0

دوسری جیل یاترا… سلسلہء خود نوِشت؛ میں تو جیسے پتھر تھا!

Mujeeb Niazi

دسمبر 2009ء میں ہماری والدہ صاحبہ شدید بیمار تھیں اور اُن دنوں اُن کا زیادہ تر وقت ڈی ایچ کیو ہسپتال اور عبید نور ہسپتال میانوالی میں گزر رہا تھا۔ 23 دسمبر 2009 ء کو بھی وہ ڈی ایچ کیو ہسپتال میانوالی میں داخل تھیں۔ میرے دونوں بھائی سا را دن اُن کے ساتھ رہے۔ عصر کے وقت میں بھی ہسپتال پہنچ گیا۔ امی کی عیادت کے لیے موچھ سے ہمارے ایک کزن بلال خان بھی ہسپتال آئے ہوئے تھے۔ جب ہسپتال میں رات کے قیام کی بات آئی تو مجھے بھائی نے کہا کہ آپ گھر چلے جائیں میں امی جان کے پاس ٹھہروں گا۔ میں گھر واپس آنے لگا تو رات ہو چکی تھی۔ واپسی پر موچھ سے آئے ہوئے کزن کو بھی ساتھ لیتا آیا۔ خواجہ آباد اڈا پر پہنچے تو میں نے کزن کو کہا کہ اب رات ہو چکی ہے۔ آپ اِدھر میرے گھر (ڈیرہ نجیب اللہ) پر ہی رک جائیں۔ صبح ناشتے کے بعد آپ کو موچھ چھوڑ دیا جائے گا۔ وہ مجھے کہنے لگا کہ آپ مجھے یہیں پر چھوڑ دیں میں خود ہی موچھ چلا جاؤں گا۔ مجھے بہت غصہ آیا کہ دسمبر کی رات میں اُس شخص کو یہاں کیسے چھوڑ دوں جو میری والدہ کی عیادت کے لیے میانوالی آیا تھا۔ میں اُسے گھر چھوڑنے موچھ چل دیا۔ مجھے سخت بھوک‘ اور بھوک سے بھی زیادہ پیاس لگی ہوئی تھی۔

ہم موچھ پہنچ گئے۔ میں نے اُسے دروازے پر چھوڑا اور واپس مڑنے لگا تو اس نے کہا کہ آپ میری امی کو اپنی والدہ کی طبیعت کے بارے خود بتا دیں تاکہ انھیں تسلی ہو جائے۔ واضح رہے کہ میری والدہ اُس کی امی کی پھوپھو زاد بہن کی بیٹی تھیں۔ اگرچہ سردیوں کی رات تھی‘ مجھے بہت تاخیر بھی ہو رہی تھی‘ میں کافی تھک بھی چکا تھا‘ مجھے سخت بھوک اور پیاس بھی تھی لیکن مزاج میں مروّت کی بنا پر بائیک سے اترا اور اُس کی امی کو محض یہ بتانے کے لیے کہ میری امی اب کافی بہتر ہیں‘ میں اُن کے گھر داخل ہو گیا۔ جیسے ہی ہم دونوں گھر میں داخل ہوئے تو ان کی والدہ گھر میں موجود سیڑھیوں سے نیچے اتر رہی تھیں۔سردیوں کی رات کے اُس وقت سیڑھیوں سے اترنا یقیناً عجیب تھا۔ میں نے وجہ پوچھی تو کہنے لگیں کہ بیٹا مولوی عظمت اللہ گرفتار ہو گئے ہیں اور اس وقت تھانے میں ہیں۔ شور شرابہ مچا ہوا۔ اعلانات بھی ہوئے ہیں۔ چھت سے وہی حالات دیکھ رہی تھی۔ اُن کی چھت اور تھانے کا فضائی فاصلہ اتنا زیادہ نہ تھا۔ میں نے اُن کی صرف ایک بات پر توجہ دی کہ مولوی عظمت اللہ خان گرفتار ہو گئے ہیں۔

مولوی عظمت اللہ خان موچھ کا ایک ایسا کردار ہے جو لوگوں کے لیے بہت بھاگ دوڑ کرتا ہے۔ ہمارے ساتھ اس کا بہت اچھا رابطہ ہے اس لیے ایک بار پھر میرے مزاج کی مروّت جاگی اور اُس نے مجھے مولوی عظمت اللہ سے ملنے کے لیے تھانے جانے پر مجبور کر دیا۔ میرا استدلال یہ تھا کہ اگر خدانخواستہ میں تھانے میں بند ہوتا اور مولوی عظمت اللہ کو پتا چلتا تو وہ لازماً مجھے تھانے میں ملنے آتے۔ اب اگر اُنھیں نہیں بھی معلوم کہ مجھے علم ہے کہ وہ تھانے میں ہیں‘ مگر مجھے تو پتا چل گیا ہے لہٰذا میں اُنھیں تھانے ملنے جاؤں۔ اپنی بھوک، پیاس اور تھکاوٹ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے میں تھانے کی طرف چل نکلا۔ تھانے گیا تو وہاں ملنے ملانے کا ماحول ہی نہ تھا۔ وہاں تو ہنگامہ برپا تھا۔ تھانے کے سامنے عوام کا ہجوم تھا۔ لوگ تھانے کے باہر سراپا احتجاج تھے اور تھانے کا مرکزی دروازہ بند تھا۔ اس ماحول میں بھلا مجھے کون مولوی عظمت اللہ سے ملنے دیتا۔ میں ہنگاموں سے بہت تنگ ہوتا ہوں اس لیے گھر واپس آنے لگا۔ اتفاقاً میری نظر عبدالوہاب نیازی پر پڑی۔ وہ اُن دنوں جماعت اسلامی کے نائب ضلعی امیر تھے۔ ایک بار پھر مروّت۔۔۔ اس دلیل کے ساتھ کہ مجھے وہ جگہ نہیں چھوڑنی چاہیئے جہاں ضلع کے نائب امیر موجود ہیں۔ میں رک گیا۔ جیسے ہی کچھ لوگوں کی مجھ پر نظرپڑی تو کہنے لگے: لو جی! مجیب اللہ خان بھی آگیا ہے۔ مذاکراتی ٹیم میں اس کا نام بھی لکھ لیں۔

مسئلہ یہ تھا کہ پولیس نے مولوی عظمت اللہ خان اور اُن کے کچھ ساتھیوں کو دھوکے سے حوالات میں بند کر دیا تھا۔ اگرچہ اُن دنوں مولوی صاحب کے خلاف تو میانوالی کے کسی اور تھانے میں ایف آئی آر تھی تاہم دیگر لوگوں کو بالکل غیر قانونی طور پر اور دھوکے سے گرفتار کیا گیا تھا۔ مولوی عظمت اللہ خان کے بڑے بھائی ایڈووکیٹ لطیف اللہ خان آزاد نے تھانے سے ملحقہ مسجد میں اعلان کر دیا کہ لوگو اکٹھے ہو جاؤ اور تھانے کا گھیراؤ کر لو۔ جب لوگوں نے تھانے کا گھیراؤ کیا تو ایس ایچ او تھانہ پائی خیل‘ شفیع اللہ خان کی قیادت میں تھانہ پائی خیل اور پولیس لائینز سے بھاری نفری بھی تھانہ موچھ پہنچ گئی۔ ممکن ہے کسی اور تھانے سے بھی نفری آئی ہو لیکن مجھے تھانہ پائی خیل کا اس لیے پتا ہے کہ اُس کے ایس ایچ او کو میں ذاتی طور پر جانتا تھا کیونکہ دو تین ماہ قبل اُن کے اور ہمارے درمیان ایک ناخوشگوار واقعہ پیش آ چکا تھا (اس کی تفصیل بعد میں کسی موقع پر)۔ اُن کے علاوہ علاقہ ڈی ایس پی علاقہ مدثر بھٹی صاحب اور ایس پی انویسٹی گیشن سلمان خان بھی تھانہ موچھ پہنچ چکے تھے۔

جب مذاکراتی ٹیم تھانے کے اندرگئی تو اُسے سلمان خان کی ٹیبل پر کرسیاں فراہم کردی گئیں۔ میری کرسی سلمان خان کے دائیں جانب ان کے بالکل ساتھ جنوب میں تھی۔ اُن کے سامنے کسی ملازم نے پانی سے بھرا شیشے کا گلاس رکھا۔ مذاکراتی ٹیم کے کسی ممبر یا شاید کسی اور فرد نے سلمان خان کے ساتھ میجرجنرل ریٹائرڈ رفیع اللہ خان نیازی کی فون پر بات بھی کرا دی۔ فون کال کے اختتام پر ایس پی صاحب نے مجھ سے پوچھا کہ کیا یہ حاضر سروس جنرل ہیں تو میں نے جواب دیا کہ نہیں ریٹائرڈ ہیں۔ مجھے چونکہ شدید پیاس لگی ہوئی تھی اور سلمان خان کافی دیر گزر جانے کے باوجود پانی نہیں پی رہے تھے‘ اس لیے میں نے سوچا کہ پولیس اب ہمیں کھانا کھلانے سے تو رہی‘ کیوں نہ لگے ہاتھوں اِن سے پانی ہی مانگ لیا جائے! میں نے سلمان خان سے کہا کہ جناب اگر آپ نے پانی نہیں پینا تو مجھے اجازت دیں کہ میں یہ پانی پی لوں کیونکہ مجھے سخت پیاس لگی ہے۔ انھوں نے کھلے دل سے مجھے پانی پینے کی اجازت دی اور اِس طرح میں نے گھنٹے ڈیڑھ سے لاحق اپنی شدید پیاس بجھائی اور پولیس والوں کی مہمان نوازی کا قائل ہوا۔ویسے عموماً پولیس اپنے مہمانوں کی تواضع کسی اور انداز سے ہی کرتی ہے۔

مذاکراتی ٹیم کے سلمان خان کے ساتھ مذاکرات کے دوران تھانہ موچھ کے ایس ایچ او چودھری سلطان صاحب نے واقعہ کی تفصیل بتائی۔ اُس تفصیل میں اُنھوں نے اقرار کیا کہ جو لوگ اس وقت حبسِ بے جا میں ہیں اُن کا بد تمیزی کے اُس واقعہ سے کوئی تعلق نہیں جو گھنٹہ دو گھنٹہ پہلے تھانے میں ایس ایچ او صاحب کے ساتھ پیش آیا تھا اور جس کی بنا پر اُن لوگوں کو دھوکے سے گرفتار کیا گیا ہے۔ حقیقت جبکہ یہ تھی کہ جس فرد نے ایس ایچ او صاحب کے ساتھ بد تمیزی کی تھی اُسے کسی مؤثر بندے کی سفارش پر چھوڑ دیا گیا تھا۔

خادمِ موچھ، مولوی عظمت اللہ خان

ایس پی صاحب کا کہنا تھا کہ مجھے جنرل صاحب کا بھی فون آیا ہے اس لیے میں حبس بے جا میں رکھے گئے بندے چھوڑ دیتا ہوں۔ آپ پہلے تھانے سے باہر موجود لوگوں کو منتشر کریں۔ اس پر عبدالوہاب خان نیازی نے کہا کہ باہر جو لوگ اکٹھے ہوئے ہیں وہ جنرل صاحب یا ہمارے کہنے پر تو اکٹھے نہیں ہوئے کہ ہم انھیں کہیں کہ جنرل صاحب کا چونکہ فون آیا ہے اس لیے آپ منتشر ہو جائیں۔ اور نہ ہی ہمارے یہ کہہ دینے سے وہ منتشر ہوں گے۔ آپ پہلے حبسِ بے جا والوں کو رہا کریں پھر ہم بھی انھیں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں گے اور پھر ہمیں اُن سے بات کرنے کی جرأت بھی ہوگی۔ ایس پی صاحب نے شاید کہیں سے لفظ ”اخلاقی جرأت“ پڑھ یا سن رکھا تھا۔ اگرچہ اُس لفظ کے بر محل استعمال سے موصوف مکمل طور پر ناواقف تھے۔ موصوف عبدالوہاب نیازی سے مخاطب ہو کر فرمانے لگے کہ بندے کے اندر اخلاقی جرأت ہونی چاہیئے۔ بالآخرمجھ سے رہا نہ گیا۔ میں نے ایس پی صاحب سے کہا: سلمان خان جس اخلاقی جرأت کا آپ عبدالوہاب خان سے تقاضا کر رہے ہیں اگر اُس اخلاقی جرأت کا دسواں حصہ بھی آپ خود دکھا دیں تو اُن لوگوں کو فی الفور بغیر، کسی لے دے کے اور بغیر مذاکرات کے رہا کر دیں کیونکہ بقول آپ کے ایس ایچ او؛جس بندے کا قصور تھا وہ کسی مؤثر فرد کی سفارش پر رہا ہوچکا ہے جبکہ حبسِ بے جا میں رکھے گئے بندے بالکل بے قصور ہیں۔

کسی پولیس افسر کو یہ الفاظ کیسے ہضم ہو سکتے تھے۔ اور پھر ایسے پولیس افسر کو جس کے دماغ میں عام پولیس افسروں کی نسبت کئی گنا زیادہ رعونت بھری ہو۔ ایسا پولیس افسر جس نے مذاکرات کے دوران ایک دوبار یہ بھی کہا ہو کہ میں دیکھتا ہوں کون اتنا شیر دل ہے جو تھانے کا گھیراؤ کرے۔ ابھی میں تھانے کا دروازہ کھلوا دیتا ہوں اور پھر میں دیکھتا ہوں کوئی مائی کا لال تھانے کے اندر قدم تو رکھے۔ اسی طرح مرکزی حکومت کی حامل جماعت کے ٹکٹ پر پونے دو سال قبل ایم این اے اور ایم پی اے کا الیکشن لڑنے والے اور 19ہزار ووٹ لینے والے ایک فرد کے بات کرنے پر اس قدر سیخ پا ہوجائے کہ اسے کہے: Who are you to talk me? This is none of your business. اور اُس کی اس بات پر عبد الوہاب خان کو کہنا پڑے کہ سلمان خان آپ کا یہ طرزِ تخاطب مناسب نہیں۔ آپ ایک سیاسی جماعت کے ممتاز کارکن اور عوامی نمائندے سے اس طرح بات نہ کریں۔یہ کوئی عام فرد نہیں بلکہ ایک ذمہ دار شہری ہیں اور انھوں نے گزشتہ انتخابات میں 19ہزار ووٹ لیے ہیں۔

المختصر میرے اُس جواب کے بعد وہاں موجود پولیس افسران میں سے کسی کے پاس بھی کوئی مدلل جواب نہ تھا۔ اُس وقت انھوں نے حبسِ بے جا میں رکھے گئے بندے تو رہا کر ہی دیئے لیکن اگلی صبح جب کہ میں گھر سے باہر تھا‘ مجھے بڑے بھائی کی کال آئی کہ بابا (ہمارے والد صاحب) کو موچھ سے کسی کا فون آیا ہے کہ رات والے واقعے پر تھانہ موچھ میں 6 دفعات پر مبنی ایف آئی آر چاک کر دی گئی ہے جس میں دو سو کے لگ بھگ افراد نامعلوم ہیں اور کچھ افراد نامزد ہیں۔ تم بھی اُس ایف آئی آر میں ایک نامزد ملزم ہو۔ اور اُن 6 دفعات میں سے اکثر ناقابلِ ضمانت ہیں۔

میں نے بھائی کو حوصلہ دیا اور کہا کہ آپ فکر نہ کریں۔ اس ملک میں صرف پولیس ہی تو نہیں‘ عدالتیں بھی تو ہیں۔ ان شاء اللہ ہم محفوظ رہیں گے اور سرخرو ہوں گے۔ اُس وقت عدالتوں پر ہمارا بے پناہ اعتماد تھا اورہمیں اُن سے بے حد محبت تھی کیونکہ ہم سیاسی کارکنان، وکلا اور پاکستان کے عوام عدلیہ بحالی کی ایک کامیاب تحریک چلا چکے تھے۔ ہمیں نہیں تھا معلوم کہ کم و بیش دس سال بعد(زمانہئ تحریر اگست 2019) پھر عدالتیں جانب دار ہو جائیں گی اور اپنی قائم کردہ ڈِگر کو چھوڑ کر کسی کے اشاروں پر چلنے لگیں گی۔

ایف آئی آرکے چند ہی دن بعد تھانہ موچھ اور تھانہ پائی خیل کے ایس ایچ اوز کا باہمی تبادلہ ہو گیا تھا۔اب ہمارے تھانے کے ایس ایچ او شفیع اللہ خان تھے جن سے مذکورہ بالا ایف آئی آر سے تین ماہ قبل تھانہ پائی خیل میں ہماری  ایک نا خوشگوار ملاقات ہو چکی تھی۔

مذکورہ ایف آئی آر میں ہم نے قبل از گرفتاری ضمانت اور تفتیش کا راستہ اختیار نہ کیا جس کا نقصان یہ ہوا کہ ایف آئی آر سے کم و بیش ڈیڑھ ماہ بعد دندی مواز والا روڈ پر پولیس کی دو تین گاڑیوں اور ہمارا آمنا سامنا ہو گیا۔فروری کا پہلا عشرہ تھا۔ ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی۔ میں نے پولیس کی گاڑیاں دیکھیں تو ایک لمحے کے لیے میری سانسیں اٹک گئیں (ایف آئی آر کے دنوں اگر آپ کو پولیس کی گاڑی نظر آئے تو آپ کی کیا کیفیات ہو جاتی ہیں اس پر کبھی تفصیل سے روشنی ڈالوں گا کیونکہ مجھے اِس کا دو تین بار تجربہ ہو چکا ہے)۔اُسی بوکھلاہٹ میں مجھ سے بے اختیار ایک لمحے کے لیے بائیک کی ہیڈ لائیٹ آن ہو گئی جیسے میں جلدی میں ہوں اور پولیس کی گاڑیوں سے راستہ مانگ رہا ہوں۔ شومئی قسمت کہ گاڑیوں کے اُس قافلے میں شامل پہلی گاڑی کو ایس ایچ او موچھ شفیع اللہ خان خود ڈرائیو کر رہے تھے۔ پہلے تو اُن کی توجہ میری طرف ہوتی یا نہیں‘ بہر حال لائیٹ آن کر کے اُن سے ”راستہ کلیئر مانگنے“ پر یقیناً اُن کی توجہ میری طرف مبذول ہوئی اور نا صرف اُنھوں نے مجھے پہچان لیا بلکہ اُنھیں یہ بھی یاد رہا کہ ڈیڑھ ماہ قبل تھانہ موچھ میں ہونے والے وقوعے کا میں نامزد ملزم ہوں۔ اُنھوں نے پولیس کی کمال روایتی محبت کا مظاہرہ کیا اور اپنی گاڑی سے میرا راستہ ’صاف‘ کرتے ہوئے گاڑی میری طرف کر دی۔ حتیٰ کہ میرے گزرنے کا راستہ انھوں نے مکمل ’صاف‘ کر دیا۔ میں رک گیا۔ شفیع اللہ خان خود ڈرائیونگ سیٹ سے اُتر آئے۔ اُن کی گاڑی چونکہ رک چکی تھی اس لیے فوراً پولیس کے مستعد کمانڈوز بھی گاڑی کے پچھلے کیبن سے نیچے اُترے۔ شفیع اللہ خان نے انھیں آرڈر دیا کہ اِسے گرفتار کر لو۔ یہ ہمارا پی او ہے۔ میں نے شفیع اللہ خان کو شاباش دی کہ واقعی آپ نے ایک کمانڈو ایکشن کے ذریعے ایک انتہائی”خطرناک“ مجرم کو پکڑ لیا ہے جس کے لیے آپ بے پناہ داد و تحسین کے مستحق ہیں۔ مجھے ایس ایچ او سے مخاطب ہوتا دیکھ کر گاڑی کے پچھلے کیبن میں بیٹھے ایک اور’ملزم‘ مولانا ظفراللہ خان‘ خطیب و امام جامع مسجد تھانہ موچھ‘نے بھی ایس ایچ او کو مخاطب کیا اور اپنی اور میری گرفتاری کو بے جا اور انتقامی کارروائی قرار دیتے ہوئے آواز بلند کی۔ میں نے مولانا ظفراللہ خان کو کہا کہ مولانا صاحب اِس مقدمے میں کون سا ہم سزائے موت ہو جائیں گے کہ دہائی دیں اور اِن کی منتیں کریں اور کہیں کہ آپ غلط کر رہے ہیں۔ یہ کہہ کر میں گاڑی میں بیٹھ گیا۔ پولیس کی گاڑی میں موجود ایک انسان دوست پولیس اہلکار نے مجھے اپنی گرفتاری کی گھر میں اطلاع دینے کے لیے اپنا موبائل فون پیش کیا۔ مجھے تھانہ موچھ لے جانے کے

 

پولیس اہلکار نے مجھے اپنی گرفتاری کی گھر میں اطلاع دینے کے لیے اپنا موبائل فون پیش کیا۔ مجھے تھانہ موچھ لے جانے کے بجائے تھانہ صدر میانوالی لایا گیا۔ وہاں دو تین دن کی حوالات کے بعد مجھے زندگی میں دوسری بار سنٹرل جیل میانوالی جانے کا اتفاق ہوا۔

ایک بار پھر اعادہ کردوں کہ حسبِ وعدہ تھانے اور جیل کی دونوں یاتراؤں کے دوران اپنے احساسات و معمولات کی تفصیل ان شاء اللہ کسی اور موقع پر بیان کروں گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں