0

خرم غفار خان۔۔۔ صبر و شکر کا استعارہ از مجیب اللہ خان نیازی

Mujeeb Niazi

اگر موچھ کو ذہین و فطین لوگوں کی سرزمین کہا جائے تو غلط اور بے جا نہ ہوگا۔ہمارے سینکڑوں حاضر سروس اور بیسیوں ریٹائرڈ افسران جو ہمارے پیارے ملک کے ہر شعبۂ زندگی میں اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں اس دعوے کا منھ بولتا ثبوت ہیں۔ لیکن ایسے خاندان انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں جو پورے کے پورے خاندان اللہ کے خصوصی فضل کے سزا وار ہوں اور وہ ذہین ہوں۔ انھی چند خاندانوں میں سے ایک خاندان قبیلہ نور مد خیل سے تعلق رکھنے والا بھی ہے۔ جس کے تقریباً تمام نوجوان اپنی ذہانت کی بناپر اعلیٰ مناصب پر فائز ہیں۔اس خاندان میں سے ایک گھرانہ عبدالغفار خان کا ہے۔ عبدالغفار خان نے موچھ کی تاریخ میں میٹرک میں سب سے زیادہ نمبر لینے کا اعزاز حاصل کیا تو پھر ان کا ریکارڈ ان کے بیٹے خرم غفار خان نے آکر توڑا۔

خرم غفار خان نے بعد ازاں ایم ایس سی میتھس کیا۔ اور یہ نوجوان 17اور18 فروری 2010ء کی درمیانی رات اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملااور 18تاریخ کو موچھ کے اس سپوت کا جنازہ ہوا کہ جس کی زندگی کے آخری 15 سال اگرچہ اس کے خاندان اور اس کے لیے بے حد اذیت ناک تھے مگر اہلِ خِرَد اور اہلِ نظر کے لیے ان میں بہت عظیم سبق اور حوصلہ پوشیدہ ہے۔

خرم غفار خان کو جولائی 1995ء میں ریڑھ کی ہڈی میں فائر لگا تھا اور وہ ہمیشہ کے لیے معذور ہوگئے لیکن اس معذوری کے باوجود اس کے والدین،بہن بھائیوں اور قبیلے کے دیگر رشتہ داروں اور بذات خود اس کا اپنا حوصلہ اور جرأت کوہ ہمالیہ سے بھی بلند تھی۔اِن کی معذوری کے پندرہ سالوں میں کئی مرتبہ خرم بھائی کو ملنے ہم ان کے گھر گئے۔ خرم بھائی اپنے مخصوص بستر پر لیٹے ہوتے، کمپیوٹر اُن کے بیڈ کے بالکل اوپر ایک سٹینڈ پر اس طرح موونگ ٹرالی پر لگا ہوتا کہ وہ آرام سے اس کو اپنی مرضی کے ساتھ خود اپنی سہولت کے مطابق نزدیک یا دور ایڈجسٹ کر سکتے تھے اوران کی خدمت پر مامور ان کی امی اور ان کے بھائی شہر یار ہمہ تن تیار کھڑے ہوتے۔ خرم بھائی ہمارے ساتھ اپنے محلے سے لے کر عالمی سطح پر رونما ہونے والی سیاست یا کروٹ بدلتے معاشرے اور دیگر موضوعات پر اس روانی کے ساتھ بات چیت کر رہے ہوتے کہ ہمیں بعض اوقات اپنی لاعلمی پر شرمندگی ہوتی۔ان کے ساتھ الماری میں رکھی سینکڑوں کتابیں ہوتیں جن میں سے اکثر کو وہ پڑھ چکے ہوتے اور کچھ ان کے زیر مطالعہ ہوتیں اور وہ ان کتابوں کو ہمارے ساتھ ڈسکس کرتے اور بعض اوقات کسی نئی شائع ہونے والی کتاب کی ہم سے فرمائش بھی کرتے۔ الغرض کبھی ایسا نہیں ہوا کہ خرم بھائی کی زبان پر اس طویل تکلیف کے باوجود کوئی گلہ یا شکوہ آیا ہو۔

خرم بھائی ریاٖضی، فزکس انگریزی اور کیمسٹری میں اس قدر لائق تھے کہ ہمیں ان سے ایف ایس سی کے نوجوانوں کے لیے کونسلنگ اور ٹیوشن(مفت) کا وقت مانگنا پڑتا، جو انھوں نے اپنی شدید تکلیف کو بھلا کر ہمیں دیا۔اُن کے پاس جانے والے طالب علم اُن سے اس قدر متاثر ہوتے کہ ہمارا شکر یہ ادا کئے بغیر بھی نہ رہ سکتے۔مجھے خودکئی مرتبہ ان سے انگلش میں رہنمائی لینے کا موقع ملالیکن ا بھی بہت سی تشنگی باقی تھی اور میرا ارادہ تھا کہ میں ان سے مزید رہنمائی لوں گا لیکن شاید کچھ میں بھی ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں اور کچھ خرم بھائی کو بھی اپنے رب سے ملاقات کی جلدی تھی۔

خرم بھائی بلا کے ذہین اور صاحب مطالعہ ہونے کے ساتھ ساتھ انگریزی میں کچھ نہ کچھ لکھتے بھی رہتے تھے۔ ایک ملاقات میں انھوں نے بتایا کہ میں ایک انگریزی کہانی پر کام کر رہا ہوں زیادہ ترتو مکمل ہو چکی ہے بَس اُس کی نوک پلک سنوارنی ہے پھر کمپوزکروائیں گے۔میں نے انھیں کہا کہ آپ ہمیں دے دیں ہم اس کو خوددیکھ بھی لیں گے اور کمپوز بھی کروا لیں گے۔انھوں نے کہا کہ ان شا اللہ بہت جلد ایسا ہی کریں گے مگر اللہ کو یہ منظور نہ تھا۔ مجھے نہیں معلوم کہ ان کے گھر والوں کے پاس ان کی تخلیق کردہ وہ کہانی محفوظ بھی ہے یا نہیں تاہم ہمیں اُس کہانی کو پڑھنے کا اشتیاق ضرور رہے گا۔اگر اس کے گھر والوں نے ابھی تک اس سٹوری کی نوک پلک درست نہیں کی تو وہ کہانی ہمیں دے دیں تو ہمیں اس کو کمپوز کروانے کی خدمت پر اور کہانی پڑھنے پربے حد خوشی ہوگی۔

خرم بھائی ہمارے رشتہ دار تھے۔ وہ میرے خالہ زاد بھائی کے سگے پھوپھی زاد تھے لیکن ہمارے درمیان تعارف نہیں تھا۔ خرم بھائی سے ہمارا تعارف 1991ء میں ہوا جب وہ میانوالی میں رہائش پذیر تھے۔ ہمارا تعارف ہمارے مشترک دوست ،مقرب خان غلبلی کی وجہ سے ہوا جو بھائی خرم کا پڑوسی بھی تھا۔بھائی خرم اپنے اخلاص،محبت اور کردارکی وجہ سے اپنے محلہ میں چھوٹوں بڑوں سب میں قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔بھائی خرم کو نا صرف رشتوں کی پہچان تھی بلکہ ان کو نبھانا بھی خوب جانتے تھے۔میانوالی میں بھائی خرم لوگ چونکہ صرف دو بھائی ہی اپنے مکان پر رہتے تھے جبکہ اُن کے امی ابو اور بہنیں موچھ ہی میں رہتے تھے لہٰذا اُن کے مکان میں محلے کے تمام نوجوان بلا روک ٹوک بھائی خرم سے تعلیمی معاملات میں مدد اور رہنمائی لینے آتے رہتے تھے با الفاظ دیگر صرف اُن کی بیٹھک ہی نہیں بلکہ پورا گھر اہلِ محلہ کے لیے ایک سوشل سنٹر تھااور بھائی خرم بھی حددرجہ سماج پسند شخصیت کے مالک تھے۔

خرم غفار خان نیازی

مجھے یاد ہے کہ 1992ء میں میرے میٹرک کے امتحان ہو رہے تھے۔ فزکس کے پرچے سے قبل ایک چھٹی تھی تو میں اپنے محترم ٹیچر محمد اقبال خان صاحب سے کچھ موضوعات سمجھنے کی غرض سے میانوالی پہنچا۔ میانوالی پہنچتے ہی مجھے خیال آیا کہ کیوں نہ اپنے دوست مقرب (بھائی خرم کا پڑوسی) کو بھی ساتھ لے لوں جو پڑھائی میں مجھ سے نسبتاً کمزور تھا۔ میں اس کے گھر کے قریب پہنچا تو قبل اس کے کہ مقرب سے ملاقات ہوتی بھائی خرم سے آمنا سامنا ہوگیا۔مجھے دیکھتے ہی اُن کا پارہ چڑھ گیا او ر بولے تمہیں شرم نہیں آتی کہ صبح پیپر ہے اور تم ادھرمنھ اٹھا ئے پھر رہے ہو۔ ابھی میرے منھ سے نکلا ہی تھا کہ مقرب کے پاس آیا ہوں۔۔۔ کہنے لگے:  ”ہاں ہاں وہ تو ”نیوٹن“ ہے نا! تو تم کیوں نہ اس سے ملنے آؤ۔۔۔“ خیر! میری خوب ”مرمت“کرنے کے بعد مجھے گھر لے گئے اور مجھے وہ تمام موضوعات کلیئر کروائے جو میں اپنے استاد محترم جناب اقبال خان صاحب سے پڑھناچاہتا تھا۔

بھائی خرم کو فائر لگنے پر ان کے پورے محلے میں کئی روز سوگ کا عالم رہا، کوئی ایسا گھر نہ تھا جہاں اُن کی صحت کے لیے دعا اور قرآن پاک کی تلاوت کا اہتمام نہ کیا گیا ہو لیکن اُس بے نیاز ذات نے کسی ایک فرد کی بھی دعاکو قبول نہ کیا۔

بھائی خرم کو ڈاکٹرز نے ہمیشہ کے لیے چلنے پھرنے سے معذور قرار دے دیا تھا لیکن پندرہ سال گزرنے کے باوجود جب بھی میں اپنے رب سے اپنے لیے اور اپنے والدین کے لیے دعا کرتا تو ساتھ ساتھ بھائی خرم کی صحت کے لیے بھی دعا کرتا مگر شاید پروین شاکر نے کسی ایسے ہی معاملے کے لیے کہاتھا:

 

کس شخص کا دل میں نے  دکھایا تھا، کہ اب تک

وہ  میری  دعاؤں  کا   اثر کاٹ  رہا  ہے

 

یا تو ہماری دعاؤں کا اثر ہمارے برے اعمال کی وجہ سے ہمارے رب نے کاٹ ڈالا تھا یا پھر بھائی خرم کو اللہ تعالیٰ نے ”صبرِایوب“پر عمل پیرا کرنا تھا۔ بھائی خرم اور اُن کے پورے خاندان نے واقعی ”صبرِ ایوب“ کا مظاہرہ کیا۔ اللہ تعالیٰ اُنھیں اِس کا اجرِ عظیم اور خیر کثیر عطا فرمائے۔ آمین!

بھائی خرم کی تدفین کے وقت میں انھیں لحد میں اتارے جانے کا منظر دیکھ رہا تھا کہ میری آنکھوں کے سامنے اُن کے حسنِ کردار اور اُن کی عزیمت بھری زندگی کی مکمل فلم چل رہی تھی۔ اُن کا پورا خاندان اِس موقع پر موجود تھا۔نہ جانے کیوں جب میرا دوست جس نے میرا بھائی خرم سے تعارف کروایا تھا مجھ سے لپٹ کے رویا تو میرے صبر کا پیمانہ اس قدر لبریز ہوا کہ میرا دم گھٹنے لگا اور میں اپنے اس صبر و عزیمت کے کوہ ہمالیہ کو تدفین مکمل ہوئے بغیر چھوڑ کر گھر چلا آیا اور دیر تک روتا رہا۔ اللہ تعالیٰ میرے اس بھائی کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اوراُس کے خاندان اور اُس کے تمام خیر خواہوں کو آئندہ زندگی میں بھائی خرم کی معذوری اور موت جیسی آزمائشوں سے محفوظ رکھے۔

(اگست/ستمبر 2010ء میں قلبی تسکین اور روزنامہ ”نوائے شرر” میانوالی کے لیے لکھی جانے والی سات تحریروں میں سے ایک)

ضمیمہ:

کتنے دکھ اور افسوس کی بات ہے کہ بھائی خرم سے متعلق میری تمام سابقہ دعاؤں کی طرح یہ دعا بھی قبول نہ ہوئی اور اِس خاندان کا ایک اور سرمایہ، میجر سمیع اللہ خان جو بھائی خرم کا چچا زاد بھائی بھی تھا اور بہنوئی بھی تھا، اپنے خاندان کے علاوہ دھرتی موچھ کے ماتھے کا جھومر تھا، خوش اخلاق تھا، ملنسار تھا، خیر خواہی کے جذبے سے سرشار تھا، پاک فوج کا قابلِ فخر افسر تھا۔ 5اکتوبر2016ء کو ایک کار حادثے میں وفات پا گیا۔ اللہ تعالیٰ اُسے کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے۔آمین) اور اُن کو آخرت میں اپنے پسندیدہ و محبوب بندوں کا رتبہ عطاء فرمائے آمین ثم آمین!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں