
اردو ادب سے محبت کرنے والے افراد جانتے ہیں کہ منیر نیازی ایسا شاعر ہے کہ جس کی زندگی میں ہمیشہ دیر ہو جاتی ہے اور ان کے ہمیشہ دیر کر دینے کواردو ادب میں حوالے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ہمارے ساتھ بھی زندگی بھر ہر معاملے میں یہی ہوتا رہا ہے اور آج بھی ایسا ہی ہے۔ باتیں تو بہت سی ہیں جنہیں بطورِ حوالہ پیش کیا جا سکتا لیکن صرف ایک کا اظہار کریں گے اور وہ ہے کسی بھی موضوع پر لکھنے میں ہمارا دیر کر دینا۔ ہزار موضوعات ہمارے دماغ کو سلگائے رکھتے ہیں لیکن اُن ظالم فرصت کی گھڑیوں کا کیا کیا جائے جو ہم سے مانندِ محبوب روٹھی رہتی ہیں۔ اِس کرب کو شاید وہ گنے چنے لوگ محسوس کر سکیں جنہیں فرصت کے یہ لمحے میسر نہیں ہوتے۔ ہم اپنی زندگی کے اس اذیت ناک پہلو کے معمول پر آجانے کے لیے کثرت سے دعا بھی کرتے ہیں لیکن بقول پروین شاکر مرحومہ و مغفورہ:
کس شخص کا دل میں نے دکھایا ہے کہ اب تک
وہ میری دعاؤں کا اثر کاٹ رہا ہے
تمہیدِ طویل کی معذرت۔ معاملہ دراصل یہ ہے کہ پچھلے دنوں کچھ چاہنے والوں نے انباکس کے ذریعے خود کشی کے موضوع پر لکھنے کی فرمائش کی کیونکہ موچھ کے چند نوجوان اس موضوع پر آگاہی مہم اور سیمینار کروانا چاہتے ہیں۔ بامروت طبع پانے کی بنا پر اُن سے وعدہ تو کر لیا لیکن وقت نہیں مل رہا کہ اِس موضوع پر پڑھے جانے کے قابل کچھ لکھا جائے۔ آج اگرچہ اِس موضوع پر کچھ لکھنے کے لیے تو ذہن مکمل طور خالی ہے تاہم اِس سے ملتے جلتے ایک المیے کی طرف چند اشارے کرنے کی کوشش کریں گے۔ وہ المیہ ٹریفک حادثات ہیں۔
جن لوگوں کی قتل کی دشمنیاں ہوتی ہیں اُنھیں اور اُن کے عزیز و اقارب کو ہر وقت یہ کھٹکا لگا رہتا ہے کہ اللہ آج کا دن خیر سے گزارے، اِدھر اُن کے پیارے گھر سے قدم باہر رکھتے ہیں اور اُدھر اُن کے چاہنے والے اُن کی خیریت سے واپسی کے لیے دعائیں شروع کر دیتے ہیں۔ اُس دشمنی میں دشمن ناصرف دیکھا بھالا اور جانا پہچانا ہوتا ہے بلکہ متعین اور محدود بھی ہوتا ہے جب کہ ٹریفک حادثات کا سبب تو پورا زمانہ ہے۔ گویا آپ کا دشمن کوئی ایک نہیں بلکہ سارا جہان آپ کا دشمن ہے اور آپ کے قتل کے درپے ہے۔
حشرات الارض کی طرح پھیلی بے ہنگم ٹریفک، شمع کے گرد ناچنے والے پتنگوں کی مانند موٹر سائیکل اور اوپر سے بحیثیتِ قوم ہماری ‘کمال’ کی کامن سینس۔۔۔ الامان، الحفیظ۔
ہمیں بہت زیادہ سفرکرنے پڑتے ہیں، ہم نے نوے فیصد سے زیادہ ڈرائیورز کو اذیت پسند مزاج کا حامل پایا ہے، اِدھر اُنھیں موقع ملا اور اُدھر اُنھوں نے کسی گھرانے کا چراغ گل کرنے کا پورا پورا بندوبست کر ڈالا۔ اگر بے نیاز اللہ نے اُس فرد کی زندگی بچانی ہوگی تو وہ صورتِ حال کو اُس بیچارے فرد کے حق میں ڈھال دے گا اور اُس شخص کو کسی کونے کھدرے میں خود کو، اپنی سائیکل کو، بائیک یا گاڑی کو پھینک دینے کی جگہ مل جائے گی ورنہ یار لوگ تو لازماً اُسے روند ڈالنے کے چکر میں ہوتے۔
کاش اس ملک میں اساتذہ اور ڈرائیورز کا تقرری سے قبل کوئی نفسیاتی ٹیسٹ ہوتا جس میں معلوم ہو جاتا کہ اسے ڈرائیونگ لائسینس دیا جائے یا نہیں ورنہ یہ لائسینس بعض لوگوں کے لیے تو شوقیہ قاتل بننے کا قانونی تحفظ ہے۔ بڑے سے بڑا نقصان کر دینے کے باوجود بھی ان کے ماتھے پر ندامت کی شکن تک نہیں آتی کیونکہ انھیں قانون نے تحفظ دیا اور دوسرے ہی دن ضمانت پر آئے اور کچھ تاریخوں کے بعد وہ (ملزم) با عزت بری۔ اس کے برعکس اِسی معاشرے میں اگر کوئی کسی کو قتل کرے تو اُس کی نسلیں بھی اِس دشمنی کا خمیازہ بھگتتی ہیں۔ تو پھر ڈرائیورز کیوں نہ اکڑ کر چلیں کہ:
لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں
یا پھر:
خنجر پہ کوئی داغ نہ دامن پہ کوئی چھینٹ تم قتل کرو ہو یا کرامات کرو ہو
جہاں ایک طرف اس اذیت پسندی جیسے سفاک رویے کی وجہ سے روزانہ درجنوں بلکہ سینکروں افراد لقمۂ اجل بن رہے تو وہاں دوسری طرف ہمارا غیر ذمہ دارانہ رویہ بھی آئے روز حادثات میں اضافے کا سبب بن رہا جس کی زیادہ تر ذمہ داری اساتذہ پرعائد ہوتی ہے۔ اساتذۂ کرام کیوں نہیں اپنے طلبا کو یہ احساس دلاتے کہ آپ کی اپنے والدین، خاندان، قوم اور ملک کے لیے کیا اہمیت ہے۔ یہ جس زندگی کے آپ مالک ہیں یہ محض آپ کی نہیں بلکہ اس ماں کی بھی ہے جس نے 9 ماہ آپ کو اپنے پیٹ میں رکھا، کئی سال اپنے سینے پر سلایا؛ اُس باپ کی بھی ہے جس نے تمھارے لباس اور رزق کی خاطر تپتی دھوپ اور یخ بستہ راتوں میں مزدوری کی، اس دھرتی کی بھی ہے جس نے اپنی چھاتی سے تمام نعمتیں تمھارے لیے اگل دیں۔ تو پھر کیوں تم تیز رفتاری کا ارتکاب کرتے ہو جس کی نذر تمھارے فلاں فلاں بھائی ہوئے۔ کیا اساتذہ کو اُن بھائیوں کے نام نہیں معلوم جو اس دارِ فانی سے محض غیر ذمہ دارانہ ڈرائیونگ سے کوچ کر گئے؟؟؟
افسوس آج کے اساتذہ کی اکثریت محض اپنے مضمون میں زیادہ سے زیادہ نمبر دلوانے کے چکر میں ہوتی، سکولوں اور کالجوں میں معاشرے میں مفید شہری بننے کے بجائے پیسہ کمانے والی مشینیں بنانے پر توجہ ہوتی۔ کیوں نہ ہو؟ خود سکول، سکول مالکان اوراساتذہ جو پیسہ کمانے والی مشین بن چکے۔ اگر اساتذہ کو اپنے منصب کا احساس ہو تو اس طرف بھی دھیان فرما لیں کہ طالب علم کو معاشرے اور والدین کے لیے مفید زندگی گزارنے کی تعلیم کون دے گا؟
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ آج سے ٹھیک دس سال قبل جب کہ میں ایک استاد تھا(بدقسمتی سے طویل عرصہ ہوا پڑھانے سے بہت دور ہوں اور محض۔۔۔) تو میں نے اپنے طلبا کے لیے پٹرولنگ پولیس کے ڈی ایس پی کو خصوصی تحریری درخواست کی تھی کہ میرے سکولوں میں آکرمیرے بچوں کو ٹریفک سینس اور ٹریفک ایجوکیشن پر لیکچر دیں، انھیں بتائیں کہ محفوظ سفر کرنے کے کیا اصول ہیں۔ میں جب دس سال گزرنے کے بعد آج کے اساتذہ کو دیکھتا ہوں کہ جن کے ہاتھ میں مجھ سے کئی گنا زیادہ بڑی تعداد میں طلبا کی باگ ڈور ہے، معلومات کے ذرائع پہلے کی نسبت فراواں اور سستے ہیں لیکن انھیں اس بات سے فرصت نہیں ملتی کہ کس طریقے سے نوجوانوں کو اپنی ذات کا زیادہ سے زیادہ گرویدہ بنائیں تو مجھے بے حد افسوس ہوتا۔ آج کی ٹریفک آج سے دس سال قبل کی ٹریفک سے کئی گنا زیادہ ہے اور تیز رفتار ہے اس لیے آج اس طرح کی سرگرمی کی آج سے دس سال پہلے کی نسبت کہیں زیادہ ضرورت ہے۔
اس کے علاوہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ٹریفک ایجوکیشن کو نصاب تعلیم کا لازمی حصہ بنایا جائے اور اسے ابتدائی جماعتوں ہی سے پڑھایا جائے کیونکہ چھوٹے سے چھوٹا بچہ جو اپنی چھوٹی سی سائیکل ہی کیوں نہیں چلا رہا اس کا ڈرائیونگ سے واسطہ پڑ رہا ہے لہٰذا اسے بھی روڈ سینس اور ٹریفک سینس ہونی چاہیے اور اس کا حل لازمی مضمون ہی ہو سکتا۔ مساجد اور حکومتی ٹیلی ویژن کے ذریعے بھی کم بچے پیدا کرنے کی اشتہاری مہم کے ساتھ ساتھ ٹریفک حادثات پر بھی بات ہو سکتی۔
میں خود چونکہ ایک استاد ہوں اس لیے اساتذہ سے ایک بار پھر ملتمس ہوں کہ بچوں کو ایجوکیٹ کرنے کا عمل وقتی نہیں ہے بلکہ مسلسل عمل ہے۔ محض کسی ایک حادثے سے متاثر ہو کر اس کو اپنا موضوع بنا لینا زیادہ مفید عمل نہیں بلکہ مستقل بنیادوں پر سماجی اورنفسیاتی بیماریوں کے خلاف پرچار ہو۔ آپ کا ہر لیکچر جہاں ریاضی اور فزکس کے تصورات کی گرہیں کھولنے والا ہو وہاں باتوں باتوں میں اسی لیکچر کے دوران آپ ان بیماریوں، ان کے اسباب اور تدارک پر بھی بات کریں تو تبھی آپ ایک اچھے معلم قرار دیے جا سکتے۔ اچھا معلم اپنا نصاب خود وضع کرتا ہے اور اسے معلوم ہوتا کہ موقع کی مناسبت سے اسے کیا بات کرنی ہے۔ جس دن میرے ملک کا ہر معلم اس اپروچ کا حامل ہو جائے گا اسی دن میرے ملک کی عوام ‘ہجوم’ کے بجائے ‘قوم’ کہلائے گی اور میرے ملک کا کوئی باپ اپنے جوان بیٹے کے حادثے پر نوحہ کناں نہیں ہوگا، کوئی بہن جوان بھائی کے لاشے پر بین نہیں کر رہی ہوگی۔ ان شاءاللہ
(یہ تحریر10ستمبر 2017 کو فیس بک کے لیے لکھی گئی تھی)