0

ہم کو دعائیں دو کہ تم کو دلبر بنا ڈالا… سلسلہء خود نوِشت؛ میں تو جیسے پتھر تھا!

Mujeeb Niazi

میں نے میٹرک کا امتحان 1992ءمیں ورلڈ کپ کے دوران دیا تھا ۔ چونکہ امتحان اور ورلڈ کپ ساتھ ساتھ چلے تھے اس لیے ان کی بہت سی یادیں ایک دوسرے کے ساتھ وابستہ ہیں۔
پاکستان اور آسٹریلیا کے میچ والے دن(غالباً11مارچ) ہماری چھٹی تھی۔سارا میچ لائیو دیکھا تھا حالانکہ اگلے دن کیمسٹری کا پرچہ تھا۔وہ میچ ورلڈ کپ میں پاکستان کی واپسی کا نقطہء آغاز تھا۔ پھر سری لنکااور نیوزی لینڈ کے ساتھ میچ۔ سری لنکا تو خیر اُن دنوں بے بی آف کرکٹ تھی ہمیں اُس کا ڈر نہ تھا لیکن نیوزی لینڈ تو اپنے تمام پول میچ(7) جیت چکی تھی۔اللہ کا احسان دیکھیے کہ اُس سے ہم یک طرفہ جیتے تھے۔اس کے باوجود ہمارے سیمی فائنل میں پہنچنے کے لیے ویسٹ انڈیز اور آسٹریلیا کا میچ ہمارے لیے فیصلہ کن تھا۔ وہ میچ آسٹریلیا جیتتا تو ہم سیمی فائنل میں پہنچتے تھے اور اگر ویسٹ انڈیز جیتتا تو ہمارے بجائے وہ خود پہنچ جاتے ۔ اور کس مشکل سے آسٹریلیا وہ میچ جیتا تھا۔ ویسٹ انڈیز چیز کر رہا تھا۔ رچرڈسن کے آﺅٹ ہونے پر ہماری خوشی دیدنی تھی۔
ایک پرچے (شاید انگریزی ) کو جلدی جلدی حل کر کے امتحانی سینٹر (ایم سی ہائی سکول میانوالی) سے اپنی پھوپھو کے گھر (سٹی سٹریٹ میانوالی) پہنچے تھے اور سیمی فائنل کے آخری یادگار لمحے دیکھے تھے۔ انضمام کا ایک بار پھر آﺅٹ سٹینڈگ فیلڈنگ سے اُس ورلڈ کپ میں دوسری بار رن آﺅٹ ہونا، بارش کا خوف، ہائی چیزنگ رن ریٹ۔۔۔ کس قدر ٹینشن کے ماحول میں وہ میچ چل رہا تھا کہ معین خان نے چھکے اور چوکے سے بیک وقت میچ اور ٹینشن کا جیت پرخاتمہ کردیا تھا۔ 25 مارچ کو فائنل تھا اور 26 مارچ کو ہمارا بیالوجی کا آخری پرچہ۔۔۔ وہ مسحور کن گھڑیاں آج بھی یادوں کو مہکا دیتی ہیں۔
آج مگر آپ کو اُس امتحان میں فزکس کے پرچے کا حال سنانا مقصود ہے۔ سہراب والا سے ہمارا ایک کلاس فیلو تھا جس کا نام وزیر تھا۔ امتحان میں میرے بعد اس کا رولنمبر تھا۔ فزکس کے پرچے میں تقریباً وہ رونے لگا اور مجھے کہنے لگا کہ میں غریب ماں باپ کا بیٹا ہوں اور میرے پچھلے تمام پرچے اچھے ہو گئے ہیں۔ فزکس کے بعد والے مضامین میں بھی میں اچھا ہوں۔ میٹرک کے بعد میں نے فوج میں جانا ہے اور والدین کا سہارا بننا ہے۔ اگر میں ایسا نہ کرسکا تو ہمارے گھر کے حالات مزید خراب ہو جائیں گے۔ آپ احسان کریں اور اس پرچے میں میری مدد کریں کیونکہ آج کے پرچے کا مجھے ککھ نہیں آتا۔
میں پچھلے کئی مہینوں سے اقبال خان(موسیٰ خیل، حال ساکن مسلم کالونی میانوالی) جیسے سائنس کے عظیم استاد سے تعلیم حاصل کررہا تھا۔ معمولی سی محنت سے بھی70-80فیصد نمبر لے جانا میرا معمول ہوتا تھا۔ اُدھر اُس کلاس فیلو کی یہ التجا اور اِدھر ہمارا یہ مسئلہ کہ:
اُس کو چاہا بھی تو اظہار نہ کرنا آیا
کٹ گئی عمر ہمیں پیار نہ کرناآیا
اُس نے مانگا بھی اگر کچھ تو جدائی مانگی
اور ہم تھے ہمیں انکار نہ کرناآیا
میں نے سوچا کہ میں تو پاس ہو ہی جاﺅں گا اور میرے فیل ہونے سے کون سا میرے گھر کی روزی روٹی وابستہ ہے۔اِس کا اگر اتناہی مسئلہ ہے تو کیوں نا پہلے اِسی کو پرچہ حل کر کے دے دوں۔ ہم نے پرچے تبدیل کر لیے ۔مجھے یاد ہے کہ چودہ نمبروں کا ایک لانگ سوال تھا جس میں پانی کے بے قاعدہ پھیلاﺅ کی تفصیل بیان کرناتھی۔ اسی طرح حرارتِ مخصوصہ کا بھی پورشن تھا۔ حرکت کی مساواتوں کو ثابت کرنا اور ایک آدھ نیومیریکل تھا جسے میں نے انتہائی سپیڈ سے حل کیا کیونکہ مجھے اپنا پرچہ بھی حل کرنا تھا۔ ایک دو سوال حل کرنے کے بعد میں دل ہی میں کہتا کہ اب تو یہ سیف ہو گیا ہے لہٰذااب میں اپناپرچہ حل کروں۔ پھر خیال آتا کہ کہیں کچھ نمبر کٹ جائیں تو یہ فیل نہ ہو جائے۔ یہ سوچتے ہی میں اس کے پرچے پر مزید کوئی سوال حل کرنا شروع کردیتا۔ ایسا کرتے کرتے میں نے زیادہ تر وقت وزیر کے پرچے کو دے دیا۔ جب اپنے پرچے کے حوالے سے بہت زیادہ پریشر بڑھا تو پھر اپنا پیپر شروع کیا۔ جتنی سپیڈ لگا سکتا تھا لگائی لیکن بدقسمتی سے حرارتِ مخصوصہ والے14نمبروں والے سوال میں کہیں پر نیومیرکس میں غلطی ہوئی اور میرا جواب غلط آگیا۔ اس سوال کا مجھے جواب بھی یاد تھا کہ وہ میرا پسندیدہ ٹاپک تھا لیکن اب اتنا وقت بھی نہیں تھا کہ میں اُس غلطی کا کھوج لگا کر سوال کو دوبارہ کر سکتا۔
جس دن میں اپنے سکول‘ گورنمنٹ جامع ہائی سکول میانوالی سے اپنا میٹرک کا سرٹیفیکیٹ لینے گیا تو اُسی دن وزیر بھی اپنا سرٹیفیکیٹ لینے آیا ہوا تھا۔ اچانک مجھے یاد آیا تو میں نے اس سے کہا کہ ذرااپنا فزکس کا رزلٹ تو دکھاﺅ۔مجھے سو فیصد تو یاد نہیں لیکن اتنا یاد ہے کہ اس کے 70کے لگ بھگ نمبر تھے جب کہ میرے فزکس میں 52نمبر تھے۔
ہم دوستوں سے اس قدر مخلص رہے ہیں!!!
تم اتنے بھی معتبر نہ تھے زمانے میں
ہم کو دعائیں دو کہ تم کو دلبر بنا ڈالا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں