0

تو نے دیکھا ہے کبھی جیت کے ہارا ہوا شخص… سلسلہء خود نوِشت؛ میں تو جیسے پتھر تھا!

Mujeeb Niazi

میں انسان اچھا ہوں یا نہیں اِس پر میں رائے نہیں دے سکتا لیکن مجھے اتنا فخر ضرور ہے کہ میں ایک اچھا ٹیچر ہوں۔ میرے خیال میں میرے اندر چار اوصاف ایسے ہیں جو مجھے اچھا ٹیچر بناتے ہیں:

الف۔    سخت محنت اور اپنے کام سے سچی لگن

ب۔     طلبا کے درمیان انصاف کا معاملہ

ج۔       سمجھانے کا قدرے مناسب انداز

د۔        نظم و نسق (ڈسپلن و ایڈمنسٹریشن) اور انسانی نفسیات کی معقول سوجھ بوجھ

میں نے ہمیشہ اداروں میں یک کرداری کارکردگی(One Man Show) کے بجائے اجتماعی کارکردگی کو بڑھانے کی سعی کی ہے۔ ہمیشہ شعوری طور پر یہ کوشش کی کہ چیزیں ایک فرد کے گرد گھومنے کے بجائے کسی طے شدہ ایسے نظام کے گرد گھومیں کہ اُن کی کارکردگی میں اس بات کا اندیشہ نہ رہے کہ فرد تھوڑا سا دائیں بائیں ہو اور ساری کی ساری کارکردگی زمیں بوس ہوجائے۔مجھے ہمیشہ خود ہیرو بننے کے بجائے یہ خواہش رہتی کہ میں جو کام کررہا ہوں اِس کا فہم و ادراک اور اس کے کرنے کی صلاحیت زیادہ سے زیادہ لوگوں کو حاصل ہو تاکہ ہر فرد اپنی جگہ پر ایک فرد نہ رہے بلکہ ایک ادارہ کی مانند ہوجائے۔ اسی مقصد کے لیے میں نے اپنے ساتھ افرادِ کار کی اُس وقت ورکشاپس کا سلسلہ شروع کیا تھا جب ہمارے دائیں بائیں اِس کا تصور بھی نہ تھا۔ اور اچھے بھلے سمجھ دار لوگ ہماری اِس کاوش پر پھبتیاں کستے۔ اور انتہائی لطف اور تعجب کی بات کہ ایک عشرہ بعد وہ سبھی پھبتیاں کسنے والے ہماری تقلیدکرنے لگے۔ میرے مزاج کی یہی خصوصیت مجھے بسا اوقات ناکام بھی کردیتی کہ میں ہر جگہ نظام کا خواہاں ہوتا ہوں جب کہ متعلقہ افراد چیزوں کو لگے بندھے انداز میں چلانے پر نا صرف مُصِر ہوتے بلکہ بعض اوقات تو مزاحم بھی ہوتے۔ میرے بے تکلف دوست کسی بھی خودکار نظام کے قیام کی میری کوششوں کو اکثر کارِ لا حاصل تک قرار دینے سے نہیں چوکتے۔

تمہید خاصی طویل ہو گئی۔ بہر حال کہنا یہ چاہتا ہوں کہ میں چھوٹے سے چھوٹے کام کو بھی خود کار انداز میں اور انتہائی نظم و ضبط سے کرنے کا قائل ہوں اور یہی وجہ ہے کہ جب بھی میں نے اپنے سکول میں کوئی بھی سرگرمی شروع کی تو اُسے سرسری نہیں لیا بلکہ پورے انہماک اور اہمیت سے اُسے شروع کیا۔

میں نے جب بھی سکول میں ایکسٹرا ٹائم لگایاتو ہمیشہ اس بات کو یقینی بنایا کہ تمام بچوں کے پاس لنچ ہو۔یہ نہ ہو کہ آدھی کلاس لنچ لائے اور آدھی منھ اُٹھا کے بیٹھی ہو۔ بچوں کے اندر سے غیر ضروری شرم ختم کرنے کے لیے میں خود بھی گھر سے لنچ لاتا اور شروع کے دنوں میں بچوں کی ہچکچاہٹ ختم کرنے کے لیے اُن کے درمیان بیٹھ کر کھانا کھاتا۔اُنھیں اپنے کھانے میں دوستوں کو شریک کرنے کی ترغیب دیتا۔ کھاتے پیتے گھرانوں کے بچوں کو تنہائی میں اِس بات کی ترغیب بھی دلاتا کہ آپ کھانا ذرا زیادہ لایا کریں تاکہ اگر آپ کا کوئی غریب دوست کم کھانا لائے یا کسی دن کھانا لانا بھول جائے توآپ کے پاس اتنا کھانا ہو کہ آپ اُسے بھی پیٹ بھر کر کھلا سکیں۔یہی وجہ تھی کہ ہمیشہ میں خود بھی گھر سے ایک سے زیادہ بندوں کا کھانا لے کر جاتاتھا تاکہ بچوں کو عملی نمونہ سامنے نظر آئے۔

ایکسٹرا ٹائم لگانے کے سیشن کے سٹارٹ کے وقت جب بچوں کو کھانا لانے کا کہا جاتا تو کئی دن تک اِس فرمان کا تعاقب(Follow up)  کرنا پڑتا کہ بچے کسی ایسے کام کو سنجیدہ نہیں لیتے جس میں اُنھیں باربار کہا اور بالآخر ڈانٹا نہ جائے۔اس لیے میں ہمیشہ اپنے زیرِ نگرانی شروع ہونے والے کاموں کو باقاعدہ بنیادوں پراُستوار کر نے کے لیے اُس کی مسلسل نگرانی کرتا تھا۔اور روزانہ کی بنیاد پر بچوں سے باز پُرس کرتا۔پہلے دن کچھ بچے لنچ نہ لائے تو میں نے اُنھیں وارننگ دی۔ اگلے دن پھر ایک آدھ بچہ لنچ لانابھول گیا،  پھر وارننگ دی۔ اُس سے اگلے دن پھر ایک دو بچے لنچ نہ لائے۔ اُن سے میں نے وجہ بھی پوچھی۔ اُن میں سے ایک کہتا ہے کہ سر وہ آج صبح باجی کو سکول جانے میں دیر ہو رہی تھی اس لیے آج لنچ تیار نہ ہو سکا۔میں نے اُسے خوب ڈانٹا، سخت سست کہااور اگلے دن ضرور لنچ لانے کا کہا۔ بچہ خاموش ہوگیا۔

سردیوں کے دن تھے۔اُسی دن گھر پر رات گئے جب میں سکول کی تمام سرگرمیاں،  مارکنگ، لیسن پلاننگ وغیرہ ختم کرکے رضائی ڈال کر سونے لگا تو کلاس کا ماحول چشمِ تصورمیں گھومنے لگا۔ یاد آیا کہ آج فلاں فلاں بچے لنچ نہیں لا سکے تھے۔ پھر اُن کے لنچ نہ لانے کی بیان کردہ وجوہات ذہن میں آنے لگیں۔ جیسے ہی میرے ذہن میں اُس بچے کا جواب آیا کہ باجی کو سکول سے دیر ہو رہی تھی۔۔۔

لئیق احمد خان

 

باجی۔۔۔؟؟؟ امّی کیوں نہیں۔۔۔؟؟؟ میں نے اپنے آپ سے سوال کیا۔ جیسے ہی میں نے اِس رُخ پرسوچنا شروع کیا تو میرا دم گھٹنے لگا۔ دسمبر کی اُس رات میں نے اپنے اوپر سے رضائی ہٹائی اور اُٹھ بیٹھا۔ اب ساری کہانی میری آنکھوں کے سامنے چل رہی تھی اور میں مارے ندامت کے اپنی ہی نظروں میں گرتا جا رہا تھا۔اب مجھے یاد آرہا تھا کہ اُس معصوم سے پھول کے گھر میں تو والد ہے اور نہ ہی والدہ۔۔۔ وہ دونوں تو فوت ہو چکے ہیں۔ اب مجھے یاد آرہا تھا کہ اُس کی بہنیں تو میری بہن کی سکول فیلوز ہیں اور ایک دن میری بہن بتا رہی تھی کہ بھائی جان صبح ہم سے سکول کی تیاری کی جلدی میں بعض اوقات ناشتہ نہیں کیاجاتا اور وہ ہیں کہ اپنا اور بھائیوں کا ناشتہ بھی خود تیار کرتی ہیں اور سکول بھی آتی ہیں۔ اور کئی بار تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ عجلت میں سکول آتے ہوئے اُن کے ناخنوں پر آٹا گوندھنے کے آثار بھی باقی رہ جاتے ہیں کہ اُنھیں سرعت سے ہاتھ دھونے کا وقت ہی نہیں ملتا۔۔۔

میں چاہتا تھا کہ ابھی رات کو میں اُس بچے کے پاس چلاجاؤں اور اُسے ڈانٹنے پر اُس سے معذرت کروں۔ میرے لیے صبح تک انتظار مشکل ہو رہا تھا۔ جیسے تیسے صبح ہوئی۔ میں نے اُس بچے کا بھی لنچ تیار کروایا اور سکول پہنچ گیا۔ اُس سے معذرت کی اور آئندہ اُس کے لنچ کا خود ذمہ لیا۔ وہ بھی جیسے اندر سے ٹوٹا ہوا تھا۔ اُس دن وہ بچہ بہت رویا تھا۔ میرے لیے بھی آنسوؤں کو سنبھالنا بہت مشکل ہو رہا تھا۔ جب مجھے اِس بچے کا ماضی یاد آتا تھا کہ کس قدر مثالی اور قابلِ رشک ماضی کا حامِل یہ خاندان تھا جب اِس کے ماں باپ زندہ تھے اور اِس کا بڑا بھائی ایک کیڈٹ کالج میں زیرِ تعلیم تھا اور وقت آنے پر یہ شہزادہ بھی کیڈٹ ہی ہوتا۔ مگر۔۔۔

 

تخت کے بخت سے  یکلخت  اتارا ہوا شخص

تو نے دیکھا ہے کبھی جیت کے ہارا ہوا شخص

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں