0

پہلی جیل یاترا… سلسلہء خود نوِشت؛ میں تو جیسے پتھر تھا!

Mujeeb Niazi

پہلی جیل یاترا

فروری1999ءمیں بھارتی وزیرِ اعظم اٹل بہاری واجپائی نے پاکستان کا دورہ کرنا تھا۔ اُس وقت کے وزیرِ اعظم پاکستان نواز شریف نے کہا تھا کہ ہم اس کا والہانہ (Red carpet) استقبال کریں گے۔ اُس وقت کے جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد نے کہا کہ واجپائی ہزاروں کشمیری مسلمانوں کا قاتل ہے لہٰذا اسے عام مہمان کا درجہ دیا جائے اور اسے دارالحکومت تک محدود رکھا جائے لیکن چونکہ تقریباًہر حکمران طاقت کے نشے میں فرعون کا جانشیں ہوتا ہے اس لیے نواز شریف صاحب نے بھی کہا تھا کہ ہم اُسے لاہور ہی بلوائیں گے اور اُسے شاہی مہمان کا درجہ دیں گے۔اِس پر قاضی حسین احمد نے کہا تھا کہ پھر ہم بھی ہر اُس جگہ پر احتجاج کریں گے جہاں جہاں تمہارا شاہی مہمان جائے گا۔

پہلے دن جب واجپائی صاحب آئے تھے تو اُس دن مال روڈ پر تاریخی احتجاج ہوا تھا۔ شام کو شاہی قلعہ کی تقریب میں شاہی قلعہ سے باہر اور اگلے دن لٹن روڈ پر احتجاجی جلسہ منعقد ہوا تھا۔ لٹن روڈ کے احتجاجی جلسے کے دوران پولیس نے جلسے کا گھیراؤکر لیا اور اندھا دھند شیلنگ کی۔ شیلنگ اور لاٹھی چارج کے ساتھ ساتھ تقریباً ڈیڑھ ہزار کارکنانِ جماعت اسلامی گرفتارہوئے تھے۔

ہمارے حصے میں رات کے قیام کے لیے تھانہ ریس کورس آیا تھا۔ رات وہاں قیام کے بعد علی الصبح ہمیں کوٹ لکھ پت جیل پہنچا دیا گیا (گردشِ دوراں دیکھیے کہ اُس وقت کا حکمران اِس وقت اُسی جیل میں ہے)۔ ابھی ہم اپنے الاٹ شدہ کمرے میں نہیں پہنچے تھے کہ جیل کے اند ایک معروف فلمی اداکارہ کا درشن ہوا تھا جس کا نام اب یاد نہیں اور اسی طرح دیارِ غیر کی اس جیل میں موچھ کا ایک نوجوان بھی نظر آگیا جس سے دل کو یہ اطمینان ہوا کہ:

ع

 

جہاں بھی گئے داستاں چھوڑ آئے

 

اور

 

ع

 

رہ یار ہم نے قدم قدم تجھے یادگار بنا دیا

 

اُس نوجوان کو دیکھتے ہی دیارِ غیر کی جیل میں اجنبیت، یاسیت اور ستم زدگی جیسے منفی احساسات بھی کافور ہو گئے۔

ہمیں جہاں رکھا گیا تھا وہاں تین ایک جیسے کمرے ساتھ ساتھ تھے۔ ہمارے ساتھ والے کمرے میں حافظ سلمان بٹ صاحب کی امامت میں ہمارے احباب قید تھے۔جیل میں ابھی ایک آ دھ دن ہی گزرا ہوگا کہ معلوم ہوا کہ ہمارے ساتھ والے کمرے میں جہاں حافظ سلمان بٹ صاحب موجود تھے وہاں سابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب میاں منظور احمد وٹو صاحب بھی بد عنوانی کے الزام میں تشریف لا چکے ہیں۔ اس خبر پر تو ہمارا سینہ اور چوڑا ہو گیا کہ ہم تو بہت معزز ملزمان ہیں جن پر اس طرح بد عنوانی کا کوئی الزام نہیں۔

ایک ہفتہ بھرپور قید گزاری کہ جس میں گوشت کے ایسے سالن نصیب ہوئے کہ سالن سے بھری پلیٹ کے پیندے پر نقش پھولوں کی تصویریں بھی صاف نظر آتی تھی۔ وہیں دل کے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ آئندہ کبھی بھی گھر کے کھانے کو برا کھانا نہیں کہوں گا کیونکہ اس سے قبل گھر میں یہ ہوتا کہ اگر ذرا برابر بھی سالن کا معیار کم ہوتاتو میں کہتا کہ یہ سالن کوئی کھانے کے قابل ہے۔ میں نہیں کھاتا۔ مجھے کوئی اور چیز بنا دیں۔

جیل پہنچتے ہی پروفیسر خاور بٹ صاحب نے ہمیں ترجمۂ قرآن مجید سکھانا شروع کردیا۔جیل میں ہمیں ہمارے سینیئرز نے اتنا مصروف رکھا کہ ہمیں احساس ہی نہ ہوا کہ ایک ہفتہ گزر گیا ہے۔ اس ایک ہفتے میں ایک جمعہ بھی آیا۔ جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل منور حسن صاحب نے جیل کی ایک کھلی جگہ پر جمعہ پڑھایا۔ وہاں صحافی بھی موجود تھے۔ اگلے دن کے اخبارات میں فرنٹ پیج پر ہمارے جمعہ پڑھنے کی خبر اور تصاویر تھیں۔حکومت کو گویا آگ لگ گئی کہ عجیب جیل ہے جہاں یہ جلسے کررہے ہیں. حکومت نے اُسی روزیہ فیصلہ کیا کہ آج رات اِن تمام قیدیوں کو پنجاب بھر کی جیلوں میں منتشر کردیا جائے تاکہ اِن کی ہوا اُکھڑ جائے۔ اُس رات (ہفتے اور اتوار کی درمیانی رات) دو بجے کے قریب ہمیں کوٹ لکھ پت جیل لاہور سے پنجاب بھر کی مختلف جیلوں کے لیے روانہ کردیا گیا۔

یہ میرا لاہور کا دوسرا سفر تھا لہٰذا کسی روڈ یا کسی بھی جگہ سے کوئی شناسائی نہ تھی۔ ساتھی قیدیوں سے پتا چلتا رہا کہ ہم موٹر وے کے ساتھ ساتھ لاہور سرگودھا روڈ پر سفر کر رہے ہیں۔ 20قیدیوں کی بس میں ہم 50قیدیوں کو” لاد“ دیا گیا۔روڈ خراب تھا۔ گاڑیوں کی سپیڈ کم تھی۔ ہم صبح سرگودھا جیل پہنچے۔ وہاں کچھ دیر رکے۔ ایک آدھ بس وہیں رک گئی جبکہ بقیہ بسوں کا قافلہ پھر چل پڑا جس میں ہماری بس بھی شامل تھی۔ پھر ساتھی قیدیوں سے معلوم ہوا کہ اب ہم خوشاب کی طرف جا رہے ہیں۔ معلوم ہوا کہ ہم شاہ پور جیل پہنچ گئے ہیں۔ پھر ایک آدھ بس وہیں رک گئی اور ہم ایک بار پھر کسی اگلی منزل کی طرف چل پڑے۔ملکی جغرافیے سے دل چسپی رکھنے والے ساتھی قیدیوں نے کہا کہ اب ہمارا رخ میانوالی کی طرف ہے۔ مجھے تو کچھ پتا نہیں چل رہا تھا کہ کیا یہ واقعی میانوالی کا راستہ ہے۔

خاموشی سے سفر کیا اور جب کسی نے شادیہ اور پھر واں بھچراں کا بورڈ پڑھا تو دل کو یہ تسلی ہوئی کہ ہم اب واقعی میانوالی جا رہے۔ سرگودھا موڑ، وتہ خیل چوک، جہاز چوک اور پھر سنٹرل جیل میانوالی۔ میری جان میں جان آئی مگر اب بھی یہ ڈر تھا کہ کہیں میانوالی میں ایک آدھ بس کے قیدیوںکو چھوڑ کر ہمیں بھکر ہی نہ لے چلیں۔جیل کے بیرونی احاطے میں ہمیں گاڑیوں سے اتارا گیااور قانونی کارروائیوں کے بعد جیل کے احاطے”پرانا ہسپتال میں “ بھیج دیا گیا۔دیارِ غیر کی کوٹ لکھ پت جیل کے بعد میانوالی جیل آجاناایسے تھا جیسے اب میں جیل نہیں بلکہ اپنے گھر آگیا ہوں۔وہاں دیارِ غیر کی جیل میں چند لمحوں میں ہمیں ”موچھ شریف“ کے بھائی مل گئے تھے بھلا اب اِدھر میانوالی جیل میں کیسے ممکن تھا کہ موچھ والے نہ ہوں۔ چکر سے ہوتے ہوئے ابھی میں احاطے میں پہنچا ہی ہوں گا کہ مجھے اپنے خالہ زاد بھائی سمیع اللہ خان نواز خیل کا پیغام موصول ہوا کہ آپ نے شام کو جیل کا کھانا نہیں کھانا بلکہ آپ کا کھانا میں بھیجوں گا۔ اسی لیے تو میانوالی جیل ہمیں جیل نہیں بلکہ اپنا گھر لگنے لگی تھی۔

سمیع اللہ خان نواز خیل

میانوالی جیل میں تقریباً ایک ماہ کے قیام کے بعد عید الاضحیٰ سے ایک دو دن قبل ہمیں شخصی ضمانتوں پر رہا کیا گیا تھا۔ اس کے بعد دوسری بار ٹھیک گیارہ سال بعدفروری 2010ءمیں مجھے ایک بار پھر میانوالی جیل جانا پڑا ۔ اب کی بار چونکہ میں کوٹ لکھ پت جیل لاہور کے بجائے اپنی رہائش گاہ ڈیرہ نجیب اللہ سے میانوالی جیل گیا تھا اس لیے مجھے اب جیل گھر کے بجائے واقعی جیل ہی لگتی تھی۔ان دونوں جیل یاتراؤں کی جیل کے اندر کی سرگرمیوں اور محسوسات کی کہانی ان شاءاللہ کسی اور موقع پر تفصیلاً بیان ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں