0

ایک مقامی اخبار کا انٹرنیٹ ایڈیشن… سلسلہء خود نوِشت؛ میں تو جیسے پتھر تھا!

Mujeeb Niazi

یکم دسمبر 2003ء کو میں نے محکمہ ء تعلیم میں بطور ای ایس ای اپنی ملازمت کا آغاز کیا تھا۔ جس دن میری جوائنگ تھی اُسی دن ہمارے گھر میں میری ایک بھانجی کی شادی تھی۔ مجھے شادی کی وجہ سے حاضری دینے کے بعد چھٹی مانگ کر گھر شادی پر آنا تھا۔
عید الفطر کی چھٹیوں کے بعد اُس دن سکول کھل رہے تھے۔ میں علی الصبح گورنمنٹ ایلیمنٹری سکول محمد یار والا پہنچ گیا۔ اس سکول میں سوائے ایک آدھ ٹیچر کے میں اور کسی کو نہ جانتا تھا۔ میں سکول پہنچا تو اُس وقت تک کوئی ٹیچر سکول نہ پہنچا تھا۔ صرف کچھ بچے آئے ہوئے تھے۔ کچھ ہی دیر گزری ہوگی کہ ایک انتہائی خوش اخلاق آدمی آیا اور مجھے انتہائی تعظیم سے ملا۔ وہ مجھے جانتا تھا مگر میں اُسے نہیں جانتا تھا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ موصوف کا نام غلام محمد خان ہے اور سکول ھٰذا میں مالی ہے اور موچھ کے محلہ احمد خیل غربی سے اِس کا تعلق ہے۔ اُس نے مجھے دفتر سے فوراً کرسی نکال کر دی۔ دفتر کی جھاڑ پونچھ کے بعد میرے ساتھ کرسی ڈال کر گپ شپ میں بیٹھ گیا۔ اسی اثنا میں میرے جاننے والے ایک سکول ٹیچر طاہر نوید خان آگئے۔
طاہر نوید خان سے میرا پرانا تعارف تھا کہ وہ میرے خالہ زاد بھائی نجم وقاص خان کے پھوپھو زاد بھائی ہیں۔ اب یہ دونوں احباب آپس میں ہم کلام ہو گئے۔ دونوں کا مشترک پسندیدہ ٹاپک کتوں کے ذریعے خرگوش کا شکار کھیلنا تھا۔ وہ دونوں گزشتہ رات پائی خیل کی پہاڑیوں میں خرگوش کے کھیلے گئے کسی شکار کی باتیں کرنے لگے۔ غلام محمد خان اُس شکار میں شریک تھا جبکہ طاہر نوید خان اس سعادت سے محروم رہ گئے تھے اس لیے اُس سے کارگزاری پوچھتے رہے اور اِس”انتہائی اہم اور نیک کام“ میں اپنی ”غیر حاضری“ پر بار بار خود کو کوستے بھی رہے۔
اُن کے درمیان شکار کی کارگزاری کا مکالمہ کچھ یوں تھا:
غلام محمد خان
طاہر نوید خان: ”غلام محمد خان تم کل شکار پر گئے تھے نا!“
غلام محمد خان: ”جی ہاں طاہر خان۔ گیا تھا۔ طاہر خان آپ کو تو پتا ہے بھلا میں کیسے شرکت نہ کرتا!“
طاہر نوید خان: ”مجھے بہت دکھ ہے کہ میں نہیں آسکا۔ سناﺅ کیسا رہا شکار؟“
غلام محمد خان: ”رات ایک بجے تک تو بالکل مایوسی رہی کہ کوئی شکار نہ لگ سکا لیکن اچانک رات کے ایک بجے ایک خرگوش نکلا۔۔۔ “
طاہر نوید خان نے غلام محمد خان کی بات کو کاٹتے ہوئے انتہائی اضطراب میں پوچھا: ”پھر کیا ہوا؟“
غلام محمد خان: ”پھر کیا دیکھتے ہیں کہ شور مچا اور پھر سبھی نے اپنے کتے چھوڑ دیے۔۔۔ “
غلام محمد خان نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے مزید بتایا: ”خرگوش بہت تیز تھا۔ اُس نے کتوں کو سمجھ ہی نہیں لگنے دی کہ وہ کہاں بھاگا جا رہا کیونکہ رات بھی تھی اور اندھیرا بھی‘ لیکن صرف ایک کالی کتیا۔۔۔“
طاہر نوید خان نے پھر بات کاٹتے ہوئے پوچھا: ”وہ کالی کتیا درانی خیلوں والی؟“
غلام محمد خان:”جی جی۔ وہی۔۔۔“
طاہر نوید خان
غلام محمد خان نے بات جاری رکھنا چاہی لیکن طاہر نوید خان نے بات کاٹتے ہوئے کہا: ”وہ جو خوب صورت سی ہے اور جس کا پتلا سا منہہ ہے۔۔۔“
غلام محمد خان: ”جی جی وہی۔ وہ آگے بڑھی اور اُس نے شکار کو اپنی آنکھوں سے اوجھل نہ ہونے دیا اور بالآخر اُسے پکڑ لیا۔۔۔“
مجھے اگرچہ اس ساری گُفت گُو سے کوئی دل چسپی نہیں تھی لیکن ساتھ جو بیٹھاتھا تو پھر سب کچھ سننا تو تھا۔
رفتہ رفتہ دیگر اساتذہ اور بچے بھی آ گئے اور اسمبلی کے بعد جیسے ہی سکول فنکشنل ہوا میں ہیڈ ماسٹر صاحب کے پاس گیا اور اپنی جوائننگ دی اور بقیہ وقت کی رخصت لے کر گھر پہنچا کیونکہ یہاں تیسرا دن شادی کی تقریبات جاری تھیں اور بہت مصروفیت تھی۔
ظہر کے بعد موچھ سے بارات آئی۔ میں اور میرا ایک کزن اکٹھے بیٹھے تھے کہ موچھ سے آنے والے دو باراتی بھی ہمارے ساتھ بیٹھ گئے۔ اتفاق دیکھیے کہ دونوں شکار کے شوقین۔ اُن میں سے ایک رات والے شکار میں شریک تھا جبکہ دوسرا اپنی عدم شرکت پر نوحہ کناں۔ غیر حاضر شکاری نے حاضر شکاری سے گزشتہ رات کے شکار کی کارگزاری پوچھی۔ اور اُس نے بتانا شروع کردی۔ جیسے جیسے وہ شکار کی کارگزاری سناتا جا رہا تھا میں اپنے کزن کو سرگوشی کے انداز میں اُس کہانی کا اگلا سین بتا دیتا جو صبح سن کر آیا تھا۔ اس طرح میں نے اپنے کزن کو اُس شکار کا ہر جزو حاضر شکاری سے پہلے ہی سرگوشیوں میں سنا ڈالا۔ میرا کزن تعجب اور تفنن کی اِس کیفیت میں خود کو قہقہوں سے نہ روک سکا۔ وہ لوٹ پوٹ گیا۔ اُس کے لیے مگر معمہ یہ تھا کہ جو واقعات میں اُسے ہوبہو سناتا جاتا تھا وہ گزشتہ رات کے تھے۔ دوسرا جو لوگ باتیں کر رہے تھے اُن میں سے کوئی بھی میرا دوست یا جاننے والا نہ تھا اور اگر جاننے والا تھا بھی تو مجھے آج ملا نہیں تھا کیونکہ کزن کو معلوم تھا کہ میں تو اِدھر شادی کی وجہ سے تیسرا دن ہے گھر پر ہی ہوں۔ تیسرا جس موضوع پر میں اتنی مستند معلومات دے رہا تھا وہ میری دلچسپی کا موضوع اور میدان بھی نہ تھا۔ اور چوتھا یہ کہ میرے کزن کو یہ بھی پتا نہ تھا کہ میں آج صبح سویرے ایک گھنٹے کے لیے سکول بھی گیا تھا۔ لہٰذا وہ قہقہوں کے دورے کے دوران صرف ایک ہی سوال باربار کر رہا تھا کہ تمہیں یہ سب کیسے پتا تھا۔
میں نے صرف اتنا کہا کہ ایسے معاملات ہمارے معاشرے کے جوانوں کی اکثریت کے لیے بہت ”اہم“ ہیں اس لیے یہ اخبار کی شہہ سرخی (Lead story) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اور یہ لیڈ سٹوری میں آج صبح سویرے انٹر نیٹ ایڈیشن میں پڑھ چکا ہوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں