0

بٹیر اور پنجاب یونیورسٹی کے امتحانات کا ہال… سلسلہ ء خود نوِشت؛ میں تو جیسے پتھر تھا!

Mujeeb Niazi

جب ذکر چل پڑا ہے مرغوں اور تیتروں کا تو کیوں نا آج آپ کو قصہ سنائیں ایک ایسے بٹیر کا جو پنجاب یونیورسٹی کے امتحانی سنٹر پر بی اے کے ایک پرچے میں کمرہ ء امتحان جا پہنچا تھا۔

واقعہ کچھ ہوں ہے اپریل 1998ءکا جب میں بی اے کا امتحان دے رہا تھا۔ میری ایک کمزوری ہے کہ میں لکھنے، پڑھنے حتیٰ کہ کسی حد تک اہم بات سننے میں بھی کامل خاموشی(Pin Drop Silence) کا قائل ہوں۔ ہمارا امتحانی سینٹر ڈگری کالج میانوالی تھا۔میں جس کمرے میں پرچہ دے رہا تھا وہاں ایک انتہائی غیر سنجیدہ لڑکا بھی پرچہ دے رہا تھا۔ وہ سوالیہ پرچے کو باآوازِ بلند پڑھنے، باربار شور مچا کر پانی مانگنے، اپنی تحریر کو خود کلامی کے انداز میں بلند آواز سے پڑھنے جیسی فضولیات کا ارتکاب کر رہا تھا۔ میں نے نگران صاحب سے کہا کہ دیکھیں موصوف کے کرتوتوں سے مجھے سخت الجھن ہورہی ہے اور میں اپنی توجہ اپنے پرچے پر مرتکز نہیں کر پا رہا لہٰذا آپ اس بات کو یقینی بنائیں کہ موصوف سنجیدگی اور خاموشی اختیار کریں۔

شاید وہ لڑکا ڈان قسم کا تھا یا پھر نگران انتہائی کمزور کہ وہ اسے نظم و ضبط کا پابند کرنے کے بجائے مجھے کہنے لگے کہ میرا کام تو محض نقل روکنا ہے۔یہ جو حرکتیں کررہا ہے یہ نقل کے زمرے میں نہیں آتیں اس لیے میں اسے نہیں روک سکتا لہٰذا آپ کو یہ سب کچھ برداشت کرنا پڑے گا۔ میں نے نگران صاحب کو یہ کہا کہ اس کا مطلب یہ ہوا کہ نقل کے علاوہ ہم بھی جو مرضی کمرہ ءامتحان میں کرتے رہیں آپ اس پر معترض نہ ہوں گے تو اس نے کہا کہ جی بالکل ایسا ہی ہوگا۔ میں نے کہا کہ چلیں ٹھیک ہے۔

میں پرچے سے واپس آیا تو گھر آنے سے قبل چاچا غلام رسول خان ہوٹل والا کے پاس گیا ا ور انھیں کہا کہ آپ مجھے ایک دن کے لیے اپنا بٹیر دیں۔ میں اگرچہ بٹیروں سے بے حد محبت کرتا تھا لیکن مجھے بٹیر پالنے کا کوئی تجربہ نہیں تھا اس لیے چاچا غلام رسول خان نے کہا کہ یار بٹیر بہت نازک چیز ہوتی ہے اور اسے بڑے طریقے سے سنبھالا جاتا ہے۔ یہ تم سے نہیں سنبھالا جائے گا اور کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ مر جائے۔ میں نے کہا چاچا اب اس میں ایسی بھی کوئی سائنس نہیں کہ میں بٹیر کو ایک دن بھی نہ سنبھال سکوں۔ چاچا غلام رسول ایک بھلے مانس انسان تھے۔ چپ کر گئے اور مجھے اپنا انتہائی قیمتی بٹیر دے دیا۔

میں اسے اگلے دن پرچے پر اپنے ساتھ کمرہ ء امتحان میں لے گیا اور اس کی گتھی کو اپنی کرسی کے بازو سے لٹکا دیا۔ امتحانی سینٹر پر اس دن کسی آفیسر کا وزٹ بھی طے تھا۔ اس سلسلہ میں امتحانی عملے میں خوب بھاگ دوڑ جاری تھی کہ اوپر سے امتحان گاہ میں بٹیر لانے پر ہلچل مچ گئی۔

مجھے موصوف نگران نے کہا کہ اسے باہر کسی کے حوالے کریں ۔ میں نے کہا کہ آپ اطمینان رکھیں یہ نقل میں کسی طرح بھی میری مدد نہیں کرے گا۔ اس نے پھر ذرا جھوٹ موٹ کا رعب ڈال کر کہا کہ یار اسے باہر کسی جگہ پر لٹکا دیں آج چیکرز آرہے ہیں اور خواہ مخواہ اپنے لیے پریشانی کا سبب نہ بناﺅ۔ میں نے کہا کہ میں چیکر کو کہوں گا کہ کل ہی آپ کے عملے کے انتہائی مستعد اور قابل شخص نے کہا کہ نقل کے علاوہ آپ کمرہ ء امتحان میں جو کچھ بھی کریں اس پر قانون کچھ نہیں کر سکتا اور ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔جب آپ کے چیکر یہ سن لیں گے تو وہ خاموش ہوجائیں گے اور اگر بولیں گے تو تمہیں کچھ کہیں گے انھوں نے میرے لیے کیا پریشانی بنانی ہے۔میری یہ بات نگران سن کر جان گیا کہ اس کے ساتھ میرا بحث کرنا فضول ہے۔ وہ باہر چلا گیا اور اپنے سینیئر کو بلا لایا۔

سینیئر صاحب نے بھی پہلے تو مجھے قانون سے ڈرانے کی کوشش کی تو میں نے انھیں کہا کہ چلیں چیکر کو آلینے دیں میں جانوں اور وہ جانے۔آپ جائیں اور اپنا کام کریں۔بات جب زیادہ الجھنے لگی اور مکالمے دلچسپ ہونے لگے تو کچھ طلبا بھی اپنی اپنی سیٹوں سے اُٹھ آئے اور یہ مکالمہ سننے لگے۔ اس پرعملے کے چند دیگر لوگ حتیٰ کہ کالج کے کچھ اساتذہء کرام بھی امتحانی سٹاف ممبر کی مدد کے لیے آ گئے۔ نئے آنے والوں نے معاملے کی نزاکت دیکھی تو امتحانی سٹاف کو کسی نے مشورہ دیا کہ آپ اس پر پریشر نہ ڈالیں بلکہ ٹیچر بن کر اِسے کہیں کہ دیکھو ہم آپ کے ٹیچرز کی طرح ہیں اور آپ اپنے ٹیچرز کی عزت کا خیال رکھیں(ظاہر ہے یہ مشورہ میرے سامنے تو نہیں دیا گیا لیکن بدلتی پالیسی سے مجھے اندازہ ہوا کہ انھیں کسی نے ایسا مشورہ دیا ہے)۔ پھر میرے پاس سپرنٹنڈنٹ صاحب آئے اورمجھے کہنے لگے کہ کل ہمارے نگران نے غلطی کی تھی اور آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔ ہمیں توقع ہے کہ آپ ایک اچھا طالب علم ہونے کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ بٹیر باہر رکھ دیں گے۔ میں بھی تو یہی چاہتا تھا کہ کسی طرح یہ اپنی غلطی مان لیں اور معاملہ ختم ہو۔ میں نے فوراً بٹیر اٹھایا اور باہر برآمدے میں لٹکا دیا اور یوں یہ معاملہ انجام پاگیا۔

میں گھر آیا بٹیر کو دانہ پانی دیا اور سوچا کہ کل چھٹی ہے لہٰذاآج اِسے واپس کرنے کے بجائے کل صبح چاچا غلام رسول خان کو واپس کر دوں گا لیکن افسوس!!! چاچا غلام رسول کی بات سچ ثابت ہوئی اور اگلی صبح جب میں اٹھا تو گتھی کے اندر بٹیر مرا پڑا تھا۔

بٹیر کے مرنے پر مجھے بہت افسوس بھی ہوا تھا اور شرمندگی بھی۔ کئی دن یہ سوال میرا پیچھا کرتا رہا تھا کہ ہم انسان اتنے انا پرست کیوں ہوتے ہیں کہ اپنی جھوٹی انا کی تسکین کی خاطر کسی معصوم پرندے کی جان تک لینے کے مرتکب ہو جاتے ہیں۔

مجیب اللہ نیازی

شکریہ بھائی عمر خان کہ آپ نے چاچا غلام رسول خان کی تصویر فراہم کردی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں