
جب میں جامع سکول میں پڑھتا تھا تو وہاں ایک لڑکا انتخاب عالم ہمارا ہم جماعت تھا۔ وہ میانولی کی معروف تعلیمی شخصیت جناب پروفیسر غلام سرور خان شہباز خیل کا بھتیجا تھا۔ وہ نہم جماعت میں فیل ہونے کی وجہ ہمارا ہم جماعت بنا تھا۔ انتہائی سادہ انسان تھا۔ آپ اسے ایک ملنگ بھی کہہ سکتے ہیں۔
کلاسیکل اردو شاعری میں بھی آپ کو نو عمر لڑکوں سے پیار محبت اور عشق کے قصے مل ہی جاتے ہیں۔ اسی طرح مادھو لال حسین کا معاملہ بھی برِصغیر کی ہی تاریخ کا حصہ ہے۔ میانوالی نے تو اس تاریخ کو پھر اپنے ہی انداز میں امر کیا ہے۔ انتخاب کا بھی جامع میں کچھ اسی طرح کا ہی ایک معاملہ تھا۔
سکول دور بھی عجیب دور ہوتا ہے۔ اس دور میں سوائے پڑھائی کے باقی ہر کام آپ شوق سے کرتے ہیں۔ میرا شمار کلاس بلکہ تینوں سیکشنز میں سے پہلے پانچ دس اچھے طلبا میں تھا۔ میں قدرتی طور پر محنت کے بغیر بھی پڑھائی میں کافی بہتر تھا اس لیے اساتذہ اور کلاس فیلوز میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ میں اگرچہ کبھی بھی کلاس کا مانیٹر نہیں رہا تاہم جو بھی کلاس مانیٹر ہوتا وہ مجھے قدر کی نگاہ سے دیکھتا اور مجھے اپنے مانیٹرز سے اکثر فیور ملتی رہتی تھی۔ صرف ایک بار مجھے جاوید اقبال انیق (وکیل، سوشل سیکٹر سے وابستہ، اور ریڈیو پاکستان میں بھی کبھی کبھار پروگرام کرتے رہتے ہیں) نے کسی شرارت کی بنا پر فاروق شاہ صاحب سے پھینٹا لگوایا تھا اس کے علاوہ مجھے کبھی کسی مانیٹر کی شکایت پر سزا نہیں ملی تھی۔ اس رعایت کی وجہ سے میرے اندر یہ بیماری پیدا ہو گئی تھی کہ ہر پیریڈ کے اختتام پر میں پانی پینے ضرور کلاس سے باہر جاتا تھا۔
ایک دن واٹر پوائنٹ پر گیا تو انتخاب کا انتخاب بھی موجود تھا۔ میں نے از راہِ تفنن کہہ دیا کہ واہ! آج تو انتخاب کا انتخاب بھی موجود ہے۔ دو تین دن گزرے ہوں گے کہ ایک دن ہمارے سکول کا درجہ چہارم کا ملازم عزیز ہماری کلاس میں آیا اور اس نے ٹیچر کو پیغام دیا کہ مجیب کو رضی صاحب بلا رہے ہیں۔ رضی صاحب اتنے با رعب تھے کہ اگر کسی ٹیچر کو بلاتے تو وہ بھی پریشان ہو جاتے جبکہ یہاں تو ایک طالب علم کو بلایا جا رہا تھا۔ میں تیز دھڑکنوں اور بوجھل قدموں سے پرنسپل آفس جا رہا تھا۔ آفس میں پہنچا تو وہ لڑکا جسے میں نے انتخاب کا انتخاب کہا تھا اور اس کے والد صاحب آئے ہوئے تھے۔ مجھے دیکھتے ہی لڑکے کے والد صاحب نے بیٹے سے تصدیق کے لیے اس سے پوچھا کہ یہی ہے۔ اس نے کہا کہ جی یہی ہے۔ اس لڑکے کے والد صاحب نے رضی صاحب سے کہا کہ یہ ہے وہ بدمعاش جو روزانہ ہمارے بیٹے کو تنگ کرتا ہے۔ رضی صاحب نے سوالیہ نظروں سے میری طرف دیکھا۔ مجھے چونکہ اب سارے معاملے کی سمجھ آچکی تھی۔ میں نے رضی صاحب سے کہا کہ سر ایک دو دن پہلے میں نے واٹر پوائنٹ پر اس لڑکے کے بارے میں یہ الفاظ ضرور استعمال کیے کہ آج تو انتخاب کا انتخاب بھی آیا ہوا ہے۔ اُن الفاظ کے علاوہ اگر کسی موقع پر میں نے اسے اشاروں کنایوں سے یا کھلم کھلا کسی بھی طرح سے تنگ کیا ہے تو آپ جو مرضی مجھے سزا دے دیں۔ ان بزرگوں کا یہ کہنا کہ میں روزانہ اسے تنگ کرتا ہوں؛ ایک سفید جھوٹ ہے۔ انتخاب کا انتخاب تو اسے سکول کا بچہ بچہ بھی کہے تو کم ہے کیونکہ یہ معاملہ سکول کے کسی بھی طالب علم سے مخفی نہیں ہے۔ رضی حاحب نے میری بات سن کر مجھے کہا کہ ٹھیک ہے اب آپ کلاس میں جائیں۔ میں پیشی پر جاتے وقت جس قدر گھبرایا ہوا تھا واپسی پر اتنا ہی پراعتماد تھا اور سینہ تان کر فاتحانہ انداز میں کلاس روم کی طرف واپس جا رہا تھا۔
اگلے ہی دن میری فتح اس وقت گہنا گئی جب دورانِ کلاس رضی صاحب خود ہماری کلاس میں جھانکے اور مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ پیریڈ کے بعد آپ نے مجھے دفتر میں ملنا ہے۔ یہ بات میرے لیے بہت پریشان کن تھی۔ اس دن کی پیشی کا کہیں آج تو فیصلہ نہیں ہے؟ میں تو سمجھا تھا کہ بات اُسی دن ختم ہو گئی تھی۔ یہ کیا ہو رہا؟ اب کیا ہوگا؟ کہیں مجھے سکول سے نکال تو نہیں دیا جائے گا؟ اگر نکال دیا جائے گا تو کس منہہ سے گھر جاؤں گا؟ والد صاحب اور بھائیوں کو کیا کہوں گا؟ اگر سزا ہوتی ہے تو۔۔۔ میں تو سزا بھگتنے میں بھی بہت کمزور واقع ہوا ہوں؟ یا اللہ! اب کیا ہوگا؟ جب تک میں کلاس میں رہا یہ سبھی سوالات اور خدشات مجھے ہلکان کیے جا رہے تھے۔ میں بیٹھا تو کلاس روم میں تھا لیکن میری سوچیں کہیں اور پہنچی ہوئی تھی۔اللہ اللہ کر کے پیریڈ ختم ہوا اور میں اپنے قدموں پر اپنے وجود کا بوجھ اٹھائے پرنسپل آفس کی طرف رواں دواں تھا۔ اس دن میرے قدم شکوہ کر رہے تھے کہ تمہارا بوجھ زیادہ ہے۔ ہم سے نہیں اٹھایا جاتا۔ مجھے یہ بھی احساس ہورہا تھا کہ ابھی ایک آدھ دن پہلے میں کتنا مغرور ہو کر اس دفتر سے واپس آرہا تھا اور اب کیا حالت ہوئی جا رہی تھی۔ ایسے موقعوں پر بندہ بہت جلد تائب ہوتا ہے سو ہم بھی ہوئے۔
رضی صاحب سے سامنا ہوا تو انھوں نے انتہائی اطمینان سے کہا کہ بیٹا کیا تمہیں اندازہ ہے کہ اُس دن اپنے والد کی عمر کے ایک شخص سے بات کرتے ہوئے تمہارا لہجہ کیسا تھا۔میں نے چشم تصور سے غور کیا تو مجھے یاد آ گیا کہ میری آواز بلند اور لہجہ تلخ تھا۔ میں نے تاویل پیش کی کہ سر وہ الزام بھی تو جھوٹا لگا رہے تھے کہ میں روزانہ ان کے بیٹے کو تنگ کرتا ہوں۔ اُنھوں نے فرمایا کہ میں جھوٹ اور سچ کی بات نہیں کر رہا۔ میں تمہارے لہجے کا تم سے پوچھ رہا۔ میں نے فوراً سوری کہا اور انھوں نے بغیر کوئی مزید بات کیے مجھے کلاس میں بھیج دیا۔
میں سوچتا ہوں کہ آج کتنے ایسے اساتذہ ہوں گے جو اپنے شاگردوں کے کردار پر اس قدر گہری نظر رکھتے ہوں گے اور ان کی تربیت کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ہوں گے۔ رضی صاحب سے میرا کوئی خونی رشتہ نہ تھا اور نہ ہی میرے خاندانی پسِ منظر سے وہ واقف تھے۔ اس کے باوجود میری تربیت کی اتنی فکر!!!
اللہ ایسے اساتذہ کو دین و دنیا کی بھلائیاں عطا فرمائے۔ آمین!