جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے کہ مشفق خواجہ نے اردو ادب کے کسی گوشے کو بھی اپنے حاشیۂ قلم سے باہر نہ رکھا خواہ وہ تحقیق کا میدان ہو یا تنقید کا (اورخصوصاًان کے کالموں کا زیادہ تر لوازمہ تنقید کے زمرے میں ہی آتا ہے)، شاعری ہو یا نثر؛ لیکن چونکہ ہماری تحقیق کے موضوع کا دائرہ اُن کی ادبی کالم نگاری بلکہ ادبی کالم نگاری میں بھی صرف روزنامہ جسارت میں ”سخن در سخن“ کے عنوان کے تحت ”خامہ بگوش کے قلم سے“ لکھے جانے والے کالم ہیں، اس لیے ہماری معروضات کا دائرہ اپنے موضوع تک ہی محدود رہے گا۔ زیادہ تفصیل میں جانے کے بجائے راقم اُن کی ادبی کالم نگاری کے بارے میں مزید ایک رائے ہی پیش کرے گا جو ان کی ادبی کالم نگاری کے مقام اور مرتبے کو جاننے او سمجھنے کے لیے کافی ہوگی۔ ڈاکٹر خلیق انجم کہتے ہیں:

”ہندوستان میں وہ محققوں میں تو محقق کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں ورنہ عام لوگ انھیں صرف کالم نگار ہی سمجھتے ہیں۔ وہ پاکستان کے واحد کالم نگارہیں جن کے کالم ہندوستان کے رسالوں اور اخباروں میں نقل ہوتے ہیں۔ ہندوستان میں ایسے اردو والوں کی تعدداد بہت زیادہ ہے جنہیں ان کے جملے کے جملے یاد ہیں۔ ادبی محفلوں میں اکثر ان کے فقرے دہرائے جاتے ہیں۔“   (35 (

اس رائے سے اندازہ ہوتا ہے کہ مشفق خواجہ کی کالم نگاری، ان کا اسلوب اور ان کے شاندار جملے اہلِ ذوق کی ادبی حس کو کس قدر تسکین پہنچانے والے ہوتے تھے اور ان سے قاری کتنا لطف حاصل کرتا تھا کہ انھیں اپنی عام محفلوں میں بھی بار بار دہراتا رہتا تھا ورنہ یہ تو نا ممکن سی اور عام قابلِ فہم بات ہے کہ انسان کبھی بھی نا پسندیدہ اور بے لطف چیز کو بار بار یاد نہیں کرتا اور نہ ہی اسے دہراتا ہے۔ مشفق خواجہ کی ادبی کالم نگاری کے مقام و مرتبے کی وضاحت کے لیے درجنوں لکھاریوں کی سینکڑوں آراء پیش کی جا سکتی ہیں لیکن اختصار کے لیے دیگ کے ایک چاول کی طرح محض دو آراء پر ہی اکتفا کیا گیا ہے جس سے پوری دیگ کے ذائقے  اور خستگی کا اندازہ ہو جاتا ہے۔

حوالہ جات مقدمہ

34۔         مجتبیٰ حسین:”مشفق خواجہ عرف خواجہ ادیب نواز”، “کتاب نما” ص: 20

35۔         ڈاکٹر خلیق انجم: ”ذکر خیر مشفق خواجہ کا“، ”کتاب نما“، ص: 15

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں