
ایم فل کے کورس ورک کے دوران اپنے معزز اساتذہ کے لیکچرز کے دوران جہاں تخلیق،تخلیقی عمل، تحقیق، تدوین اور تنقید کے تمام پہلوؤں پر بات ہوتی وہاں خاص طور پر یہ بات بھی اکثر زیرِ بحث آجاتی کہ مقالہ نگار کو اپنے موضوع سے ایک خاص قلبی لگاؤ اور اُنس ہوجاتا ہے اور اپنی زیرِ تحقیق شخصیت سے بے جا محبت کرنے لگتا ہے اوراس طرح اکثر جانبداری کا شکار ہوجاتا ہے۔ لیکن را قم کااُس بحث کے دوران بھی یہی مؤقف رہتا کہ یہ طرزِ عمل بالعموم کے درجے میں تو ہوسکتا ہے لیکن کلیتاً ایسا نہیں ہے۔ دورانِ تحقیق بھی راقم کے ساتھ یہی معاملہ رہا کہ اسے اپنے زیر تحقیق کالموں کی شخصیت سے بے جا قلبی لگاؤ اور محبت نہ ہو سکی۔ بلکہ مجھے تین باتوں پر تو شدید حیرت اور اعتراض رہا۔ اورراقم ان اعتراضات کابر ملا اظہار بھی کرے گا کہ زیرِ تحقیق شخصیت کا مشورہ اور نصیحت بھی یہی ہے اور راقم کا مزاج اور اُس کی تربیّت میں بھی یہ بات شامل ہے کہ اپنے ایمان و یقین پر مبنی قائم ہونے والی رائے کو بلا کم و کاست پیش کر دیا جائے اور یہی تعلیم ہمارے مقالے میں زیرِ تحقیق شخصیت کی بھی ہے۔
مشفق خواجہ اپنے ایک کالم میں محمد سہیل عمر کو معیاری مجلہ ”روایت“ چھاپنے پرجہاں داد دیتے ہیں وہاں ایک نصیحت بھی کرتے ہیں۔ ذرا آپ بھی ملاحظہ فرما لیجئے:
”یہ ضروری نہیں کہ محمد حسن عسکری مرحوم کے خلاف لکھی گئی ہر تحریر کا جواب دیا جائے۔ عسکری صاحب کوئی ولی اللہ نہیں تھے۔ کہ اُن کی ہربات ہر شخص________ کے لیے قابلِ قبول ہو۔“(51)
لہٰذا ”خوگرِ حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لے“ کے مصداق اُن تین باتوں اور اعتراضات کاذیل میں مختصراً ذکر ہوگا:
اولاً یہ کہ مشفق خواجہ پر لکھی جانے والی تحریروں میں اس بات پرتقریباً سو فیصد اتفاق پایا جاتا ہے کہ خواجہ صاحب عمربھر شہرت اور خود نمائی سے گریزاں رہے۔ ملاحظہ ہو طارق کلیم کے مقالے میں مشفق خواجہ سے متعلق ان کی رائے:
”وہ شہرت کو فن کی دشمن سمجھتے تھے اور ان کا خیال تھاکہ شہرت کے پیچھے بھاگنے سے اصل کام متاثر ہوتا ہے آخر میں بس شہرت ہی بچ رہتی ہے۔“(52)
اورڈاکٹر سلیم اختر کہتے ہیں:
”۔۔۔وہ دوسروں کی مالی اور اخلاقی مدد کرنے والے انسان تھے اور اس پرمستزاد یہ کہ نہ صلے کا لالچ نہ شہرت کی تمنا۔درویشی اور لاتعلقی کے دعوے تو سب ہی کرتے ہیں مگر بہت کم ایسے اہل قلم ملیں گے جو اپنے عمل سے اپنے دعووں کی تصدیق بھی کرسکتے ہیں مگرمشفق خواجہ نے بے داغ عمل سے صلہ،انعام اور شہرت کومسترد کردیا۔“(53)
حالانکہ راقم کے خیال میں ایسا ہر گز نہیں۔ شہرت اورخود نمائی؛غصہ، پیار اور نفرت جیسے انسانی جذبات میں سے ایک جذبہ ہے۔جیسے کوئی شخص ان جذبات سے خالی نہیں ہو سکتا،اسی طرح کوئی انسان شہرت کی تمنا، خود کو پسند کیے جانے (خود نمائی) جیسے جذبات سے بھی خالی نہیں ہوسکتا۔ یہ الگ بات ہے کہ انسان اپنی وضع داری، رکھ رکھاؤ اور سماجی مرتبے کے بندھن سے مجبور ہو کر خود نمائی اور شہرت سے گریز کا کامیاب پوز دیتا ہے۔ ورنہ ہر کوئی یہ کہتا اور چاہتا ہے کہ:
؎ تم سے الفت کے تقاضے نہ نباہے جاتے
ورنہ ہم کو بھی تمنا تھی کہ چاہے جاتے
یہی معاملہ مشفق خواجہ کے ساتھ بھی تھا۔ جہاں کہیں وضع داری کو نبھاتے ہوئے اُنھیں خود نمائی کا موقع ملا اُنھوں نے اس موقع سے خوب استفادہ کیا۔ مثال ملاحظہ فرمائیے:
”یہ سطور لکھی جاچکی تھیں کہ اِطلاع مِلی ہے، کراچی سے مشفق خواجہ اور لاہور سے انتظار حسین نے انعام لینے سے انکار کردیا ہے۔ مشفق خواجہ نے وجہ یہ بتائی ہے کہ انھوں نے اپنی کتاب انعام کے لیے داخل نہیں کی تھی۔ انتظار حسین نے کہا ہے کہ ان کا انعام کسی اور مستحق کو دےدیاجائے۔ یہ دونوں ادیب گِلڈ کے انعام سے اِس طرح ڈرگئے ہیں جیسے انعام نہ ہو،جرمانہ ہو۔گھر آئی ہوئی دولت کوٹھکرانا دیوانگی نہیں تو کیا ہے۔“(54)
راقم کے خیال میں دراصل انعام سے دست برداری کا اعلان ہی باعثِ شہرت تھا جسے مشفق خواجہ نے کمال خوب صورتی سے بیان کر دیا۔ اس ضمن میں مزید مثال دیکھئے:
”حیرت ہے کہ انیس ناگی نے کراچی کے ایک فقیر گوشہ نشین مشفق خواجہ کو بھی اپنے مخالفین میں شمار کیا ہے۔“ )55)
یہاں پر بھی “فقیر گوشہ نشین” جیسے الفاظ کا استعمال “فقر اور گوشہ نشینی” کی تشہیرکا خوب ساماں کیے ہوئے ہیں:
”ہم نے اس نظمیہ نثر کا مسودہ مشفق خواجہ صاحب کو دکھایا جو صنائع بدائع اور علم بیان وغیرہ میں اس لیے مہارت رکھتے ہیں کہ کوئی دوسرا ماہر فی الوقت موجود نہیں ہے۔“ (56)
اگرچہ اس جملے میں ”کہ کوئی دوسرا ماہر فی الوقت موجود نہیں ہے۔“ کا لاحقہ بھی لگایا گیا ہے لیکن صنائع بدائع اور علم بیان سے مشفق خواجہ ہی کی جان کاری کا واضح اعلان بھی ببانگِ دُہل کیا جا رہا ہے۔
بہر حال اس بحث کا خاتمہ بھی ہم طارق کلیم کے ہی مقالے کے اقتباس پر کریں گے۔مشفق خواجہ کے کئی خطوط سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی کالم نگاری سے اکتا چکے تھے اور اسے وقت کا ضیاع اور نسبتاً کم مفید کام قرار دیتے تھے اور کالم نگاری کو چھوڑنا چاہتے تھے لیکن بوجوہ عملاً ایسا نہیں کر پا رہے تھے۔ طارق کلیم نے کالم نگاری کو ترک نہ کر پانے کی وجوہات ان الفاظ میں بیان کی ہیں:
”معقول معاوضہ، دوستوں کا دباؤاور شہرت وہ عوامل تھے جو انھیں کالم نگاری پر مجبور کرتے۔“ (57)
حوالہ جات مقدمہ
51۔ مشفق خواجہ: ”سخن در سخن“ مشمولہ روزنامہ ”جسارت“کراچی 1/جولائی 1983ء
52۔ طارق کلیم: مشفق خواجہ کی ادبی کالم نگاری، مقالہ ایم فل اردو،جامعہ سرگودھا، ص: 26
53۔ مشفق خواجہ: ”سخن در سخن“ مشمولہ روزنامہ ”جسارت“کراچی: 3/جون1983ء
54۔ ایضاً، 27/نومبر 1981ء
55۔ ایضاً، 27/مئی 1983ء
56۔ ایضاً، 18/ستمبر 1981ء
57۔ طارق کلیم: مشفق خواجہ کی ادبی کالم نگاری، مقالہ ایم فل اردو،جامعہ سرگودھا، ص: 57