0

عابد غنی خان۔۔۔ ایک بھلے مانس بٹاا اور خدمت گار انسان از مجیب اللہ خان نیازی

Mujeeb Niazi

21اپریل 2009ء کو ہمارے پیارے بھائی عابد غنی خان کی میانوالی تحصیل آفس کی بلڈنگ کے قریب DDOR کے ڈرائیور کی غفلت اور لاپرواہی سے المناک موت واقع ہوئی۔

عابد غنی خان ایک صالح اور پانچ وقت کے نمازی شخص تھے۔ سنٹرل ماڈل سکول میانوالی کے ٹیچر تھے اور ضلع میانوالی کی ہر دلعزیز شخصیت اور ماہر تعلیم عبدالغنی خان ؒ کے بیٹے تھے۔ اپنے اہلِ خانہ، والدین اور بہن بھائیوں کے ساتھ حُسن ِ سلوک میں اس قدر حساس تھے کہ ہر ایک یہ سمجھتا تھا کہ عابد سے زیادہ ان کا خیال رکھنے والا کوئی دوسرا نہیں۔ ان کے والد محترم عبدالغنی خان تو ان کے بارے میں یہاں تک کہتے تھے کہ عابد میرا بیٹا نہیں بلکہ بیٹی ہے۔یہ اس بناپر کہا جاتا تھا کہ عابد بھائی گھر کے اُن کاموں میں بھی ماں بہن کا ہاتھ بٹاتے تھے جنہیں ہم لا علمی اور دین کی دوری کی وجہ سے عموما صرف ًخواتین کے کرنے کے کام کہتے ہیں۔

عابد غنی خا ن اور ہم 2002ء میں اسلامیہ یو نیورسٹی بہاولپور میں ایم اے اردو کاامتحان وینے کے سلسلے میں دو ماہ مسلسل ایک ساتھ رہے۔ وہاں پر مجھے عابد بھائی کی سلیم الطبعی اور سلیم الفطرتی کو انتہائی قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ عابد بھائی انتہائی کم سونے والے اور عبادت گزارشخص ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے ہم سفر کے بھی بے حد خدمت گار تھے۔ بہاولپور میں ہم S.E کالج کے ساتھ جماعت اسلامی کے دفترکے ایک کمرے میں رہتے تھے۔ اس کمرے میں ایک ائیر کولر لگا ہوا تھا۔گرمیوں کے دن تھے۔ اس کولر میں پانی ڈالنے کے لیے اچھے خاصے فاصلے سے روزانہ پانی کی ایک وو بالٹیاں لانا پڑتی تھیں۔ مجھے یاد نہیں کہ اُن دو مہینوں میں عابد بھائی نے کبھی بھی مجھے پانی بھر کر لانے کے لیے کہا ہو۔ جو لوگ گھر سے باہر ہاسٹل کی زندگیاں گزار چکے ہوں یا گزار رہے ہوں تو انھیں اندازا ہو گا کہ اگر دوستوں کے اندر اس قدر قربانی کا جذبہ ہو تو وہ دوست فرشتے سے کم نہیں ہوتے ورنہ میرا ایک دوست اور اس کا پھوپھی زاد بھائی راولپنڈی کے ایک ہاسٹل کی تیسری منزل پر رہتے تھے تو مارکیٹ سے کوئی چیز خریدنے سے قبل ٹاس پھینکا کرتے تھے کہ مارکیٹ کون جائے۔

بہاولپور میں ہم کھانا ہوٹل سے کھاتے تھے جبکہ چائے کا انتظا م ہم نے کمرے میں کیا ہوا تھا۔ چائے کے لیے ہم نے دو بہت بڑے اور خوب صورت کپ خریدے تھے جن میں الیکٹرک راڈ لگا کر چائے بنائی جاتی تھی اور یہ فرض بھی پورے دو ماہ عابد بھائی نے سر انجام دیا اور مجھے کبھی بھی چائے بنانے کا موقع نہ دیا۔ چائے کے وہ کپس مجھے اتنے اچھے لگے کہ گھر واپس آتے وقت انھیں دفتر جماعت اسلامی میں چھوڑ کر آنے یا عابد بھائی کو دینے کے بجائے میں خود گھر لے آیا اور گھر میں موجود شیشے کی ایک الماری میں رکھ دیئے۔ وہ کپ آج بھی میرے گھر میں موجود ہیں اور جب کبھی میری امی اُن کو دیکھتی ہیں تو وہ رو پڑتی ہیں اور کہتی ہیں کہ انسان کی زندگی تو کانچ کے ان Cups سے بھی زیادہ نازک ہے کہ یہ تو ہمارے پاس ویسے کے ویسے پڑے ہیں جبکہ اِن کو خریدنے والا میرا بیٹا آج اس دنیا میں نہیں رہا۔

محمد عابد غنی خان نیازی

بہاولپور میں گزرے دو ماہ کی یادوں اور باتوں پر تو مختار مسعود کے طویل مضمون”مینار پاکستان“ جیسا ایک مضمون لکھا جا سکتا ہے لیکن میں صرف عابد بھائی کی ایک بے بسی کی حالت کا تذکرہ کروں گا۔ میں دن کو اچھا خاصاسو لیتا تھا جبکہ عابد بھائی کو دن میں کم نیند آتی تھی۔جب میں انھیں رات کو دیر تک پڑھنے پر مجبور کرتا تھا تو وہ بہت بے بسی کے عالم میں مجھے کہتے کہ بھئی خدا کے لیے مجھے سونے دو تم تو بہت ظالم ہو۔مگر میں پھر بھی اصرار کر تا کہ عابد بھائی تھوڑی سی دیر اور پڑھ لیتے ہیں تو بہت غصے سے کہتے کہ بھئی تم رات کو جس وقت چاہو پڑھائی ختم کرکے سو سکتے ہو کیونکہ لگتا ہے تم نے تو نیند کا بٹن لگوایا ہوا ہے کہ بٹن دبا یا اور سوگئے جبکہ مجھے تو پھر مزید کا فی دیر تک نیند نہیں آتی۔ نیند کے حوالے سے اس قدر ظلم سہنے کے باوجود ایسا کبھی نہیں ہوا تھاکہ عابد بھائی کی فجر کی نماز جماعت سے چھوٹی ہو۔

ایک مرتبہ یوں ہوا کہ ہمارے ایک پرچے سے پہلے تقریباً   دس چھٹیاں تھیں ہم نے سو چا کہ گھر سے ہو آتے ہیں۔ ہم ایک دو روز کے لیے گھر آگئے کہ ایک دن موچھ میں ہم دونوں کی ملاقات اپنے بہت ہی پیارے مشترکہ دوست محمد مشتاق خان سے ہو گئی۔انھوں نے عابد بھائی سے کہا کہ عابد بھائی آپ کافی کمزور اور رنگت میں بھی زرد ہو گئے ہیں۔ اسی اثنا ء میں محمد مشتاق خان نے مجھے غور سے دیکھا تو کہا:

”اوئے!اب مجھے سمجھ آئی ہے تم اُدھر عیش کر رہے ہو اور عابد بھائی سے خدمتیں کروا رہے ہو کیونکہ تم پہلے سے موٹے لگ رہے ہو۔“ اور یقین جانیے کہ حقیقت بھی یہی تھی۔

عابد بھائی کو انسانوں تو کُجا جانوروں سے بھی محبت تھی اور وہ جانوروں کی بھی بے حد خدمت کرتے تھے اور اس محبت اور خدمت کا اعتراف ان کا جاننے والا ہر شخص کرتا تھا۔جانوروں سے محبت اور خدمت کرنے والا شخص بھلا انسانوں کی کس طرح خدمت نہ کرتا؟عابد بھائی نے اپنے والد کی بھی بے حد خدمت کی اور اللہ تعالی نے شاید اُنھیں پیدا ہی اپنے والد کی خدمت کے لیے کیاتھا کیونکہ والد کی وفات کے دوماہ بعد عابد بھائی اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔

اللہ تعالی انہیں کروٹ کروٹ سکون و راحت عطا فرمائے اور اُن کی قبر کو جنت کی وادی بنادے۔ آمین ثم آمین!

 

(اگست/ستمبر 2010ء میں قلبی تسکین اور روزنامہ ”نوائے شرر” میانوالی کے لیے لکھی جانے والی سات تحریروں میں سے ایک)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں