0

مقدمہ مقالہ مشفق خواجہ. قسط دہم… مجیب اللہ خان نیازی

مشفق خواجہ

راقم کے ساتھ ہمیشہ سے ایک مسئلہ رہا کہ اسے ہر کام میں بہت جلدی ہوتی ہے اور اس کی خواہش ہوتی ہے کہ ہتھیلی پر سرسو ں جمے۔ لیکن اب اس کاکیا کیجئے کہ منیر نیازی کی طرح ہمیشہ ”دیر“ہو جاتی ہے۔اس مقالے کے دوران بھی ایسا ہی ہوا کیونکہ تحقیق(بالخصوص سندی تحقیق) کے لیے جس قدر انہماک، ذہنی یکسوئی، توجہ اور فراغت کی ضرورت ہوتی ہے، اور جس طرح اپنی تحقیق کو عشق سمجھ کر اس کے لاڈ اُٹھانا پڑتے ہیں اور صرف اور صرف اپنے ”عشق“ کا ہی ہو کر رہنا پڑتا ہے تب جا کر یہ ”لیلیٰ“ مان کر دیتی ہے؛ بد قسمتی کے ساتھ راقم کو اس انہماک، ذہنی یکسوئی، توجہ اور فراغت میں سے کوئی ایک چیز بھی نصیب نہ تھی۔اس لیے راقم فیض صاحب کی طرح ”کچھ عشق کیا، کچھ کام کیا“ کی روش پر چلتا رہا اور(مجبوراً) راقم کے کام اس کے عشق کے آڑے آتے رہے۔ ان حالات میں ایسے کمزور لمحے بھی آئے جب ”عشق کو ادھورا چھوڑنے“ تک کا سوچنا پڑا۔ ان کمزور لمحات میں میری نگرانِ مقالہ محترمہ عظمیٰ سلیم صاحبہ نے بار بار میری ہمت بندھائی اور بار بار اس بات پر اصرار کیا کہ تم ذرا سی یکسوئی اختیار کرو تو یہ مقالہ پایۂتکمیل تک پہنچ سکتا ہے۔ لہٰذا راقم چار ماہ قبل پھر سے اپنے مقالے کی طرف متوجہ ہوا لیکن ایک بار پھر قدرت نے منیر نیازی کے حالات سے مماثلت پیدا کر دی جو بہت تکلیف دہ ثابت ہوئی کہ:

؎            اِک اور دریا کا سامنا تھا منیر ؔ مجھ کو

میں ایک دریا کے پار اُترا، تو میں نے دیکھا

سوچا تو یہ تھا کہ اگلے دو ماہ میں دن رات ایک کر کے اپنا مقالہ مکمل کر لوں گا کہ تقریباً تمام حواشی بھی دستیاب تھے اور ٹائپ بھی ہو چکے تھے اور تدوین تو ویسے ہی دو سال قبل ٹائپ ہو کر میرے پاس پہنچ چکی تھی، لیکن اس موقع پر مقالے میں ایک ایسی مشکل پیش آ گئی جو راقم کے خیال میں بلکہ کسی کے بھی خیال میں عام سا مسئلہ بھی نہ تھی مگر جب سابقہ پڑا تو معلوم ہوا کہ ایک کٹھن مرحلہ تو ابھی باقی ہے۔

ہوا یہ کہ اپنی مصروفیت کی وجہ سے راقم نے اخباری متن کو اپنے کمپوزر کے حوالے کر دیا تھا اور اس نے قلیل عرصے میں پورا متن مکمل ٹائپ کر دیا تھا۔ اب اگر یہ ہوتا کہ راقم ایک ایک کالم کی ٹائپنگ کے بعد پروف خوانی کرتا جاتا اور ضروری اصلاح کرتا جاتا تو بعد میں کمپوز ہونے والے کالموں کا متن ان غلطیوں سے پاک ہوتا لیکن وقت کی قلت کی وجہ سے ایسا نہ ہو سکا تھا اور پورا متن ٹائپ ہو کر راقم کے پاس آچکا تھا۔ اب جبکہ ڈیڑھ دوسال بعد ان کالموں کی پروف خوانی کا مرحلہ آیا اور ان کالموں کے متن کو بمطابق اساسی متن ڈھالنے کی نوبت آئی تو کیا ہوا کہ ایک ایک کالم کی پروف خوانی اور اصلاح دو سے تین گھنٹے (بلا مبالغہ)لے لیتی اور اس طرح مذکورہ 113 کالموں کی محض پروف خوانی ڈھائی تین سو گھنٹے لے گئی۔ہمارے ایک دوست اور جامعہ سر گودھا کے پی ایچ ڈی سکالر کا کہنا ہے کہ ایم فل کا مقالہ محض دو سو سے تین سو گھنٹے کا کام ہے جبکہ راقم کے مقالے کے محض10/1حصے پر ڈھائی تین سو گھنٹے صرف ہو گئے اور وہ بھی ایسے موقعے پر کہ جب مقالے کی مہلت ِ عمل بھی اختتامی کنارے پر پہنچ چکی تھی۔

اپنے اس تلخ تجربے کو بیان کرنے کا مقصد ہمدردیاں سمیٹنا نہیں بلکہ اس راہ پر آنے والے نئے مسافروں کو پہلے سے خبردار کرنا ہے کہ:

 

تم خبردار، خبردار نہ ایسا کرنا

 

زیرِ نظر تدوین 113 کالموں پر مشتمل ہے۔ جس کا دورانیہ ستمبر1981 ء سے جنوری 1984ء تک پھیلا ہوا ہے۔ ہمارے مقالے کی ترتیب یک بابی ہے جو اسے دیگر مقالوں سے مختلف بناتی ہے۔ ہم نے طریقۂ کاریہ اختیار کیا کہ زمانی ترتیب کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے کالم کا نمبر درج کیا ہے اور اُس کے نیچے قوسین میں کالم کی اشاعت کی تاریخ درج کی ہے اور اس کے بعد اس کالم کا متن دیا گیا ہے۔ جہاں کالم کی تدوین ختم ہوتی ہے اس سے اگلے صفحے پر اس کالم کے حواشی و تعلیقات درج کیے گئے ہیں اور حواشی و تعلیقات کے بعد اگلے صفحے پر حوالہ جات لکھے گئے ہیں (ویب سائیٹ کی اشاعت میں معمولی سی تبدیلی کی گئی ہے اور اب ہر حاشیے کے نیچے اُس کا حوالہ لکھ دیا گیا ہے)۔

حواشی صرف شخصیات، کتب، رسائل، اخبارات، مقامات، شہروں، ملکوں اور اداروں پر مبنی ہیں۔ یہاں پر بھی بعض اکابرین کی رائے تھی کہ محض غیر اہم اور غیر معروف شخصیات، کتب، رسائل، اخبارات، مقامات، شہروں، ملکوں اور اداروں کے حواشی لکھے جائیں اور معروف ترین شخصیات، کتب، رسائل، اخبارات، مقامات، شہروں، ملکوں اور اداروں کے حواشی تحریر نہ کیے جائیں۔ لیکن ہم نے حواشی میں اس بات کا اہتمام کیا ہے کہ کسی معروف ترین شخصیت، کتاب، رسالے، اخبار، مقام، شہر، ملک اور ادارے کا بھی حوالہ لکھا جائے کیونکہ کسی بھی تحقیقی مقالے کو بین الاقوامی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ ممکن ہے کہ مقالے کو پڑھنے والے بعض لوگ ایسے بھی ہو ں جن کے مطالعے میں وہ شخصیت، کتاب، رسالہ، اخبار، مقام، شہر، ملک اور ادارہ پہلی بار آ رہاہو۔ لہٰذا کالموں میں مذکور تمام شخصیات، کتب، رسائل، اخبارات، مقامات، شہروں، ملکوں اور اداروں کے ہی حواشی لکھے گئے ہیں ا لّا یہ کہ مذکورین بالا میں سے کسی کی معلومات ہمیں دستیاب نہ ہو سکی ہوں۔

حواشی میں یہ طریقۂ کار بھی اختیار کیا گیا ہے کہ جس شخصیت، کتاب، رسالے، اخبار، مقام، شہر، ملک اور ادارے کا نام ایک بار کسی کالم میں آجائے اور اُس کا حاشیہ لکھ لیا جائے اور اُس کے بعد اُس کا مزید جتنی بار بھی کالموں ذِکر آتا رہےتو  اُس کا حاشیہ نہ دہرایا جائے۔ کیونکہ اس سے وقت کا ضیاع اور مقالے کی ضخامت میں غیر ضروری اضافہ ہوجاتا اور قاری بھی اکتاہٹ کا شکار ہوجاتا۔لہٰذا تدوینی متن میں جہاں جہاں مذکورین بالا میں سے کسی کا ذکر ہو اور حاشیہ میں اس کا ذکر نہ ہو تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس کا ذکر پہلے کسی کالم میں گزر چکا ہے۔

آخر پر ایک اشاریہ بھی ترتیب دیا گیا ہے جس میں شخصیات، کتابوں، رسائل اور اخبارات کو الف بائی ترتیب میں شامل کر دیا گیا ہے۔ اس اشاریے میں مذکور شخصیت، کتاب،رسالے اور اخبار کے نام کے ساتھ یہ بھی لکھ دیا گیا ہے کہ اس شخصیت، کتاب،رسالے، اخبار، مقام، شہر،ملک اور ادارے کا نام  کس کس کالم میں آیا ہے۔

زیرِ تدوین کالموں میں سے درجنوں کالم ایسے تھے جن میں بعض شخصیات کی تصاویر،یا کسی خط یا اعلان کا عکس دیا گیا تھا۔مذکورہ تصاویر کا معاملہ کچھ ایسے تھا کہ بعض تصاویر تو ایسی تھیں جو اگرچہ کالم کی مناسبت سے تھیں لیکن کالم کے متن میں ان کا ذکر موجود نہ تھا لیکن بعض تصاویر کا کالم کے متن میں بھی ذکر تھا اس لیے ہمیں ضمیمے کی بھی ضرورت پیش آئی۔ ضمیمے میں محض ان تصاویر کو شامل کیا گیا ہے جن کا ذکر متن میں بھی موجود ہے جبکہ خطوط و دیگر اعلانات میں سے تمام کے تمام عکسوں اور نقول کو کالم نمبر اور تاریخ اشاعت کے ساتھ ضمیمے کا حصہ بنایا گیا ہے۔ اسی طرح ضمیمے میں اُن آٹھ کالموں کی فہرست بھی دی گئی ہے جو طارق کلیم کے مقالے”مشفق خواجہ کی ادبی کالم نگاری“ میں اُس فہرست میں موجود نہ تھے جو روزنامہ”جسارت“ کراچی میں ”سخن در سخن“ کے عنوان سے شائع ہونے والے کالموں کے نام سے بنائی گئی تھی۔ضمیمے میں بھی زمانی ترتیب کو مدِ نظر رکھا گیا ہے۔

راقم اس بات کا بھی اعتراف کرتا ہے کہ انسان کے ہاتھ سے انجام پانے والا کام کبھی بھی کامل اور عیوب سے پاک نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا بشری کمزوریوں اور وقت کی کمی کی بناء پر ہمارے مقالے میں بھی یقیناً کئی کمزوریاں در آئی ہوں گی۔ ان کمزوریوں میں سے ہمیں کچھ کمزوریوں کا خود بھی علم ہے کہ ہزاروں افراد کی معلومات اور حواشی ایک طویل اور تھکا دینے والا کام تھا اور بعض ایسی شخصیات بھی تھیں جو انتہائی غیر معروف حتیٰ کہ گمنام تھیں اور امتداد زمانہ کا شکار ہو چکی تھیں اس لیے کچھ افراد کی معلومات فراہم نہ کی جا سکیں؛ اور یقیناً کچھ کمزوریوں کی نشاندہی اور مقالے کو مزید بہتر بنائے جا نے کے لیے رہنمائی قارئین کے ذریعہ ہوگی۔

مستقبل کے محققین کے لیے عرض ہے کہ مشفق خواجہ نے ”جسارت“ میں ”اندیشۂ شہر“ کے نام سے جو کالم لکھے ہیں طارق کلیم کی تحقیق کے مطابق وہ 25/مئی 1970ء سے شروع ہوتے ہیں (77) اور”اندیشۂ شہر“ روزانہ کا کالم تھا اور راقم کی تحقیق کے مطابق یہ کالم کم از کم16/ستمبر 1983ء تک تو جسارت میں شائع ہوتا رہا۔ ممکن ہے اس کے بعد بھی یہ کالم لکھا جا تارہا ہو۔ اگر ان کالموں میں بہت کم کالم بھی ادبی ہوں تواُن ادبی کالموں کی تعداد 100۔200کے لگ بھگ ہو جائے گی۔ لہٰذا اگر کوئی محقق ان کالموں کی تدوین اور حواشی و تعلیقات پر بھی کام کرےتو اردو ادب کا دامن بہت ہی خوبصورت اضافہ سے مزین ہوسکتا ہے۔

 

حوالہ مقدمہ

77۔      طارق کلیم: مشفق خواجہ کی ادبی کالم نگاری، مقالہ ایم فل اردو،جامعہ سرگودھا، ص: 62

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں