
ایک بار جون 1996ء میں ہم دلیوالی میں کرکٹ میچ کھیل کر نہر کنارے (تھل کینال) گھر واپس آرہے تھے۔ ہماری ٹیم کے کھلاڑیوں میں سے ایک کھلاڑی (کلیم اللہ خان ایلیٹ فورس میانوالی) کا کزن (خالد حمید خان پاک آرمی) بھی ہمارے ساتھ تھا جو اگرچہ ہماری ٹیم کا ریگولر کھلاڑی نہ تھا مگر اپنے ننھیال آیا ہوا تھا تو میچ کے لیے اپنے کزن کے ساتھ ہو لیا۔ان کے علاوہ ہمارے ساتھ بھائی عمر خان بھی تھے۔ بھائی عمر خان ہم سے عمر میں کافی بڑے تھے اور میرے کزن ساجد اللہ خان ننڈھ گھریہ کے بھی دوست تھے اور ہمارے والد صاحب کے ساتھ بھی خوب محفل تھی۔جب میرے والد صاحب 1987ءکا لوکل گورنمنٹ کا الیکشن لڑے تھے تو بھائی عمر خان اپنے قبیلے کے امیدوار کے خلاف ہمارے والد صاحب کے ایجنٹ بیٹھے تھے۔
ہماری ٹیم کے کچھ کھلاڑیوں کا جی چاہا کہ نہر پر نہاتے ہیں۔ مجھے اس سے کوئی دلچسپی تھی اور نہ ہی کبھی میں خود نہر پر نہایا تھا۔دلچسپی نہ ہونے کے باوجودمیں بھی رک گیا کہ میں ٹیم کاکپتان تھا اور اپنی ٹیم کا ساتھ چھوڑ کر گھر چلے آنا مناسب نہ سمجھتا تھا۔ میں کچھ دیگر لڑکوں کے ساتھ نہرکے کنارے بیٹھ گیااور کچھ لڑکے نہانے لگے۔ نہانے والوں کا کمانڈر ہمارا مہمان کھلاڑی خالد حمید خان تھا۔اچانک بیٹھے بیٹھے میں نے یہ کہہ دیا کہ یارو جلدی کرو کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارا بھی نہانے کے لیے جی نہ چاہنے لگے۔میری اِس بات پر خالد نے جھٹ سے کہا:
”نہراں تے دھانوڑاں جنڑاں نا کم ہے۔۔۔“ (نہروں پر نہانا مردوں کا کام ہے۔۔۔)
مجھے بہت غصہ آیا۔میں نے قمیض کی جیب سے سامان نکالا، جوتے اتارے اور نہر میں کود گیا۔ یہ عمل اس قدر تیزی سے ہوا کہ وہاں کھڑے کسی بندے کو یہ مہلت ہی نہ ملی کہ وہ مجھے روک سکتا بلکہ وہاں کھڑے ہر فرد کے ذہن میں تھا کہ ایسے ہی کہہ رہا ہے نہر میں چھلانگ نہیں لگائے گا۔جب میں چھلانگ لگا چکا توہر خیر خواہ کا کلیجہ منہہ کو آگیا کہ یہ کیا ہوگیا۔ اُنھیں پتا تھا کہ یہ نہر ہر سال ہمارے علاقے کے کسی نہ کسی ایسے نوجوان کو موت کی نیند سلادیتی ہے جو تیرنا خوب جانتا ہے تو یہ کیسے بچے گا جسے زندگی بھر کبھی نہر کے پانی کے قریب ہی نہیں دیکھا گیا۔
بھائی عمر خان کو چونکہ ہمارے بڑے بھائی کا سادرجہ حاصل تھا اور ہمارے والد صاحب کے ساتھ اُن کا بہت پیار اور احترام کا رشتہ تھا تو ان کی پریشانی دیدنی تھی۔اُنھیں میری زندگی کے خاتمے کے ڈر کے ساتھ ساتھ یہ فکر بھی کھائے جاتی تھی کہ اس کی موت کے بعد اگر چچا نجیب اللہ خان مجھ سے یہ سوال کرلیں کہ تم پاس کھڑے تھے اور یہ واقعہ ہو گیا اور تم اسے روک تک نہ سکے تو میں کیا جواب دوں گا۔ بہر حال اُن کی یہ فکر مبنی بر حقیقت تھی کیونکہ ہمارے معاشرے میں ہر حادثے کے بعد اُس حادثہ میں موجود قریبی لوگوں سے اس طرح کی باز پرس کی کئی مثالیں موجود تھیں۔
اُدھر میں اپنے چاہنے والوں کے اِن تمام وسوسوں سے بے نیاز محض اپنی انا کی تسکین کی خاطر خود سے یوں ہم کلام تھا:
”اگر میں نہر کے درمیان میں تھک گیا تو کبھی پیچھے نہیں مڑوں گا(یعنی یو ٹرن نہیں لوں گا)بلکہ آگے ہی جاﺅں گا کہ واپس آنے اور آگے جانے کا فاصلہ تو برابر ہی ہوگا تو پھر پیچھے کیوں ہٹوں گا بس آگے ہی جاﺅں گا۔اور اگر آدھے فاصلے سے پہلے تھک گیا تو پھر واپس مڑ جاﺅں گا اور کہوں گا جس کا نہر پر نہانے کا پہلا دن ہو اس کے لیے اتنی تیراکی بھی جوئے شیر لانے کے مترادف ہے( گویا یو ٹرن لے کر خود کو بڑا لیڈر ثابت کردوں گا)۔“
پہلے توکچھ دیر خود کو مضبوط رکھنے کے لیے کنارے کے فاصلے پر نظر ہی نہ ڈالی۔جب پہلی بار فاصلے کے اندازے کے لیے کنارے کی طرف نظر اٹھائی تو مجھے بے حد خوشی ہوئی کہ میں آدھا فاصلہ طے کرچکا تھا اور ابھی مجھے تھکن کا کوئی احساس نہ ہوا تھا۔ حوصلہ پانے کے بعد میں زیادہ اعتمادسے آگے بڑھتا گیا حتیٰ کہ میں دوسرے کنارے پر پہنچ چکا تھا۔ خالد حمید خان لوگ بھی مجھ سے کچھ دیرپہلے دوسرے کنارے پر پہنچ چکے تھے۔ میں باہر نکلا تو خود کو تھکا ہوا پانے کے بجائے کافی چست پایا اس لیے میں نے فوراً واپسی کے لیے دوبارہ نہر میں چھلانگ لگا دی جبکہ خالد لوگ ابھی کنارے پر بیٹھ کر سستا رہے تھے ۔
مجھے دوسرے کنارے پر خیر وعافیت سے پہنچتا دیکھ کر جن خیر خواہوں کی جان میں جان آئی تھی ایک بار پھر میں نے انھیں پریشانی میں ڈال دیا تھا۔ اب کی بار مجھے تھکاوٹ کا ہلکا ہلکا احساس ہو رہا تھا کیونکہ میں نے چھلانگ لگاتے وقت قمیض نہیں اتاری تھی اور قمیض کی موجودگی میں تیرنا نسبتاً مشقت طلب کام ہے۔ قمیض کی آستینوں میں پانی جمع ہوجاتا ہے اور وہ بازوﺅں کے لیے اضافی بوجھ کا سبب بنتا ہے۔ میں خود کو مطمئن رکھنے کے لیے اپنے ذہن کو نہر کی طرف جانے اور اس کی گہرائی اور ہولناکی پر سوچنے کے بجائے مثبت خیالات میں لگا کر پر امید رہناچاہتا تھا۔ الحمدللہ میں اس میں کامیاب ہوگیا اور بخیر و عافیت نہر کے پہلے کنارے پر آگیا جہاں سے پہلی چھلانگ لگائی تھی۔اگرچہ جون کا مہینہ تھا لیکن اس کے باوجود نہر کا پانی اتناٹھنڈا تھا کہ جب میں نہر سے باہر نکلا تو میرے دانت بجنے لگے اور میرے منہہ سے ”ٹک ٹک ٹک“ کی آوازیں آنے لگیں۔
اب میں سمجھ رہا تھا کہ مجھے خوب دادو تحسین سے نوازا جائے گا اور مجھے ہیرو مان لیا جائے گا کہ اتنی پر خطر مہم کو میں نے کامیابی سے انجام دیا تھا۔ مگر یہاں تو معاملہ الٹا تھا۔بھائی عمر خان مجھ پر برس پڑے اور انھوں نے مجھے وہ سب کیفیات (مع مبالغہ و غصہ)سنا ڈالیں جو میرے نہر میں تیرتے وقت اُن پر بیت رہی تھیں۔ المختصر اُن کے منہہ میں جو آیا انھوں نے مجھے کہہ دیا ۔تاہم انھوں نے اتنی مہربانی ضرورکی کہ مجھے اُسی نہر کنارے خواجہ آباد اڈا پر قائم چاچا غلام رسول(مرحوم) کے چھپر ہوٹل پر لے گئے اور چائے پلائی تاکہ میرے دانتوں کا ”کڑکار“ (ٹک ٹک ٹک) ختم ہو۔
