0

طاہرعباس خان سوانسی۔۔۔ زندگی زندہ دلی کا نام ہے از مجیب اللہ خان نیازی

Mujeeb Niazi

14 اور 15 مئی 2010 ء کی درمیانی رات کو میانوالی سے لاہور کا سفر کیا۔ سارے سفر میں اپنے ایک جاننے والے موٹر وے پولیس کے افسر ملک محمد یعقوب سے پاکستان اور آسٹریلیا کے مابینT-20کرکٹ میچ کی بذریعہ ایس ایم ایس اپ ڈیٹس لیتارہا تاآنکہ ہم میچ ہار گئے۔ نماز فجر جامع مسجد منصورہ لاہور ادا کرنے کے بعد منصورہ کے دارا لاِخوہ میں موبائل کی گھنٹی کو آف کر کے سو گیا۔ 9 بجے کے قریب اُس وقت آنکھ کھلی جب عبدالوہاب بھائی کمرے میں کسی سے موبائل پر بات کر رہے تھے۔ انھوں نے جب بات ختم کی تو مجھے بتایاکہ طاہر عباس خان کا ایکسیڈنٹ ہواہے اور وہ فوت ہو گئے ہیں۔ میں تو جیسے سکتے میں آگیا، زبان گُنگ ہو گئی، جسم سے سکت ختم ہو گئی۔ عبدالوہاب بھائی کے الفاظ۔۔۔اور وہ فوت ہو گئے ہیں باربار ذہن سے ٹکراتے اور ہر بار دل اُن کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیتا۔ اپنے موبائل پر نظر پڑی تو درجنوں کالز اور ایس ایم ایس آئے پڑے تھے۔ ہر ایس ایم ایس طاہر بھائی کی موت کی اطلاع کی صداقت پر مہر لگا رہا تھا۔

طاہر عباس خان سے میرا تعارف مارچ 2001 ء میں اُس وقت ہوا جب وہ بی ایس سی کرنے کے بعد الصفہ ماڈل ہائی سکول سسٹم موچھ میں پڑھانے کے لیے آئے۔میں چونکہ وائس پرنسپل تھاتو مجھے آکر کہاکہ مجھے عبدالغنی خان نے بھیجا ہے اورمیں سکول میں پڑھانا چاہتا ہوں۔

بہت جلدطاہر عباس خان نے تمام سٹاف اور تمام طلبا کو اپنا گرویدہ بنالیا۔ وہ عمر میں تقریباًہم تمام ٹیچرز سے چھوٹا تھالیکن اس کے باوجود نہم دہم کے طلباکو بھی بیٹا کہہ کر مخاطب کرتا تھا۔ اس کا بیٹا کہنا سٹاف کو اس قدر پسندآیا کہ سارے سٹاف نے تمام طلبا کو بیٹا کہناشروع کر دیا۔ طاہر عباس خان اس قدرقابل ٹیچرتھے کہ انھیں سکول انتظامیہ نے جو مضمون بھی پڑھانے کوکہاتو انھوں نے نا صرف پڑھایا بلکہ پڑھانے کا حق ادا کر دیا اور شاندار نتائج دکھائے۔ سکول میں اُن کا اور میرا بلکہ اُن کا اور تمام سٹاف کا یارانہ بن گیا اور مجھ سے تو کچھ اس قدر بے تکلفی اور دوستی ہو گئی کہ ہم بعض اوقات کئی کئی دن مسلسل ایک دوسرے سے ایک منٹ کے لیے بھی جدا نہ ہوتے۔

طاہر عباس خان انتہا درجے کا دلیر،مہمان نواز اور خود دار شخص تھا۔ اس کی خودداری کا یہ عالم تھا کہ باوجود اس کے کہ ہم اپنی تنخواہ ہر ماہ کی دس تاریخ تک خرچ کر چکے ہوتے تھے   لیکن پھر بھی وہ اپنے گھر والوں سے پیسے مانگنے میں بھی اپنی توہین محسوس کرتا تھااور اس کے والد اوربھائیوں کو طاہر کی اس کمزوری کااحساس تھا۔ وہ زبردستی اسے پیسے دیتے اور بعض اوقات تو ایسابھی ہو جاتا کہ والد صاحب اس کو پیسے دینے لگتے تو وہ کہتا کہ میرے پاس پیسے ہیں اور والد صاحب کو طاہرسے کہنا پڑتا کہ چلو پھر دکھاؤ تو اُس کے پاس آئیں بائیں شائیں کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ ہوتا۔

میرے بہت سے دوست میرے والد صاحب سے زیادہ بے تکلف نہیں ہوتے ہیں کیونکہ میرے والد صاحب کافی محدود روابط رکھتے اور سنجیدہ رہتے ہیں مگر طاہر عباس خان اس قدر ملنسار اور ہنس مکھ انسان تھے کہ ہمارے والد صاحب کجا ہمارے ہالی جو کبھی کبھار طاہر عباس خان کو مل لیتے تھے، بھی بار بار طاہر کے بارے میں مجھ سے دریافت کرتے تھے کہ مجیب اللہ بیٹے کئی دن ہوئے طاہر بیٹا نہیں آیا۔

ایک مرتبہ طاہر کی کسی غلطی پر اس کے بڑے بھائی نے ہم دوستوں کے سامنے طاہر کو خوب بُرابھلا کہا اور یہ سلسلہ اتنا دراز ہوا کہ مجھے مداخلت کرکے اُس کے بڑے بھائی کی منت سماجت کرنی پڑی کہ بس بھائی اب آپ میری وجہ سے بس کر دیں تو تب طاہر کی جان بخشی ہوئی۔اُسی دن ہمیں کسی کام سے سرگودھا جانا پڑا۔ ہم راستے میں بس پر جا رہے تھے۔ طاہر ذراچپ اور پریشان تھا تو میں نے اس کی دلجوئی کے لیے کہا کہ طاہر تم بھائی کی لعن طعن کودل پر مت لو وہ تمھارے بڑے بھائی ہیں۔ طاہر نے مجھے یہ کہہ کر حیران کر دیا کہ وہ کتنا عالی ظرف ہے: ”مجیب!یہ تو میر ا بڑابھائی تھا اگر مجھے میرا چھوٹا بھائی عمران تھپڑبھی مار دے تو میں یہ سوچ کر برداشت کر لوں گا کہ خیر ہے ابھی چھوٹا ہے۔ اسے کبھی تو احساس ہوجائے گاکہ اس نے غلطی کر دی ہے۔“ میرے لیے یہ بات بہت زیادہ اہمیت رکھتی تھی کہ بڑوں کی بات کو برداشت کرنا تو ہماری روایات،ہماری اخلاقی اقدار اور ہمارے کلچر کا حصہ ہے مگر چھوٹوں کی اس قدر نا گوار باتوں کو بھی برداشت کر لینا یقینادل گردے کا کام اور اعلیٰ ظرفی کا مظہر ہے حالانکہ ہم جس خطے کے رہائشی ہیں (میری مراد میانوالی ہے) اُس کے لوگوں کا مزاج انتہائی گرم اور عدم برداشت کا حامل ہے۔

ایک مرتبہ اگست 2004ء میں ظہر کے وقت میں،محمد مشتاق خان اور طاہرعباس خان اسکندرآباد(میانوالی کا ایک علاقہ) سے واپسی پراُن کے گھر پہنچے۔ہمیں خوب بھوک لگی تھی۔ہم نے طاہر کو کہا کہ سب لوگ سو رہے ہوں گے لہٰذا تم کسی کو مت جگانا بس جو کچھ تمہیں کچن سے پکاپکایا میسر ہو وہ اٹھالاؤ۔اُسی پہ گزارہ کریں گے۔ ہمارے درمیان چونکہ بے حد بے تکلفی تھی تو طاہر نے ایسا ہی کیا۔جب وہ کچن سے کھانا لے کر آرہا تھا تو اس کے والد صاحب نے اسے دیکھ لیا اور اپنے اہل خانہ کو یہ کہہ کر جگایا کہ لگتا ہے طاہر کے ساتھ کوئی مہمان ہیں جو یہ باہر کھانا لے کر جارہا ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ کتنے مہمان ہیں اور تم لوگ اٹھو تاکہ اُن کے لیے کھانا تیار کیاجائے۔جب طاہر خان کے والد باہر آئے تو انھوں نے طاہر خان کو خوب سنائیں کہ تمہارے اندر شرم وحیا نہیں ہے۔ تمہیں احساس نہیں ہے کہ مہمان کا کیسے خیال رکھا جاتا ہے۔تم اتنے گئے گزرے ہو کہ مہمان کو گھر تو لے آئے لیکن اُن کے لیے کھانا تک تیار نہیں کر واسکتے۔ ہم نے چچا غلام عباس خان سے کہا کہ جناب ہم نے خود اسے کھانا تیار کر وانے سے منع کیا تھا۔ اس طرح طاہر خان کی توجان چھو ٹ گئی لیکن ہماری باری آگئی۔ہم تینوں چونکہ استاد تھے اس لیے ”مشرقی باپ“ کے کردار و خصوصیات کو کچھ کچھ سمجھتے تھے اور اس طرح کی صورت حال کا ہمیں ہر دوسرے دن سامنا کرنا پڑتا تھا لہٰذا کبھی محسوس نہیں کرتے تھے۔

طاہر عباس خان اپنے دوستوں کی محفل میں اپنی ایک عادت سے مجبور ہو کر گپ شپ کے دوران بار بار دوستوں سے ہاتھ ملاتے تھے۔ ایک مرتبہ ہم تین چار دوست گپ شپ کر رہے تھے۔ طاہر خان کی ساتھ والی نشست پر ہمارے انتہائی دل چسپ دوست طارق اقبال خان بیٹھے تھے۔ طاہر عباس خان نے ان سے دو بار ہاتھ ملایاتوطارق اقبال خان نے طاہر کی کرسی کے بازو پر اپنا ہاتھ رکھ کر کہا کہ طاہر خان بار بار آپ کی طرف ہاتھ بڑھانے کے بجائے میرا خیال ہے کہ اب مستقل طور پر ہاتھ اِوھر ہی پڑارہے تاکہ تمہیں بھی اطمینان رہے کہ ہاتھ قریب ہی پڑاہے اور میں بھی باربار تمہاری طرف ہاتھ بڑھانے کی زحمت سے بچ جاؤں۔ طاہر خان موٹر سائیکل چلاتے وقت بھی اپنی اِسی عادت سے اتنا مجبور تھا کہ بائیک چلاتے چلاتے وہ اپنا بایاں ہاتھ اپنے دائیں طرف بغل کے نیچے سے میری طر ف پیچھے بڑھاتا اور مڑکر بھی دیکھتا تو مجھے بار بار طنزاًاسے کہنا پڑتا کہ تم آگے دیکھو میں خود ہی تمہاری طرف ہا تھ بڑھاتا ہوں تو وہ خوب قہقہ لگاتا اور کہتا: ”اچھا! گڈ۔“

طاہر عباس خان سوانسی

مئی 2005 ء میں طاہرعبا س خان نے اسلام آباد پولیس کو بطور اے ایس آئی جوائن کیا اور ٹریننگ کے اختتام پر اپنے بیچ کو ٹاپ کیا۔ اسلام آباد سے جب کبھی گھرپر آتا تو رات کافی دیر ہو چکی ہوتی لہٰذ اس کو اپنے گھر،سوانس جانے کے لیے کوئی سواری نہ ملتی تو کالاباغ روڈ کے خواجہ آباد اڈاپر اترتا جہاں پر ساتھ ہی میر ا گھر تھا۔میں اس کو بائیک پر گھر لے جاتا اور کئی مرتبہ ایسا ہوا کہ سردیوں کی یخ بستہ راتوں میں رات کے 12بجے اسلام آباد سے آتا تو میری کو شش ہوتی کہ میں اس کو کالاباغ روڈ سے اُٹھاؤں کہ وہ میرا بھائی تھا اوراُس کی خاطر قربانی دے کر دل کو عجیب سا اطمینان اور سکون حاصل ہوتا۔

نومبر 2005 ء میں طاہر کی شادی بہت دُھوم دھام سے ہمارے علاقہ موچھ میں ہوئی تھی۔ اُس خاندان کے ساتھ جماعتِ اسلامی کی نسبت سے میرے بہت اچھے مراسم تھے۔ طاہر خان کی وہاں شادی کے بعد طاہر خان کے اہلِ خانہ کا میرے گھر آنا جانا لگا رہتا تھا۔ طاہر خان کو اللہ تعالیٰ نے ایک بیٹے سے نواز رکھا تھا جس کا نام شہروز خان ہے اور اسے امی ابو پیار سے شہری کہتے تھے۔ایک دو بار ایسا ہوا کہ طاہر خان کے اہلِ خانہ کو کسی امتحان کے پرچے کے لیے میانوالی جانا پڑا تو وہ شہروز خان کو کچھ گھنٹوں کے لیے ہمارے گھر میری امی کے پاس چھوڑ کر جاتے۔ میری والدہ کے ساتھ شہری کافی مانوس ہو گیا ا ور خوش اور مطمئن رہتا۔ صرف اُسی وقت کبھی کبھار مسئلہ درپیش ہوتاجب محمد مصعب عبداللہ خان، کی رگِ رقابت پھڑک اُٹھتی اور وہ موقع پاتے ہی کوئی واردات کر جاتا۔ محمد مصعب عبد اللہ میرا حقیقی بھتیجا ہے اور شہری سے عمر میں گیارہ ماہ بڑا ہے۔محمد مصعب عبد اللہ خان کے والدین نے بعد میں اپنے بیٹے کا نام تبدیل کر کے محمد ارسل عبد اللہ خان رکھ لیا۔

میں نے ایک جگہ پڑھا تھا کہ ایک صاحب رات باہر بسر کرنے کے بعد صبح گھر پہنچے تو بیوی نے پو چھا کہ رات کہاں تھے تو اُس نے جواب دیا کہ رات دیر ہو گئی تو کسی دوست کے ہاں رک گیا۔ بیوی نے اُس کے دس بہترین دوستوں کو کال کی اور پوچھا کہ میرے خاوند رات آپ کے پاس تھے تو اُن میں سے آٹھ نے جواب دیا کہ جی بھابی جان بھائی صاحب رات کو ہمارے پاس ہی تھے، جبکہ وو دوستوں نے تو کمال ہی کر دیا اور کہاکہ جی بھابی جان ہمارے پاس ہی تھے اور اب بھی ادھر ہی سو رہے ہیں آپ کہیں تو جگا دوں؟ ہمارے ساتھ بھی کچھ کچھ ایسا ہی معاملہ تھا۔ پولیس میں جاب کے دوران ایک مرتبہ طاہر خان معطل ہو گئے لیکن اُس نے اپنے اہل خانہ کو نہیں بتایا۔ اُن دنوں اُس کا معمول تھا کہ کچھ دن گھر گزارنے کے بعد گھر یہ کہہ کر نکلتا کہ میں اسلام آباد جا رہا ہوں لیکن میرے پاس آکر ٹھہر جاتا۔ جب اُسے اپنی بیگم کا فون آتا تو کہتا کہ میں اسلام آباد ہوں۔کچھ عرصہ بعد جب بھابھی کو دال میں کچھ کالا محسوس ہواتو وہ طاہر کے بعد مجھے بھی فون کر دیتیں۔ مجھے بھی جھوٹ بولنا پڑتا کہ بھابھی طاہر بھائی صبح میرے پاس آئے تھے اور کہہ رہے تھے کہ اسلام آباد جارہاہوں۔ کیوں؟ خیریت؟ کوئی کام ہے تو حکم کریں۔ کیا اُن سے رابطہ نہیں ہو رہا تو میں کوشش کروں ان کے نمبر پر وغیرہ وغیرہ۔ حالانکہ اُس وقت طاہر خان میرے پاس بیٹھا ہوتا تھا اور جیسے ہی کال ختم ہوتی، ہم دونوں فاتحانہ قہقہہ لگاتے اور طاہر اپنی عادت سے مجبور ہو کر مجھے ہاتھ ملاتا۔

طاہر مشکل سے مشکل حالات میں بھی اپنے اعزہ واقربا اور دوستوں کی مدد کرنے سے انکارنہیں کرتا تھا چاہے اُس کے لیے اسے خود کتنی مہنگی قیمت ہی کیوں نہ چکانی پڑتی تھی۔ اسی وجہ سے وہ دوستوں میں ا س قدر مقبول اور پسندیدہ تھاکہ اقبال کا یہ مصرع بار بار یاد آجاتا ہے:

 

ع                      ہو حلقۂ یاراں تو بریشم کی طرح نرم

 

واقعی طاہر عباس اپنے دوستوں کے لیے ریشم کی طرح نرم تھے۔ ہمارے درمیان کئی مرتبہ ناراضیاں بھی ہوئیں اور ہر مرتبہ میرایہ سلیم الفطرت بھائی ناراضی ختم کرنے میں مجھ سے بازی لے جاتا۔ ایکسیڈنٹ سے ٹھیک ایک ہفتہ قبل 8 مئی 2010 ء کی شام کو وہ میرے بھائی سے ملنے میرے گھر ڈیرہ نجیب اللہ پر آیا۔ اُس وقت بھی ہمارے درمیان ناراضی تھی۔ ہماری اتفاقاً ملاقات اور صلح ہو جاتی ہے۔ میرے وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ ٹھیک سات دن بعد یعنی اگلے ہفتے (Satureday) کی شام (15 مئی 2010 ء) میرایہ بھائی شہرِخموشاں کے اپنے گھر میں لمبی تان کر سو رہا ہوگا۔

اللہ تعالی میرے اس بھائی کے درجات بلند فرمائے اور اسے جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین۔

 

(اگست/ستمبر 2010ء میں قلبی تسکین اور روزنامہ ”نوائے شرر” میانوالی کے لیے لکھی جانے والی سات تحریروں میں سے ایک)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

طاہرعباس خان سوانسی۔۔۔ زندگی زندہ دلی کا نام ہے از مجیب اللہ خان نیازی“ ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں