
22جون1997ءکا ایک تپتا دن تھا کہ کسی نے اطلاع دی کہ عبد الوہاب خان نیازی(امیر جماعت اسلامی ضلع میانوالی)کے بڑے بھائی عبد الرزاق خان نے خود کو فائر مار کر زخمی کر لیا ہے اور اُس کی حالت تشویش ناک ہے۔ابھی اُن دنوں میں جماعت اسلامی کا حصہ نہیں تھا لیک علاقائی قرابت داری کی وجہ سے میں بھی ڈی ایچ کیو ہسپتال میانوالی پہنچ گیا۔ مریض کو خون کی اشد ضرورت تھی۔میں نے بھی خون کا ٹیسٹ کروایا اور میرا گروپ میچ کر گیا اس طرح وہاں میں نے زندگی میں پہلی بار خون کا عطیہ دیا تھا۔ شدید گرمی اور پھر پہلی بار خون دینے کی بنا پر دماغ میں سینکڑوں وسوسے تھے۔ اس لیے بہت زیادہ ذہنی دباﺅ میں خون عطیہ کیا۔جب خون کی بوتل نکال لی گئی تو میرے سارے وہم اور وسوسے دم توڑ گئے کیونکہ میری طبیعت میں ذرا بھر بھی کمزوری یا اُس طرح کی کیفیت پیدا نہ ہوئی جس کا مجھے ڈر تھا یا لوگ جس سے ڈراتے تھے۔
اُنھی دنوں میں نے ایک نئے زرعی پروجیکٹ کا آغاز کیا ہوا تھا جس کے تحت سبزی کاشت کرنے کا پروگرام تھا۔اُسی دن میں نے سہہ پہر چاربجے اپنے ایک ہالی(حبیب اللہ لوہار) کو کھیلیاں بنانے کے لیے اپنی مدد کے لیے بلایا ہوا تھا۔جب میں خون کا عطیہ دے کر گھر پہنچا تھا تو چار بجنے والے تھے۔ کچھ دیر سستایا تو ہالی آگیا۔ اب چونکہ میں نے اُسے منت کرکے بلایا تھا ا س لیے اُسے یہ کہتے ہوئے مجھے شرم آتی تھی کہ آج میں نے خون کا عطیہ دیا ہوا ہے اور آپ گھر چلے جائیں ۔یہ کام ہم کل کریں گے۔ اوردوسری وجہ والدین سے بھی یہ چھپانا مقصود تھا کہ میں نے خون کا عطیہ دیا ہے کیونکہ عموماً ماﺅں کو تو اپنے ہٹے کٹے بیٹے بھی ہر وقت کمزور نظر آتے ہیں اور میں تو ویسے بھی اُن دِنوں انتہائی دبلا پتلا ہوتا تھا۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اس کے کئی سال بعد ہماری والدہ صاحبہ کو ڈائیلاسس کے دوران اکثر خون کی ضرورت پیش آتی رہتی تھی۔ ہماری فیملی میں سے صرف ہمارے چھوٹے بھائی حبیب اللہ خان کے خون کا گروپ والدہ صاحبہ کے خون کے گروپ سے میچ کرتا تھا اور جب ہمارابھائی امی جان کو خون دیتا تھا تو اُن سے چھپاتا تھا۔ اِس کے باوجود وہ کریدتی رہتیں کہ تم مجھ سے چھپا رہے ہو تم ہی نے خون دیا ہے۔آپ خود اندازہ لگائیں کہ ایک ماں جو بستر مرگ پر ہے اور اُس کا بیٹا ماشاءاللہ کافی صحت مند ہے‘ وہ اپنے لیے اُس کے خون کے عطیے پر بھی متفکر ہو جاتی ہے تو پھر اُس ماں کو اگر ہم بتاتے کہ کسی اورکو خون دیا ہے تو وہ کیسے خاموشی سے برداشت کرتیں۔ لہٰذا میں گھر والوں سے یہ بات چھپانے کی غرض سے بھی ہالی کو اس دن کام سے معذرت نہیں کر سکتا تھا۔تیسری وجہ میری یہ فطرت تھی کہ میں آج کے کام کو کل پر چھوڑنے سے حتی المقدور گریز کرتا ہوں لہٰذا میں نے اور ہمارے ہالی نے دڑّا لیا اور کھیلیاں بنانا شروع کردیں۔
جن لوگوں کو دڑّے پر کام کرنے کا تجربہ ہے اُنھیں اچھی طرح معلوم ہوگا کہ دڑّے کا ایک مسلمہ اصول ہے کہ ایک سائیڈ پر آپ دڑّا کھینچتے ہیں اور دوسری سائیڈ پر دوسرا فریق کیونکہ دڑّا لگانا نسبتاً آسان کام ہوتا ہے جبکہ دڑّا کھینچنا کافی مشقت طلب عمل ہے۔ اس طرح پھر مشقت کا توازن قائم رہتا ہے۔ اب اس کا کیا کیجیئے کہ ہمارے ہالی کا بھی اپنا ایک اصول ہے کہ وہ صرف دڑّا لگاتا تھا اور کھینچتا نہ تھا۔ اب منت پر بلوائے جانے والے بندے کو بندہ کہے تو کیا کہے۔ سہ پہرچار بجے سے لے کر شام 6 بجے تک میں نے مسلسل دو گھنٹے دڑّا کھینچا تو میرے کندھے جواب دے چکے تھے۔ اب تھکاوٹ کی شکل میں خون کے عطیے اور پھر اُسے ہالی کو نہ بتانے کی سزا میں خوب جھیل چکا تھا۔
وہ ایک سرائیکی گاناہے نا:
”سرمے جو پیسیں تاں رولے تاں تھیسن“ (اردوترجمہ وتشریح:جب تم آنکھ میں سرمہ ڈالو گے تو اُس کے بعد تمہارے حسن کے جو نکھار آئے گا اور اس کے جو چرچے ہوں گے تو اِس پر عاشقوں کے درمیان لڑائیاں تو ہوں گی۔)
اگر گھر والوں سے چھپ کر خون کے عطیے دیئے جائیں گے تو دو دو گھنٹے دڑّے تو کھینچنے پڑیں گے۔